غزل

اپریل 30, 2025

میربیدری، بیدر،کرناٹک

ٹھاٹھ توسارے پڑے ہوئے ہیں
اُٹھ کے لوگ گئے ہوئے ہیں

کوئی بھروسہ کرنا غلط
لوگ کہیں گے مرے ہوئے ہیں

چلنا آتاہے اُن کو
ہم بھی ساتھ چلے ہوئے ہیں

جھوم رہے ہیں سارے درخت
لگتا یوں ہے ، ہنسے ہوئے ہیں

ریلی بعد ہے ریلی ایک
تیاری میں لگے ہوئے ہیں

صاحب دیناپڑے گاحق
حق لینے کوکھڑے ہوئے ہیں

مطلب آزادی کا میر
کن کانوں میں کہے ہوئے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے