(ڈاکٹربی آر امبیڈکر کی یومِ پیدائش پر خصوصی مضمون)

سید مقصود، صدر راشٹریہ مسلم مورچہ، نئی دہلی 

بت شکن کالفظ سنتے ہی محمود غزنوی کانام دماغ میں گھوم جاتاہے۔ محمود غزنوی نے پتھروں کے بت مسمار کئے ،اور سونے چاندے کے بتوں کوتوڑا ہوگا۔ لیکن باباصاحب امبیڈکر نے برہمنوں کے تراشے ہوئے نظریات کے بت ، سماجی روایات کے بت ، قانون کے بت، برہمنوں کی عظمت کے بت،اور دیگرتراشے گئے ہزارہابتوں کوانھوں نے مسمار کرڈالا ۔
ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر  نے ایک کتاب لکھی ’’ہندودھرم کی پہیلیاں ‘‘ (Riddles of Hinduism) ، اور ایک دوسری کتاب لکھی Riddles of Ramayan Krishna(رام اور کرشن کی پہیلیاں ) ، اس کے علاوہ ایک بہت بڑا بت ، منوسمرتی کی شکل میں برہمنوں نے تراشا تھا۔اس کوپوجااور دوسروں سے اس کی پوجاکروائی تھی۔ اس(منوسمرتی) کتاب کو باباصاحب امبیڈکر نے 25؍ڈسمبر 1927؁ء کو مہاڈ ستیہ گرہ کے موقع پر آ گ لگادی ۔ اسی لئے ہم باباصاحب امبیڈکر کو محمودغزنوی سے بڑا بت شکن کہہ سکتے ہیں ۔
منوسمرتی کیاہے ؟:۔ برہمن دھرم کی وہ کتاب ، جو اس دھرم کاقانون ہے ۔اسی نے ورن ویوستھا(ذات پات کانظام)بنایا ۔ انسانوں کوتقسیم کیا۔ آبادی کے 85%حصہ کو شودر قرار دے کر اُن کے ساتھ غیرانسانی سلوک کرنے کاحکم دیااور ایسے ایسے قانون بنائے ، ان قوانین کو دیکھ کر آج بھی انسانیت خجالت سے اپنامنہ گریبان میں چھپالینے پر مجبور ہے۔ اور وہ سر شرمسار ہے۔
ورن ویوستھا کیاہے؟:۔ سماج کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصہ کاکام ، حیثیت ، ذمہ داری ، سب کچھ پید اہونے سے پہلے ہی طئے کردیتی ہے۔ کام کی تقسیم اس طرح کی گئی۔ برہمن علمی کام کریں ۔ شتریہ حکومت چلائیں اور جنگ کریں ۔ ویش تجارت کریں ۔ شودروں کاکام صرف اور صرف ان تین ورن والوں کی خدمت بجالاناٹہرا۔ بغیر کسی امید کے بے غرض ہوکر انجام دے۔ کیوں کہ شودر وں میں پید اہونا ہی ایک سزا ہے۔ شاعر کہتا ہے   ؎
زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
اور کیاجرم ہے پتہ ہی نہیں
یہ پچھلے جنموں میں کئے گئے گناہ کا نتیجہ ہے۔ اس کاکفار ہ خدمت ہی کے ذریعہ پورا کیاجاسکتاہے۔ شودروں کے لئے کچھ احکامات اس طرح دئے گئے ہیں۔ اس کی کچھ مثالیں منوسمرتی سے پیش کی جارہی ہیں۔
a) اس کانام کس طرح رکھاجائے ؟:۔ برہمن کے نام میں لفظ منگل یعنی خوشی ، شتریہ کے نام میں لفظ بل یعنی طاقت ، اور ویشیہ کے نام میں لفظ دھن یعنی دولت ، شودر کے نام میں صرف نندایعنی تحقیر شامل ہونا چاہیے۔ (باب نمبر 2، شلوک نمبر 31، منوسمرتی )
b) شودروں کالباس کیسا ہوناچاہیے؟:۔ ان کو مُردوں کے اُتارے ہوئے کپڑے زیب تن کرنے ہوں گے۔ ٹوٹے پھوٹے برتن میں کھانا کھانا ہوگا۔ ان کے زیورات لوہے کے ہوں گے۔ (منوسمرتی ، باب نمبر 10، شلوک نمبر 52)
c) شودروں کی دولت :۔ اِن کے مال ودولت کتے اور گدھے ہوں گے۔ (منوسمرتی ، باب نمبر 10، شلوک نمبر 51)
شودردولت حاصل کرکے برہمن کو ستاتاہے۔ (منوسمرتی ، باب نمبر10، شلوک نمبر 29) اس کے لئے اس کی دولت کو چھینے کاحق برہمن کو ہے۔
d) خدمت کے بدلے میں کیادیاجائے؟:۔ خدمت میں لگے ہوئے شودر کو جھوٹا کھانا ، پہننے کے لئے پرانے کپڑے ، اور بچھانے کے لئے پھٹاپرانا بستر دیاجائے۔ (منوسمرتی ، باب نمبر 10، شلوک نمبر125)
e) چنڈالوں کے رہنے کی جگہ :۔ چنڈال گاؤں کے باہر رہے گا۔ انھیں کوئی برتن نہیں دیناچاہیے۔  (منوسمرتی ، باب نمبر 10، شلوک نمبر 51)
منوسمرتی سے یہ چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ جس کا کرپا رام شرما چکرانوی نے اردو میں ترجمہ کیاہے۔ ویدک دھرم پریس دہلی سے شائع کیاگیا۔ اس کو نیٹ پر بھی دیکھاجاسکتاہے ۔
بابا صاحب امبیڈکر، کہتے ہیں بھارت میں جتنے مسائل آج ہیں، اور کل آئیں گے ، وہ سب اِسی منوسمرتی سے پید اہوں گے۔ کیوں کہ یہ کتاب مساوات، بھائی چارہ، اور انصاف کی دشمن ہے۔ شودروں اور اتی شودروں پر جو بھی ظلم وستم ، ناانصافی ، انسانی حقوق سے محرومی، ہو رہی ہے ایسا کرنے کاجوازپیش کرتی ہے۔ کوئی قانون قوتِ نافذہ کے بغیر لاگو نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے حکومت کے ذریعہ ، ظالمانہ طریقے سے لاگو کیاگیا۔ تاریخ میں اس کی بہت ساری مثالیں ہم کوملتی ہیں۔ اس کتاب کا زمانہ تصنیف قبل مسیح 200سے بعد مسیح 200 کے درمیان پی وی کانے مانتے ہیں۔ پی وی کانے وہ اسکالر ہیں جن کو 1963؁ء میں بھارت رتن سے نوازاگیا۔ اس کام پر انھوں نے قدیم قانون کے 6500 صفحات کی اپنی تھیسس پیش کی تھی۔ جب کہ بھارت کا آئین لکھنے والے امبیڈکر کو 1990؁ء میں بھارت رتن دیاگیا۔ برہمن وادی ، دستورہند سے زیادہ منوسمرتی کو اتنی اہمیت دیتے ہیں، اس کااندازہ ہوتاہے۔ دوسری مثال منوسمرتی کے خالق منومہاراج کی مورتی راجستھان ہائی کورٹ کے احاطہ میں 13؍مارچ 1989؁ء کو راجستھان ججس اسوسی ایشن نے Lionsکلب کی مدد سے نصب کی ۔اس کامطلب منوکا بت ابھی بھی ان کے دل میں بسا ہواہے۔ مختلف موقع پر اس کااظہار ہوتارہتاہے۔
منودھرم کی تعلیمات ایسا سماجی استحصالی نظام قائم کرتی ہے ،جومنودھرم کی پید اوار ہے۔ یہ استحصالی نظام سماج کی 15%عوام جن میں برہمن، شتریہ ، اور ویش ورن سے تعلق رکھنے والی ذاتیں آتی ہیں۔اور اس استحصالی نظام سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ 85% عوام اس استحصالی نظام کاشکار ہوتی ہیں۔ اُن کے حصہ میں نقصان ہی نقصان آتاہے۔ ہزاروں سال سے یہ نقصان اٹھارہے ہیں۔
بابا صاحب امبیڈکر اور ان کا عظیم کام :۔ کسی شخصیت کی عظمت کو ناپنے کے لئے ان کاکام ، اور دور کو نظر میں رکھ کر جانچنا چاہیے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کی عظمت ، ان کی ہمت اور شعور کااندازہ 1918؁ء سے ہی ظاہر ہونے لگاتھا۔ جب کہ ان کی عمر صرف 27سال تھی۔ ساوتھ بوروکمیشن بھارت کو آیا اور قانون ساز کونسلیں بنانے کااعلان کیا۔ ا س وقت ڈاکٹر امبیڈکر کا ردعمل بڑا دانشورانہ تھا۔ انھوں نے کہا، پچھلے 2500سال میں بھارت کے لئے یہ سب سے بڑا انقلابی قدم ہے۔ جو انگریزوں نے اٹھایاہے۔ بھارت کے لئے ایک نئی روشنی ہے۔ اس لئے کہ قانون بنانے ، قانون نافذکرنے کاحق صرف اور صرف برہمنوں کو تھا۔ جومنوسمرتی کی شکل میںان پر لاگوکیاگیاتھا۔ منوسمرتی برہمنیکل پینل کورٹ (برہمن ازم کا تعزیراتی قانون) کی جگہ منوسمرتی نہیں ، برہمن نہیں، بلکہ یہ حق ان  سب عام عوام کے ہاتھ میں دیاجارہاتھا۔ ایک معنی میں برہمنوں سے قانون بنانے اور نافذ کرنے کاحق چھین کر شودروں ، اتی شودروں کو بھی دیاجانے والاتھا۔ ساوتھ بوروکمیشن کی سفارشات کے نتیجے میں 1919؁ء میں فرسٹ انڈیا ایکٹ اور 1935؁ء میں سکنڈ انڈیا ایکٹ بنا۔ انگریزوں نے جنوری 1927؁ء کو ایک شودر جس کو گاوں کے باہر رہنے کاحکم تھا، اب وہ برہمنوں کے دوش بدوش بیٹھ کر قانون سازی کے کام انجام دے گا۔ انگریزوں نے جنوری 1927کو باباصاحب امبیڈکر کو MLCنامزد کیا۔ آخر کار بھارت کے نئے دستور بنانے کی ذمہ دار ی بھی باباصاحب پر آن پڑی۔
انھوں نے دستور کے پہلے صفحہ پر تمہید، پری ایمبل میں ہی منوکی موت کاپیغام درج کردیا۔ انصاف ، آزادی ، مساوات ، بھائی چارہ ، دستور کی بنیاد قرار پائی۔ جب کہ ’’انصاف کے نقطہء نظر سے تجزیہ کیاجائے تو صاف نظر آئے گاکہ ہندو فلسفہ  برہمن ازم (ہندودھرم) مساوات کا دشمن ، آزادی سے نفر ت کرنے والا اور بھائی چارگی کامخالف ہے ‘‘ (تقریریں وتحریریں ، جلد سوم، ذیلی عنوان ’’برہمن ازم‘‘صفحہ 66، شائع کردہ :حکومت مہاراشٹر)
ڈاکٹر امبیڈکر کی عظمت کا راز اسی بات میںپوشیدہ ہے ، ہزاروں سال سے چلنے والے نظام کو ختم کرنے کاجرأت مندانہ اقدام انھوں نے اٹھایا۔ صدیوں سے چلنے والے قانون کاخاتمہ کیا۔ مسلمانوں کے طویل دورحکمرانی میں اس میں ایک تبدیلی آئی۔ شودروں کے لئے اسلام کی بنیادی تعلیمات کی وجہ سے کچھ مراعات ملے۔ اس نظام میں کچھ تبدیلی ضرور آئی مگروہ ختم نہیں ہوا۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے اس منوکے قانون کو جمہوری قانون بناکر اس کو ختم کردیا۔
اس بات کو کانشی رام نے اس طرح کہا’’باباصاحب امبیڈکر نے منوکوقانوناًختم کردیا۔مگر آج بھی منوزندہ ہے۔ کلچر کی شکل میں ، منوزندہ ہے مذہب کی شکل میں، منوزندہ ہے عقیدہ کی شکل میں، باباصاحب کے اس مشن کو ہم آنے والے دِنوں میں پور اکرنے کاعزم لے کرچل رہے ہیں‘‘
منوکو ماننے والوں کی ایک خاص بات ہے کہ وہ اپناطریقہ وقت اور حالات کے حساب سے فوری تبدیل کردیتے ہیں۔ مگر مقصد تبدیل نہیں کرتے ۔ آج کے دور میں اپنے مقصد کے حصول کے لئے جن شودروں کو ہزاروں ذاتوں میں تقسیم کرکے راج کیاتھا ، آج ان کو ہندوبناکر، راج کررہے ہیں۔ باباصاحب امبیڈکر نے جس بت کو توڑ اتھا، آج وہ پھر سے حیاتِ نو لے کر آرہاہے۔ اس وقت امبیڈکر وادیوں، انسانیت کادرس دینے والے مذاہب ، مساوات کا نظریہ رکھنے والوں کے لئے ایک چیلنج ہے۔ خاص طورپر ایک ایسے وقت میں امت وسط کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔
جو بھی مسائل ہم اقلیتوں اور ایس سی ؍ایس ٹی اور اوبی سی کو درپیش ہیں ، اس استحصالی نظام کو ختم کرنے کی جدوجہد کے بغیر مسائل کاحل ممکن نہیں ہے۔ اس بڑے مقصد کو انجام دینے کے لئے بڑی قربانی ، بڑا دِل ، اور وسیع سوچ کے ساتھ سب کو ساتھ لے کر چلنے ہی میں ہماری اور ان کی بقا ہے۔ اس عظیم بت شکن امبیڈکر کی جینتی کے موقع پر یہی پیغام ہے ، اس ظالمانہ نظام کو تبدیل کرو، اس کے لئے جدوجہد کرو۔ ورنہ خطرہ عیاں ہے اور سروں پر کھڑا ہے۔ مسلمانوں کی ایک کمزور ی کاذکر علامہ اقبال نے اس طرح کیا ہے   ؎
مسلماں ہے توحید میں گرم جوش
مگر دل ابھی تک ہے زنہار پوش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے