حالات و ظروف کی ظاہری نہ ہمواری کے باوجود عربی درسگاہوں میں ازدہام اسلامی کی بقا کی ضمانت
مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی
_____________________
دین اسلام کا مقدر ہے کہ وہ اور اس پر ایمان رکھنے والے ہمیشہ موجود رہیں گے اور وہی غالب رہیں گے۔
یہ دین اور اس کی کامل شریعت عالمگیر ہے اور تا قیامت اہل ایمان و توحید کا وجود باقی رہے گا۔ قیامت تب قائم ہوگی جب روئے زمین پر کوئی موحد نہ رہ جائے گا اور اللہ کا نام نہیں لیا جائے گا۔
اس دین میں اسی لیے علم کا طلب کرنا ایک فریضہ ہے جو بندہ مسلم پر واجب ہے اور اسی طرح مومنوں میں ایک طائفہ کا وجود بھی ضروری ہے جو علمی رحلات کا اہتمام کر کے دین تفقہ حاصل کرے تاکہ وہ اپنی قوم کے پاس جا کر ان لوگوں کو اللہ تعالی کی گرفت اور اس کے عقاب سے اگاہ کرے تاکہ وہ ذنوب و معاصی سے بچیں اور خوب چوکنا رہیں۔
الحمدللہ!طلب علم اور حصول تعلیم شرعی کا یہ سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا
ملک میں حالات مسلم جیسے بھی ہیں اہل کفر و شرک کی چالیں اور ان کی شبانہ روز شازشیں جو بھی ہیں جس کے اسباب وجوہ بہت ہیں مگر حالات و ظروف کی ابتری کے با وصف اسلامی مدارس میں تعلیم میں دین کا سلسلہ جاری ہے اور بڑی تعداد میں مسلمان اپنے نونہالوں کو دینی درسگاہوں میں برائے تعلیم روانہ کر رہے ہیں۔
یہ امر موجب مسرت ہے اور دینی وشرعی لحاظ سے باعث صد افتخار و ناز ہے کہ طلبہ جوق درجوق بعد عید الفطر مدارس کا رخ کر رہے ہیں اور زیور تعلیم سے اراستہ اور پیراستہ ہونے کا جذبہ صادق لے کے آرہے ہیں۔
یہ امانت توحید سینوں میں محفوظ ہوگی اور دین باقی رہے گا۔ اللہ تعالی طلبہ کو علم و عمل کی دولت سے نوازے۔ آمین!

