نازیہ خاتون بنت جمیل احمد

متعلمہ:جامعہ الصالحات الاسلامیہ
شیخ سرا،سیتاپور شہر

رمضان المبارک کی آخری عشرے کی طاق راتیں اور خاص طور سے یہ ستائسویں شب جس میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے شب قدر ہونے کا امکان ہے ان کو فضول مشاغل میں گزارنے سے حتی الامکان پرہیز کرنا چاہیے اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ان راتوں میں بندہ اپنے اللہ سے رابطہ قائم کرے کہ بس بندہ ہو اور اس کا اللہ ہو جس قدر ہو سکے اللہ کی عبادت کی جائے ،کیونکہ یہ عمل کی رات ہے۔

رمضان المبارک میں قران سے خصوصی تعلق قائم کریں :
اس مہینے کو قران کریم سے خاص مناسبت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں حضرت جبرائیل امین کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے اسی مناسبت کی ایک جھلک مسلمانوں میں بھی نظر آئی ہے کہ عام دنوں کے مقابلے میں اس مہینے میں تلاوت کا معمول کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے ۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم ہے کہ جس مجلس میں ایک مرتبہ قرآن کریم ختم کیا جائے اسی مجلس میں دوسرا قرآن نے کریم شروع کر دیا جائے۔

مسلمان پر قران کریم کے حقوق:
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک مسلمان پر قرآن کریم کے تین حقوق رکھے ہیں: قران کریم کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کی تلاوت کی جائے اور اسی طرح تلاوت کرنی چاہیے جس طرح حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو سکھائی ،قران کو تجوید کے مطابق پڑھنا حروف کی صحیح ادائیگی بہت ضروری ہے بعض اوقات حروف کی درست ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے نماز ہی نہیں ہوتی اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا سیکھے ۔قرآن کریم کی تلاوت کا روزانہ معمول ہر مسلمان کو بنانا چاہیے خواہ تھوڑی سی ہی کیوں نہ ہو۔

قران کریم کا دوسرا حق :
جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد فرمایا ہے یہ کہ ہم اس کتاب کو سمجھیں اور اس سے ہدایت حاصل کریں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ہمارے لیے سرچشمہ ہدایت بنایا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے ’’ هدى للمتقين ‘‘یہ کتاب متقی لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔

قران مجید کا تیسرا حق :
یہ ہے کہ اس میں جو ہدایت اللہ نے ہمیں دی ہے ان کو اپنی زندگی میں نافذ کریں۔ہر مسلمان کے ذمہ لازم ہیں کہ قرآن مجید کے ان تین حقوق کو پوری طرح ادا کرنے کی کوشش کریں۔

رمضان کا آخری جمعہ:
عام طور پر رمضان کے آخری جمعہ کو ’’جمعۃ الوداع‘‘ کہا جاتا ہے یعنی رمضان کا رخصتی والا جمعہ ہے اس دن کو عید کی طرح کا کوئی درجہ دیا جاتا ہے اورایک خاص خطبہ بھی پڑھاجاتا ہے یہ باتیں بھی اس انداز میں درست نہیں ہیں۔ رسول اللہﷺ نے کبھی ’’جمعۃ الوداع‘‘ کا لفظ استعمال نہیں فرمایا اور نہ ہی اس دن کے لیے کوئی خاص عبادت مقرر فرمائی اور حضرات صحابہ کرامؓ نے بھی اسی پر عمل کیا۔

رمضان المبارک میں اللہ کا شکر:
رمضان میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے رمضان کا مہینہ عطا فرمایا اور روزہ رکھنے اور تراویح کی توفیق بھی عطا فرمائی یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے ورنہ بہت سے گھرانے ایسے بھی ہیں جن میں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب رمضان آیا اور کب گزر گیا، غفلت کے ساتھ پورا رمضان گزر جاتا ہے اس لیے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں عبادت کی توفیق عطا فرمائی خواہ عبادت کیسی ہی کیوں نہ ہو لیکن سجدے میں پیشانی تو اسی رب کی بارگاہ میں جا کر ٹکتی ہے سجدہ تو اسی ایک اللہ کے لیے ہوتا ہے۔

قبول ہو کہ نہ ہو پھر بھی ایک نعمت ہے
وہ سجدہ جس کو تیرے آستاں سے نسبت ہے

رمضان المبارک میں اللہ تعالی سے استغفار:
رمضان میں اللہ سے خوب استغفار کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ بندہ جب بھی اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے استغفار کی بدولت اس کے گناہوں کو معاف کر کے اس کو اپنی بارگاہ میں قبولیت کا مقام عطا فرما دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بڑے پیار سے فرما رہے ہیں کہ اے میرےبندوں توبہ کر لو اللہ تعالیٰ نے توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا رکھا ہے جب تک کی نزع کی کیفیت طاری نہیں ہو جاتی۔

رمضان کی ساعتوں کی قدر کریں:
رمضان کا آخری وقت چل رہا ہے اس وقت کی قدر کرنی چاہیے اس لیے جس کو اس مہینے میں عبادت اور دیگر اطاعت میں لگنے کی توفیق نہیں ہوئی اس کے لیے ابھی بھی دروازہ کھلا ہوا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک لمحے میں بھی کسی کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔ اس لیے جس کو موقع نہیں ملا ہے وہ اس وقت کو غنیمت جان کر اس موقع سے فائدہ اٹھا لیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دروازہ کھلا ہوا ہے -جس کا ذکر اللہ تعالی نے قران مجید میں فرمایا :يا ايها الذين امنوا توبوا الى الله توبه نصوحا۔ایمان والو اللہ کے حضور خالص توبہ کر لو۔

عید کی تیاری اپنی وسعت کے مطابق کرو:
عید کے دن اچھا لباس پہننا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اچھا لباس پہننے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی وسعت اور استطاعت کے مطابق جو بھی لباس میسر ہو اسے پہن لیا جائے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ قرض لے کر یا رشوت یا حرام آمدنی کے ذریعے اپنا، اپنی بیوی بچوں کا لباس تیار کیا جائے کیونکہ حلال اگرچہ تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو اس میں برکت اور نور ہوتا ہے۔ لیکن حرام خواہ کتنا ہی زیادہ ہو اس میں بے برکتی ہی رہتی ہے اور اس سے نحوست ہی آتی ہے -خلاصہ یہ ہے اللہ تعالی کی بارگاہ میں شکر و استغفار کاسابقہ زندگی سے توبہ کریں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو اپنی مرضی والی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے- آمین۔

رمضان کے بعد بھی اللہ قریب ہے:
یہاں تک رمضان المبارک کے روزوں کی تکمیل کا ذکر تھا اس کے بعد جو آیت اللہ پاک نے ذکر فرمائی ہے وہ بہت ہی معنی خیز ہے رمضان روزوں کی گنتی اور عید کے ذکر کے فوراً بعد فرماتے ہیں- واذا سالك عبادي عني فاني قريب اجيب دعوه الداع اذا دعان (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں قریب ہوں جب کوئی بھی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی بات سنتا ہوں اس کی دعا قبول کرتا ہوں- بظاہر اس ترتیب میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ مت سمجھنا کہ رمضان گیا تو اللہ میاں بھی گئے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بھی گیا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی گئی اللہ تعالیٰ کا قرب بھی گیا اس سے دعائیں مانگنے کا جذبہ بھی گیا بلکہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ میں تو تمہارے قریب ہوں چاہے رمضان ہو یا غیر رمضان تمہاری دعائیں سنتا ہوں – لہذا بندوں کو چاہیے کہ میری بات قبول کریں یعنی رمضان کے بعد بھی میرے احکام کی اطاعت کا سلسلہ جاری رکھیں اور مجھ پر ایمان رکھیں کہ اللہ تعالی ہمارا خالق و مالک ہے اور وہ ایک ہے اور اس کے تمام احکام واجب الاطاعت ہیں جب یہ مانیں گے تو وہ سیدھے راستے پر آ جائیں گے۔
اللہ تعالی ہم سب کو اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت سے ہم سب کو ان ہدایت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے- آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے