مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
عبدالقیوم خیر بن منیر الدین (1975ء) بن پیغمبر بخش ویشالی ضلع کی مردم خیز بستی حسن پور وسطی، مہوا،ویشالی میں 1913ء میں پیدا ہوئے، والد کاشتکار تھے، داد ا طبیب حاذق، جن کی حکمت کا علاقہ معترف تھا۔خاندان پر مذہبی رنگ غالب تھا، اس لیے گھریلو تعلیم کے بعد خیر صاحب کو ویشالی ضلع کی انتہائی قدیم اورعظیم درسگاہ مدرسہ احمدیہ ا بابکر پور میں داخل کردیاگیا، مدرسہ احمدیہ میں ان دنوں مولانا محمد نعیم الدین صاحب کا دور دورہ تھا، ان کے علم اورتعلیم وتربیت کا شہرہ گھر گھر تھا، طلباء دور دراز سے جوق در جوق مدرسہ آکر اپنی علمی پیاس بجھاتے تھے، خیر صاحب داخلہ امتحان کے بعد جس درجہ کے لائق سمجھے گئے، اسی میں اتفاق سے مولانا شمس الحق صاحب سابق شیخ الحدیث جامعہ رحمانی مونگیر بھی تھے، دونوں میں گاڑھی چھنتی تھی،لیکن خیر صاحب وہاں دوسال سے زیادہ نہیں رہ سکے، والد صا حب ان کو فارسی پڑھوانا چاہتے تھے، لیکن خیر صاحب کوفارسی سے نفرت تھی، اس زمانہ میں جب فارسی کا چلن اتنا کم نہیں ہواتھا، وہ کہا کرتے تھے، کہ ایسی زبان پڑھ کرکیا ہوگا،جس میں مذکر و مؤنث کی تمیز نہیں ہے، اور دونوں کے لیے ایک ہی صیغہ استعمال ہوتاہے،چنانچہ انھوں نے تعلیم چھوڑ دی اور فکر معاش کے لیے کلکتہ کا سفر کیا، وہاں اسٹیشنری کی ایک دکان میں ملازمت مل گئی، کچھ تجربہ ہوا تواپنی دکان لے کر بیٹھ گئے، البتہ دوستی اور ہم نشینی ہمیشہ علماء کی رہی،مولانا یوسف امرتسری (جن کا خوشبودار تیل کا کاروبا رتھا) سے کسب فیض کیا۔1946ء کے فساد میں ریلیف کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، آزادی کی لڑائی میں جیل بھی گئے، ذہناً مسلم لیگی تھے،اس لیے تقسیم ملک کے بعد پاکستان کا رخ کیا۔ لیکن والدین جوہندوستان میں تھے، ان کی جدائی برداشت نہیں کرسکے، اورخیر صاحب ان کے حکم کو ٹھکرانہ سکے،اس لیے1951ءمیں پھر ہندوستان واپس آگئے اورکلکتہ کو اپنا مستقر بنایا، یہاں ان کی ملاقات جرم محمد آبادی، نواب دہلوی، اورمنی لال جواں سے ہوئی۔خیر ان حضرات کی شاعری سے متاثر ہوئے، اور حسب سہولت تینوں سے اپنے کلام پراصلاح لینا شروع کیا،گاہے گاہے ناطق دہلوی کی بھی خدمت میں حاضری ہوتی اور وہ بھی ان کے کلام پراصلاح دیدیا کرتے، دھیرے دھیرے ان کی آمد ورفت مشاعروں میں ہونے لگی، اورپھر ایساہواکہ چھٹی دہائی میں کلکتہ کا کوئی بھی مشاعرہ ان کی شرکت کے بغیر ادھورا سمجھا جانے لگا، چنانچہ مشاعروں میں کثرت سے شرکت ہونے لگی، اشعار پڑھتے اوراستاذ شعراء سے خوب خوب داد پاتے اور فکر وفن کی مشاطگی میں لگے رہتے۔
