اسماعیل قمر بستوی
خیریت لوگ غریبی میں تو کب پوچھتے ہیں
مال جب پاس میں آتاہے توسب پوچھتے ہیں
جب بلندی پہ پہچتا ہے کوئی بھی انساں
آج کا دور دکھاوے کا ہے تب پوچھتے ہیں
گاؤں کے لوگ بدل لیتے تھے رستہ اپنا
میں دبئ آکے کماتا ہوں تو اب پوچھتے ہیں
خاندانی ہیں جو دولت نہیں دیکھا کرتے
ساتھ سیرت کے وہ انساں کا نسب پوچھتے ہیں
جوڑتے ہی نہیں اشراف بروں سے رشتہ
عمدہ جو لوگ ہیں کردار و ادب پوچھتے ہیں
ظلم سہتا ہوں میں روزآنہ چمن میں اپنے
کیا کہوں ان سے جو جینےکا سبب پوچھتے ہیں
اب امیروں میں قمر وقعت عالم نہ رہی
جب پڑھانا ہو جنازہ مجھے جب پوچھتے ہیں

