تقررات میں شفافیت، مِعیار اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کلیان کرناٹکا ہوراٹا سمیتی کا مطالبہ
لکشمن دستی، بسواراج دیشمکھ، آر کے ہوڑگی، ڈاکٹر ماجد داغی، کمنور اور گلشٹی کی پریس کانفرنس
کلبرگی 8 / اپریل: ریاست کرناٹک میں چھ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے تقررات کی کارروائی پر کلیان کرناٹکا ہوراٹا سمیتی نے حکومتِ کرناٹکا سے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور تدریسی و غیر تدریسی عملے کی تقرری میں شفافیت اور معیار کے مطابق تقرری کو یقینی بنانے کے لیے اہل امیدواروں کے تقرر پر زور دیتے ہوئے پتریکا بھون گلبرگہ میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے مطالبہ کرتے ہوئے گلبرگہ یونیورسٹی کی بگڑتی صورتِ حال پر حکومت کو متوجہ کیا ہے اور اسی طرح کلیان کرناٹکا کے عہدیداران نے چھ یونیورسٹیوں کے مذکورہ وائس چانسلرز کے تقررات میں کلیان کرناٹک کے کم از کم دو وائس چانسلرز کے انتخاب کی اپیل کی ہے ۔
وائس چانسلرز کی تقرری میں میرٹ کی بنیاد پر سماجی انصاف کو مدِنظر رکھتے ہوئے وائس چانسلر کے عہدے پر اہل امیدواروں کی تقرری کو ضروری قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گلبرگہ یونیورسٹی کا ساڑھے چار دہائی قبل آغاز ہوا تھا اور اس کی اپنی ایک شاندار تاریخ ہے۔ تاہم ان دنوں گلبرگہ یونیورسٹی اپنے وقار اور وجود کو برقرار رکھنے میں پیچھے رہ گئی ہے جس کی وجہ یونیورسٹی کے تدریسی و غیر تدریسی تقرریوں میں غفلت اور دیگر وجوہات شامل ہیں۔ مسٹر لکشمن دستی انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ گلبرگہ یونیورسٹی کے 432 غیر تدریسی منظور اسٹاف میں 164 پر اسٹاف مقرر ہے جبکہ 268 جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور اسی طرح 638 منظورہ تدریسی اسٹاف میں 199 پر اسٹاپ خدمات انجام دے رہا ہے جبکہ 439 عہدے مخلوعہ ہیں. انہوں نے کہا کہ اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے قومی اور اے آئی سی سی کے سینئر قائدین ڈاکٹر ایم ملکارجن کھرگے نے جئے دیوا ہاسپٹل کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب میں گلبرگہ یونیورسٹی کے مخلوعہ عہدوں کو مقررہ وقت پَر ، پُر نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
پروفیسر آر کے ہوڑگی نے یونیورسٹی کے اراضی کی غیر تعلیمی سرگرمیوں کے لئے مختلف اداروں کی جانب سے مطالبہ پر بھی اعتراض جتاتے ہوئے تشویش ظاہر کی.
کلیان کرناٹک ہورٹا سمیتی نے حکومت اور ریاست کرناٹک کے معزز گورنر سے خصوصی درخواست کی ہے کہ وہ گلبرگہ یونیورسٹی اور رائچور یونیورسٹی کے علاوہ دیگر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے عہدوں کے لئے قابل شخصیات کا انتخاب کریں۔ گلبرگہ یونیورسٹی کے وقار اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے سمت قدم بڑھانے کے طور پر وائس چانسلر کی تقرری میں قابلیت کے پیمانے سے ہرگز سمجھوتا نہ کریں جس سے یونیورسٹی کی آدھی مشکلات ختم ہونگی اور یونیورسٹی کے وقار میں اضافہ بھی ہوگا۔ اس کارروائی کو پورا کرنے کے لئے، یو جی سی کے پیمانے کے مطابق تدریسی اور غیر تدریسی عہدوں کی تقرریاں کی جاتی ہیں۔ قواعد کے معیار کے مطابق بہت کارروائی کی جانی چاہیے.
کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی خاص طور پر وزراء سے اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ وہ وائس چانسلرز کے تقررات کے لئے تشکیل دی گئی کمیٹی، چیف منسٹر اور معزز گورنر سے مودّبانہ اپیل کرتی ہے کہ وہ وائس چانسلرز کے عہدوں پر قابل شخصیات کی تقرری کو یقینی بنائیں اور وائس چانسلرز کی تقرری میں کسی سفارش اور دباؤ کا سامنا نہ کریں۔
کئی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز تدریسی و غیر تدریسی تقرری میں اپنے قوانین بنا کر کروڑوں روپے کی لوٹ مار تغلب و تصرف کرتے ہیں جس سے یونیورسٹیوں کے تعلیمی معیار کو شدید نقصان پہنچتا ہے،اس طرح وہ یو جی سی کے تقرری قواعد اور اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
اس حقیقت کے پیشِ سمیتی حکومت اور معزز گورنر پر زور دیتی ہے کہ وہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری میں شفافیت کے معیار کے مطابق، میرٹ اور سماجی انصاف کے مطابق وائس چانسلرز کے عہدوں پر اہل افراد کی تقرری عمل میں لائیں ۔ کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی نے گلبرگہ یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے یہ ضروری سمجھتی ہے کہ کلیان کرناٹک سے تعلق رکھنے والے اہل امیدواروں کو ترجیح دی جائے.
گلبرگہ یونیورسٹی کے وجود کی برقراری اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے احتیاط ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہوں ۔
لہٰذا نئی قائم کردہ رائچور اور بیدر یونیورسٹیوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں حکومت کا کردار بہت اہم ہے۔ کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی حکومت اور گورنر سے درخواست کرتی ہے کہ وہ وائس چانسلروں کی تقرری میں کلیان کرناٹک ریجن کے اہل اور قابل امیدواروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کلیان کرناٹک ریجن کے ساتھ انصاف فرمائیں. ریاست کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی تقرری میں آرٹیکل 371 (جے) کے تحت مستحق امیدواروں کا تقرر بھی انصاف کا متقاضی ہے ۔
اس موقع پروفیسر، مسٹر بسواراج دیشمکھ، آر کے ہڑگی پروفیسر بسواراج کمنور ڈاکٹر بسوراج گلشٹی، منیش جاجو وغیرہ موجود تھے.

