انوارالحق قاسمی
(ترجمان جمعیت علماء روتہٹ نیپال)
یہ ایک حقیقت ہے کہ ‘وقت’ چاہے،جیسا بھی گزر ہی جاتاہے؛کیوں کہ ‘وقت ‘کی خاصیت ہی گزرنا ہے۔ اس لیے کسی کو خوش وقتی پر نازاں اور مغرور نہیں ہونا چاہیے،اسی طرح کسی کو سخت وقتی پر مایوس اور پریشاں نہیں ہونا چاہیے ،کیوں کہ ہر سختی و پریشانی کے بعد آسانی کا آنا یقینی سا ہے۔
لاک ڈاؤن سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو،جو یقینا خوش حال اور رئیس و امیر تھے۔ایسا بالکل نہیں لگتا تھا کہ ان پر کبھی غریبی کا سایہ منڈلائے گا،مگر آج ہم انھیں غریبوں کی فہرست میں شامل دیکھ رہےہیں اور وہ بھی غریبوں کی طرح دانے دانے کے محتاج نظر آرہے ہیں۔ اس لیے میں خوش حال حضرات سے کہتاہوں کہ آپ کبھی بھی غرور اور گھمنڈ نہ کریں ،بل کہ آپ ہمہ وقت اللہ کی تعریف اور حمد بیان کریں اور اللہ کا خوب شکر ادا کریں ،کہ اس نے آپ کو خوش وقتی اور کثرت اموال سے نوازا ہے؛کیوں کہ جو خوش حالی عطا کرسکتا ہے، وہ اسے چھین بھی سکتا ہے۔