قوی ضعیف ہوئے تو خیر صاحب اپنے وطن لوٹ آئے،وہ ایک طویل عرصہ سے اپنے گھرحسن پور وسطی میں مقیم تھے، لڑکے اورلڑکیوں کی شادی وغیرہ سے فراغت کے بعد عبادت وریاضت کے علاوہ انھیں کوئی اور کام نہ تھا، کبھی کوئی باذوق مل گیاتو آپ بیتی سناکر دل بہلالیتے، بے ذوق مل جاتا تو کترا کرنکلنے میں عافیت سمجھتے۔
 اللہ نے انھیں بہت کچھ دیاتھا، لیکن وہ اپنی فقیرانہ زندگی میں مست تھے، وہ خودداری کے اس مقام ومرتبہ پر فائز تھے جہاں ”خدا بندے سے خود پوچھے بتاتیری رضاکیاہے“ کا مصداق متعین ہوتاہے، اپنی ضروریات زندگی کے لیے اپنے بچوں سے بھی نہیں کہتے، ہومیوپیتھ کی کچھ دوائیں ان کے پاس ہوتیں، اور وہ درخواست کنندگان کونوازتے رہتے،مجھ سے ٹوٹ کر محبت کرتے اور بہت سارے گھریلو مسائل میں بھی میری رائے لیناضروری سمجھتے، مہمان نوازی ان کی فطرت تھی، اس لیے ہر ملاقات میں چائے ناشتہ کا ضرور اہتمام کرتے، میں انھیں ان کے منتشر کلام کی طرف متوجہ کرتا تو فرماتے: میں نظرثانی کرلوں،پھرتمہارے حوالہ کردوں گا، تم اس کو مرتب کرکے شائع کردینا؛ لیکن اس نظرثانی میں کئی سال گزر گئے، کبھی بیماری کا عارضہ ہوتا اور کبھی دوسری مشغولیات کا، رمضان کے قبل آخری ملاقات میں، ان کو وعدہ یاد دلایاتو کہنے لگے وعد ے کی دوقسم ہوتی ہے،ایک وعدہ کیا جاتاہے اورایک وعدہ لیاجاتاہے، میں لیے ہوئے وعدے کی تکمیل بہت ضروری نہیں سمجھتا، البتہ میں نظرثانی ضرور کروں گا، کون جانتاتھا کہ وہ میری خواہش کی تکمیل کیے بغیر ہی راہی ملک عدم ہوجائیں گے،ان کی وصیت کے مطابق ان کے لائق فرزند جناب عبدالتواب وعلقمہ صاحبان کوسارا کلام مجھے دے دیناچاہیے؛ لیکن میں وہ نظر کہاں سے لاؤں گا کہ خیر کے کلام سے خیر کو چھانٹ لوں،خیر صاحب تو اپنے سب کام نمٹانے کے عادی تھے، یہ کام کیسے مجھ پر چھوڑ کر چلے گئے۔
 25/فروری 1998ءکی شام سہ پہر انھوں نے کتاب زندگی کا آخری ورق الٹ دیا، اوراس شان سے الٹا کہ دشمن بھی عش عش کراٹھے۔ نہ ایک وقت کی نماز چھوٹی اورنہ تلاوت، امید ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے سرخرو ہوں گے، اورجنت کی کھڑکیاں کھول دی گئی ہوں گی۔
خیر اپنی زندگی کی کہانی سنانے کواب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن انھوں نے اپنے حالات وکیفیات لوگوں تک پہنچانے کے لیے شعر وادب کی شکل میں ایک بڑا ذخیرہ چھوڑا ہے، وہ ایک مذہبی آدمی تھے، اس لیے ان کی شاعری میں گل وبلبل کی داستان اوررومانیت کا عنصر غالب نہیں ہے، ا ن کی شاعری جذبوں اورتجربوں کی شاعری ہے، جس میں ایک خاص قسم کا طنز عصری آگہی اور تجربات سے بھرپور مواد پڑھنے کو ملتا ہے، اس طرح ان کی شاعری یکسانیت اور سطحیت سے بچ جاتی ہے، وہ مذہبی امور پر اپنی نگاہ مرکوز رکھتے تھے،لیکن اس میں سطحیت نہیں آنے دیتے تھے، چند اشعار دیکھتے چلئے:
حسرت نہیں رہی، کوئی ارماں نہیں رہا
پہلو میں جب سے قلب پریشاں نہیں رہا
بیگانگی کی رکھتا ہے تہمت جو باغباں
کب میں شریک حال گلستاں نہیں رہا
یہ انتہائے جامہ دری کی ہے داستاں
کچھ امتیاز جیب و گریباں نہیں رہا
کب آئے ہیں وہ حال غم زار دیکھنے
جب خیر دوگھڑی کابھی مہماں نہیں رہا
آخری شعر تو ان کے حال کے اعتبار سے بالکل الہامی معلوم ہوتاہے، واقعہ یہی ہے کہ ان کے اپنے بھی اس وقت پہنچے جب خیر آخری سانس لے چکے تھے،اورکہنا چاہئے کہ دوگھڑی کے مہمان کی حیثیت بھی ان کی نہیں رہ گئی تھی،خیر نے زندگی بھر اپنوں اور غیروں سے جو چوٹ کھائی تھی، اور اس نے جس اندازمیں انھیں بے کل کیاتھا، اس کا ذکر وہ کچھ یوں کرتے ہیں:
کوئی چوٹ کھاکے دیکھے، کوئی غم اٹھاکے دیکھے
میرے دل کی بے کلی کومیرے دل میں آکے دیکھے
نہ گرے جو اس پر بجلی تو ہمیں کچھ اور کہنا
کوئی آسماں کے نیچے ذرا سراٹھا کے دیکھے
ہیں یہ زہر کے نوالے، ہیں یہ ناگ ڈسنے والے
کوئی حسین بتوں کو ذرا منہ لگاکے دیکھے
خیر جنوں پر حجابات خرد کے شاکی تھے، اوراسے حقیقت تک پہنچنے میں رکاوٹ؛ بلکہ حجاب اکبر سمجھتے تھے۔ کہتے ہیں:
جنوں کی روشنی پر ہیں حجابات خرد چھائے
اندھیرے میں بھلا کیونکہ کسی کو کوئی پہچانے
خیر اقبال کے بڑے مداح تھے، اقبال پر ان کاایک قطعہ لمبی لمبی نظموں پر بھاری ہے۔ کہتے ہیں:
وقت بہتا ہوا پانی ہے گزر جاتاہے
وہی رہ جاتا ہے انسان جو کرجاتا ہے
اک مدت ہوئی اقبال کوگزرے اے خیر
آج بھی ہر جگہ اقبال نظرآتاہے
 خیر کہہ گئے:
رہے گا کون اس دنیا میں اے خیر
ابھی تو میں اکیلا جارہا ہوں
خیرتواکیلے چلے گئے۔ لیکن وہ اپنے ساتھ ایک تاریخ، ایک تہذیب اوروضع داری لے گئے، خیر کا غم صرف ایک آدمی کا غم نہیں، وہ ایک انسان کا غم ہے، ایک شاعر کا غم ہے، ادب کے اس قدیم دبستان کے اٹھنے کاغم ہے جو اب تیزی سے اٹھتا جارہا ہے اتنے سارے غم لے کر کیا لکھوں،اور کیا سناؤں۔
ان کے انتقال کے بعد ان کے صاحب زادہ علقمہ نے سارا کلام ڈاکٹر ممتاز احمد خان صاحب کے حوالہ کردیا تھا۔وہ بھی دنیا چھوڑ چلے۔اس طرح میں چاہ کر بھی حسب وعدہ خیر صاحب کے کلام کو کتابی شکل مرتب کرنے سے محروم رہا۔ڈاکٹر صاحب کے انتقال کے بعد اب مسودہ بھی ملنا ممکن نہیں معلوم ہوتا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے