بیدر۔ 16؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): سپریم کورٹ نے 14؍اپریل 2025 کو ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے مہاراشٹرا کے پاتور میونسپل کونسل کے سائن بورڈ پر اردوزبان کے استعمال کو نہ صرف درست قرار دیا بلکہ اسے بھارتی تہذیب کی عظیم علامت کے طورپر سراہا۔ جناب جسٹس سدھانشو دھولیااور جسٹس کے ونود چندان پر مشتمل بنچ کا اردوزبان کے متعلق دیاگیافیصلہ ہندوستانی عدالتی تاریخ میں ایک سنہری باب کی طرح درج ہوگا۔ یہ چندباتیں جناب شیخ مسیح الدین نائب صدر بیدر ضلع کانگریس مینارٹی ڈپارٹمنٹ نے کہیں ۔
انھوں نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے مزید بتایا کہ ’’عدالت نے واضح کیا کہ اردو زبان کوئی غیرملکی زبان نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہندوستانی سرزمین میں پیوست ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ زبان کابنیادی مقصد رابطہ ہے نہ کے لوگوں کوتقسیم کرنا۔ اردو زبان کاعدالتوں پر بھی گہرا اثر ہے۔ جیسے دیوانی قانون یافوجداری ، عدالت ، حلف نامہ ، پیشی جیسے الفاظ اردو کے اثر کی واضح مثالیں ہیں۔ بہرحال یہ فیصلہ ہندوستان کی وحدت میں کثرت کے جذبے کی جیت ہے۔ جو ہمیں یاددِلاتاہے کہ ہماری طاقت ہمارے تنوع میں ہے۔ ہمارے اختلافات میں نہیں۔ میں شیخ مسیح الدین سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کاخیرمقدم کرتاہوں۔ اہل ِ اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کے افراد سے بھی امید ہے کہ وہ عدالت کے اس فیصلے کاخیرمقدم کریں گے اور سراہیں گے۔

