وصی اللہ مدنی

___________

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی اہمیت و فضیلت کے پیش نظر ہم مسلمانوں کو کمربستہ ہوکر رب ذوالمنن کی خوب عبادت کرنی چاہیے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: "جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور کمربستہ ہوکر خوب عبادت کرتے۔” (متفق عليه)

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ عشرہ اعتکاف میں گزارتے تھے۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کا آخری عشرہ اعتکاف میں گزارتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت کردیا۔ پھر آپ کے بعد آپ کی بیویاں اعتکاف بیٹھنے لگیں۔” (متفق عليه)

ان روایتوں سے معلوم ہوا کہ آخری عشرہ کا اعتکاف سنت ہے اور مردوں کی طرح عورتوں کے لیے بھی مشروع اور جائز ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ میں آپ کے لیے (مسجد میں) ایک خیمہ لگا دیتی اور آپ صبح کی نماز پڑھ کے اس میں چلے جاتے تھے۔ پھر حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا سے خیمہ کھڑا کرنے کی (اپنے اعتکاف کے لیے ) اجازت چاہی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی اور انہوں نے ایک خیمہ کھڑا کر لیا، جب زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی (اپنے لیے) ایک خیمہ کھڑا کر لیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی خیمے دیکھے تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ آپ کو ان کی حقیقت کی خبر دی گئی۔ آپ نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو یہ خیمے ثواب کی نیت سے کھڑے کیے گئے ہیں۔ پس آپ نے اس مہینہ (رمضان) کا اعتکاف چھوڑ دیا اور شوال کے عشرہ کا اعتکاف کیا۔ (صحيح بخاري: رقم ٢٠٣٣)

امام بخاری نے اس حدیث سے عورتوں کے لیے اعتکاف کی مشروعیت کو ثابت کیا ہے، نیز انہوں نے ثابت کیا ہے کہ عورتوں کے لیے اعتکاف کا اہتمام بھی مسجد میں ہونا چاہیے، کیوں کہ اگر گھر میں اعتکاف جائز ہوتا تو آپ انہیں اپنے اپنے گھروں میں اعتکاف کرنے کا حکم دے دیتے، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس رمضان میں اعتکاف کا پروگرام ہی ختم کر دیا حتی کہ شوال میں اس کی قضا دی اور دس دنوں کا اعتکاف کیا۔

اعتکاف کے لیے مسجد ضروری ہے، چاہے مرد ہو یا عورت جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے: "…وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ…” تم مسجدوں میں اعتکاف میں ہو۔.”…فِي الْمَسَاجِدِ…”سے معلوم ہوا کہ اعتکاف مسجد میں ہوتا ہے۔

ازواج مطہرات مسجد میں اعتکاف کرتی تھیں۔(صحيح بخاری)

عورتوں کے لیے مسجد میں اعتکاف کرنے کی مندرجہ ذیل شرائط ہیں:

1۔ عورتوں کے لیے مردوں سے علاحدہ انتظام ہو تاکہ مردوں کے ساتھ اختلاط کا قطعاً کوئی امکان باقی نہ رہے، کیوں کہ اختلاط مرد و زن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے پسند نہیں کیا۔

جب تک مسجد میں معقول، محفوظ اور مردوں سے بالکل الگ انتظام نہ ہو، عورتوں کو مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور عورتوں کو بھی اس پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایک نفلی عبادت ہی ہے، جب تک پوری طرح تحفظ نہ ہو، اس نفلی عبادت سے گریز بہتر ہے۔ فقہ کا اصول ہے:[ دَرْءُ المَفَاسِدِ يُقَدَّمُ عَلَى جَلْبِ الْمَصَالحِ]۔”مصالح کے حصول کے مقابلے میں مفاسد سے بچنا اور ان کو ٹالنا زیادہ ضروری ہے۔

2۔ خاوند یا سرپرست سے اعتکاف بیٹھنے کی اجازت حاصل کی جائے بصورت دیگر اعتکاف صحیح نہیں ہوگا بلکہ بلا اجازت اعتکاف سے ثواب کے بجائے گناہ کا اندیشہ ہے۔

3۔ بحالت اعتکاف مخصوص ایام کے

 آجانے کا بھی اندیشہ نہ ہو۔

ہر عورت کو اپنی عادت کا علم ہوتا ہے، اسے اس بات کا بطور خاص خیال رکھنا ہوگا۔

4۔ کسی قسم کے فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ ہو۔

بصورت دیگر وہ اپنے گھر میں عبادت کرنے کا اہتمام کرے لیکن گھر میں عبادت کرنا شرعی اعتکاف نہیں۔

5۔ خورد ونوش اور دیگر لوازماتِ زندگی کا باقاعدہ معقول انتظام ہو تاکہ باہر جانے کی ضرورت نہ پڑے۔

مرد حضرات تو بوقت ضرورت مسجد سے باہر جا سکتے ہیں، لیکن عورتوں کے لیے ایسی اجازت فتنے کا باعث ہے۔

6۔ جو عورتیں اعتکاف کریں انہیں تفریح طبع کے سامان سے اجتناب کرنا ہوگا، اسی طرح اگر اپنے ہمراہ موبائل رکھیں تو بوقت ضرورت ہی استعمال کریں۔ہمہ وقت دنیاوی امور کو سلجھانے کی خاطر لوگوں سے رابطہ کرنا اعتکاف کے منافی ہے۔

عورت کے اعتکاف کے بارے میں جمہور علمائے کرام کا کہنا ہے مرد کی طرح عورت کا اعتکاف بھی مسجد کے علاوہ کسی جگہ صحیح نہیں، جس کی دلیل بھی مندرجہ ذیل آیت ہے:

{اور عورتوں سے اس وقت مباشرت نہ کرو جب تم مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہو۔} (البقرۃ: 187)۔

اور اس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسجد میں اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں اجازت دے دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی وہ مسجد میں ہی اعتکاف کیا کرتی تھیں۔

اور اگر عورت کا اپنے گھر میں اعتکاف کرنا جائز ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی راہنمائی فرماتے، کیوں کہ مسجد میں جانے سے اس کے اپنے گھر میں پردہ زيادہ ہے، اس کے باوجود آپ نے مسجد میں ہی اعتکاف کی اجازت دی۔

بعض علمائے کرام کا کہنا ہے: عورت گھر میں اپنی نماز والی جگہ پر اعتکاف کرسکتی ہے، لیکن جمہور علمائے کرام نے ایسا کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا ہے :

اس کے گھر میں نماز والی جگہ کو مسجد نہيں کہا جاسکتا صرف مجازی طور پر اسے مسجد کا نام دیا جاسکتا ہے اور حقیقتاً وہ مسجد کا نام حاصل نہیں کرسکتی، اس لیے اس کے احکام بھی مسجد والے نہیں ہوں گے، اسی لیے وہاں یعنی گھر میں نماز والی جگہ پر جنبی اور حائضہ عورت داخل ہوسکتی ہے۔

[دیکھیں:المغنى لإبن قدامة المقدسي : 464/4]

امام نووی رحمہ اللہ اپنی کتاب "المجموع” میں کہتے ہيں :

عورت اور مرد کا مسجد کے بغیر اعتکاف صحیح نہیں، نہ تو عورت کا گھر کی مسجد میں اور نہ ہی مرد کا اپنی گھر میں نماز والی جگہ پر اعتکاف کرنا صحیح ہے، یعنی اس جگہ جو گھر کے ایک کونے میں نماز کے لیے تیار کی گئی ہو اسے گھر کی مسجد کہا جاتا ہے۔ [دیکھیں المجموع 6 / 505]

شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ سے مندرجہ ذيل سوال پوچھا گيا:

اگر عورت اعتکاف کرنا چاہے تو وہ کس جگہ اعتکاف کرے گی؟ تو شيخ رحمہ اللہ کا جواب تھا:

"جب کوئی عورت اعتکاف کرنا چاہے تو اگر اس میں کوئی شرعی محذور نہ پایا جائے تو وہ مسجد میں اعتکاف کرے گی اور اگر اس میں کوئی شرعی محذور ہو تو پھر عورت اعتکاف نہیں کرے گی۔” اھـ [دیکھیں: مجموع الفتاوی ابن ‏عثيمین رحمہ اللہ :264/20]

اور الموسوعة الفقهية میں ہے کہ:

عورت کے اعتکاف کی جگہ میں اختلاف ہے، جمہور علمائے کرام اسے مرد کی طرح قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسجد کے علاوہ کہیں بھی عورت کا اعتکاف صحیح نہیں، تو اس بنا پر عورت کا اپنے گھر میں اعتکاف کرنا صحیح نہیں، اس کی دلیل مندرجہ ذيل حدیث میں ہے :

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے جب عورت کا اپنے گھر کی مسجد میں اعتکاف کے بارے میں سوال کیا گيا تو وہ کہنے لگے:

گھر میں عورت کا اعتکاف کرنا بدعت ہے اور اللہ تعالی کے ہاں مبغوض ترین اعمال بدعات ہیں، اس لیے نماز باجماعت والی مسجد کے علاوہ کہیں بھی اعتکاف صحیح نہیں، اس لیے کہ گھر میں نماز والی جگہ نہ تو حقیقتاً مسجد ہے اور نہ ہی حکماً اس کا بدلنا اور اس میں جنبی شخص کا سونا بھی جائز ہے اور اگر یہ جائز ہوتا تو سب سے پہلے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن اس پر عمل پیرا ہوتیں، اس کے جواز کے لیے اگرچہ وہ ایک بار ہی عمل کرتیں۔ ھـ [دیکھیں: الموسوعة الفقهية : 5 /212] واللہ اعلم۔ (ماخوذ: الاسلام سوال و جواب)

” فِي الْمَسَاجِدِ” اس لفظ سے

 یہ بھی معلوم ہوا کہ اعتکاف ہر مسجد میں ہو سکتا ہے۔ وہ روایت کہ ’’تین مسجدوں کے سوا اعتکاف نہیں”منکر ہے۔ صحیح بخاری میں امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے غیر ثابت ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے لیے باب قائم کیا ہے: ”اَلْاِعْتِكَافُ فِي الْمَسَاجِدِ كُلِّهَا“ ’’تمام مسجدوں میں اعتکاف (کے جائز) ہونے کا بیان۔‘‘

خلاصہ کلام:

کسی صحیح حدیث سے عورتوں کا اپنے گھروں میں اعتکاف کرنا ثابت نہیں ہے بلکہ عورتوں کا اعتکاف بھی صرف مسجد میں ہی درست ہے، کیوں کہ قرآنی حکم "وأنتم عاكفون فى المساجد” عام ہے جو مرد عورت ہر ایک کو شامل ہے، نیز ازواج مطہرات نے بھی مسجد میں اعتکاف کیا ہے۔

والله اعلم بالصواب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے