سنت کبیر نگر (پریس ریلیز): نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب سنت ہے۔ آپ نے فرمایانکاح کو آسان بناؤ تاکہ زنا ختم ہو جائے۔ نئی روشنی میگزین کے ایڈیٹر سلمان کبیرنگری نے کہا آج منگنی، سلامی، جہیز اور بارات جیسی رسومات نے نکاح کو مشکل بنا دیا ہے۔ ہزاروں بیٹیاں اس کے باعث شادی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور بعض اوقات غلط راستے اختیار کر لیتی ہیں۔اگر نکاح کو سنتِ نبوی کے مطابق کیا جائے تو زندگی میں سکون، برکت اور عافیت آئے گی۔ لیکن اگر شادیوں کو ناچ گانے اور دکھاوے کا ذریعہ بنایا گیا تو اس کے تباہ کن اثرات ہوں گے۔
ارسلان انٹر نیشنل اسکول کمھریا سگرا بستی کے اسسٹنٹ منیجرمحمد الیاس خان نے اپیل کی ہے کہ جتماعی نکاح کی طرف آئیںپیسہ بچوں کی تعلیم اور نیک کاموں میں خرچ کریںیتیم، غریب، بے سہارا بچیوں کا سہارا بنیں، ان کی شادیوں کا انتظام کریں اور اپنی دنیا و آخرت سنواریں، اسلام سادگی کا دین ہے، نکاح کو آسان بنائیں اور سنت رسول کو زندہ کریں نکاح کو آسان بنانا، فضول رسومات سے بچنا اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق شادی کا اہتمام کرنا ایک بہت بڑی نیکی اور سماجی ضرورت ہے۔ اسلام میں نکاح کو ایک سادہ، پاکیزہ اور بابرکت عمل قرار دیا گیا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں منگنی، مہنگے جہیز، بڑی باراتیں اور دکھاوے نے اس عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔ نتیجتاً، بہت سی بچیاں شادی کے انتظار میں زندگی گزار دیتی ہیں یا بعض اوقات غلط راستے پر مجبور ہو جاتی ہیں، جیسا کہ مضمون میں اشارہ دیا گیا ہے۔
عبدالصمد قاسمی بستوی ایڈیٹر بصارت اسلامک فیکٹس حیدرآباد نے کہاکہ اگر نکاح کو سنت کے مطابق ادا کیا جائے تو زندگی میں سکون، برکت اور عافیت آتی ہے۔ اس کے برعکس اگر شادیوں میں ناچ گانے، فضول خرچیاں اور غیر شرعی رسم و رواج کو شامل کیا جائے تو اس کا انجام دنیا و آخرت دونوں میں نقصان دہ ہو سکتا ہے۔اگر ہم اپنی دولت کا کچھ حصہ یتیموں، غریبوں اور بے سہارا افراد کی شادیاں کرانے میں صرف کریں تو یہ نہ صرف انسانیت کی خدمت ہے بلکہ صدقۂ جاریہ بھی ہے آپ کا نقطہ نظر بہت درست اور قابل تعریف ہے۔ اسلام نے نکاح کو ایک سادہ اور مبارک سنت قرار دیا ہے، جس کا مقصد پاکیزہ تعلقات کو فروغ دینا اور معاشرے میں اخلاقی استحکام پیدا کرنا ہے۔
معروف ادیب سماجی کارکن ارشد کبیری سلفی نے کہا کہ آج کل کے معاشرے میں غیر ضروری رسومات، مہنگے جہیز، بھاری خرچوں والی شادیاں اور دکھاوے کی ثقافت نے اس مقدس رشتے کو مشکل بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے نوجوان، خاص طور پر غریب خاندانوں کے بچے اور بچیاں، شادی سے قاصر رہ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں سنت کے مطابق سادہ اور بابرکت نکاح کی توفیق دے اور معاشرے سے بے جا رسومات کو ختم کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ آمین۔

