غزل

اپریل 10, 2025

اسماعیل قمر بستوی

خیریت  لوگ غریبی میں تو کب پوچھتے ہیں
مال جب پاس میں آتاہے توسب پوچھتے ہیں
جب بلندی پہ پہچتا  ہے کوئی بھی انساں
آج کا دور دکھاوے کا ہے تب پوچھتے ہیں
گاؤں  کے لوگ  بدل لیتے تھے رستہ اپنا
میں دبئ آکے کماتا ہوں تو اب پوچھتے ہیں
خاندانی  ہیں جو دولت نہیں دیکھا کرتے
ساتھ  سیرت کے وہ انساں کا نسب پوچھتے ہیں
جوڑتے ہی نہیں اشراف بروں سے رشتہ
عمدہ   جو لوگ ہیں کردار و ادب پوچھتے  ہیں
ظلم سہتا ہوں میں روزآنہ چمن میں  اپنے
کیا کہوں  ان سے جو جینےکا سبب  پوچھتے  ہیں
اب امیروں میں قمر وقعت عالم نہ رہی
جب پڑھانا  ہو جنازہ مجھے جب پوچھتے  ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے