????????????????????????????????????

عوام میں صبر و تحمل کا جذبہ بزرگانِ دین اور سنتوں کی تعلیمات کا مرہون 

حضرت علی الحسینی، بسواراج دیشمکھ، لکشمن دستی  و دیگر کا خطاب 

 کلبرگی 19 / اپریل. (ڈاكٹر ماجد داغی):  کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی کے زیرِ اہتمام  آرٹیکل 371 (جے) کے نفاذ کے اولین دَہا تقاریب کے انعقاد سے متعلق ایس بی یونیورسٹی میں منعقدہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت حافظ سید شاہ علی الحسینی سجادہ نشین بارگاہِ حضرت خواجہ بندہ نواز، چانسلر کے بی این یونیورسٹی و صدرنشین کرناٹک وقف بورڈ بنگلور نے فرمایا کہ کلیان کرناٹکا کی سر زمین صوفی سَنتوں کی سرزمین ہے اس علاقے کے عوام میں صبر و تحمل کا جذبہ بزرگانِ دین اور سنتوں کی تعلیمات کا لائقِ تقلید خوش گوار نتیجہ ہے اور اس طرح یہاں کا معاشرہ بھی قومی یکجہتی، بھائی چارہ اور اخوت کا لاجواب ترجمان ہے، یہاں کی تہذیب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں جس سے ایک خوشگوار ماحول قائم ہے. انہوں نے کلیان کرناٹکا ہوراٹا سمیتی کے عہدیداران و معاونین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 371 (جے) سے متعلق اس تحریک، جد وجہد اور حکومتوں سے کئے جا رہے مطالبات میں ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں سب مل جل کر اس علاقہ کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے آگے بڑھیں گے. سجادہ نشین بارگاہِ حضرت خواجہ بندہ نواز نے آرٹیکل 371 (جے) کے موثر نفاذ کے لئے متحد جدوجہد کی اپیل کی۔ اور حکومت کو علاقہ کلیان کرناٹک کی پسماندگی کو دور کرنے موثر اقدامات کے ساتھ آرٹیکل 371 (جے) کی دفعات کے نفاذ میں تمام بے قاعدگیوں کو دور کرنے پر بھی زور دیا. سجادہ نشین و کرناٹک وقف بورڈ کے صدرنشین نے  آرٹیکل 371 (جے) کی دفعات کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں اور بے قاعدگیوں کی وجہ لاحق سنگین خدشات کو سماج کے تمام طبقوں کی مشترکہ جدوجہد سے حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ مختلف تعلیمی اداروں کے نمائندے اور سماجی کارکن ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے ہیں اور آرٹیکل 371 (جے) کی دفعات کے نفاذ سے صد فیصد استفادہ پر غور و خوص کر رہے ہیں. حضرت سجادہ نشین نے کہا کہ سمیتی نے تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں خصوصی ریزرویشن کے تحت علاقہ کلیان کرناٹک کے لوگوں کو حاصل خصوصی مراعات آرٹیکل 371 (جے) کے نفاذ سے ہیں اور اس خصوص میں دس سالہ تقریبات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 371 (جے) کے اہم معماروں میں سے ایک سابق مرکزی وزیر اور اے آئی سی سی کے صدر ڈاکٹر ایم ملیکارجن کھرگے کو تقریبات میں مدعو کیا جانا چاہئے۔
سمیتی کے صدر اور شرن بسویشور ودیا وردک سنگھ کے سکریٹری جناب بسوراج دیش مکھ نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ دس سالہ تقریبات کے ایک حصے کے طور پر سمیتی تمام تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کے فعال تعاون سے  کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بیداری پروگراموں کا سلسلہ منعقد کرے گی۔ جناب دیش مکھ نے حضرت سجادہ نشین بارگاہِ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ سے اتفاق کیا اور کہا کہ کوئی بھی تحریک صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے جب سماج کے تمام طبقات متحد ہوکر تحریک کی حمایت کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک دہائی بعد بھی آرٹیکل 371 (جے) کی دفعات پر عمل درآمد تسلی بخش نہیں ہے اور دفعات کے نفاذ اور تمام شعبوں میں خطے کے لوگوں کے لئے ریزرویشن بڑھانے میں بہت سی بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں اس علاقہ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سیکٹرز اور بہت سے اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کی مطلوبہ تعداد نہیں ہے اور اسپتالوں میں بھی اسی مسئلے کا سامنا ہے اور تعلیم اور صحت کے شعبوں میں 40 فیصد سے زیادہ عہدے خالی ہیں ۔
بی جے پی کے ایم ایل سی ششیل جی نموشی نے آرٹیکل 371 (جے) سے استفادہ میں درپیش مسائل کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے ریزرویشن شق کو تقسیم کرکے آرٹیکل 371 (جے) کی دفعات کو نافذ کرنے کے لئے قواعد و ضوابط تیار کرتے وقت غلطی کی ہے۔
حکومت کو علاقہ کلیان کرناٹک کے لوگوں کے لئے ریزرویشن کو اسی طرح روبعمل لانا چاہئے جس طرح درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے تقررات میں طریقہ کار اپنایا جارہا ہے تاکہ وہ پہلے مخلوعہ جائیدادوں کے عام زمرے سے استفادہ کریں اور بعد میں ان کے لیے حاصل خصوصی مراعات  سے ریزرویشن کے حصول کا دعوی کرسکیں۔ مختلف سرکاری محکموں میں علاقہ کلیان کرناٹک میں مخلوعہ عہدوں کو درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے معاملے کی طرح بیک لاگ کے طور پر سمجھا جانا چاہئے اور انہیں مقررہ وقت پر پُر کیا جانا چاہئے۔ سمیتی کے صدر لکشمن دستی نے اپنے استقبالیہ اور تعارفی خطاب میں آرٹیکل 371 (جے) کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے طویل جدوجہد کو یاد کیا اور کہا کہ سمیتی کا اگلا اجلاس سجادہ نشین کی صدارت میں ہوگا جہاں دس سالہ تقریبات کی تاریخوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس موقع پر  گلبرگہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر دیانند اگسر، بی جے پی ایم ایل سی بی جی پاٹل، کلیان کرناٹک چیمبر آف کامرس کے صدر شرنو پاپا، شرن بسوا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر انیل کمار بڈوے، ڈاکٹر پیرزادہ فہیم الدین رکن سنڈیکیٹ گلبرگہ یونیورسٹی ،ڈاکٹر ماجد داغی رکن کلیان کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی (حکومتِ کرناٹکا) گلبرگہ، ممتاز کانگریسی قائد جناب منان سیٹھ، ڈاکٹر منظور احمد دکنی ،جناب بابا فخرالدین، جناب اسلم چونگے ،جناب پاشاہ صاحب صدر نیشنل ایجوکیشنل سوسائٹی، پروفیسر ثناءاللہ پرنسپل لقمان کالج آف فارمیسی، پروفیسر آر کے ہوڑگی، پروفیسر بسواراج کمنور اور مختلف کالجوں کے پرنسپلز، اداروں کے صدور اور معزز شخصیات کثیر تعداد میں موجود تھے۔ ایس بی یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ایس جی ڈولگودر کے شکریہ پر اجلاس اختتام پذیر ہوا. قبل ازیں حضرت حافظ سید شاہ علی الحسینی سجادہ نشین بارگاہِ حضرت خواجہ بندہ نواز اور دیگر مہمانان کو تہنیت پیش کی گئی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے