عبد الرحمن راشد عمری
زندگی کا ہر اک ذائقہ اور ہے
دعوتِ دیں کا لیکن مزہ اور ہے
بند کمروں میں جلنا الگ بات ہے
آندھیوں میں جلے جو دیا اور ہے
راہبر بن کے خدمت کرو قوم کی
ہم سفر راہ کا پھر صلہ اور ہے
اپنی کوتاہیوں پر نظر ہو سدا
چشم ادراک کا آئینہ اور ہے
مجھ کو عشرت کدوں میں نہ ڈھونڈا کرو
"اس قلندر کے گھر کا پتا اور ہے”
کون اپنا ہے راشد یہ خود طے کرو
ہر بشر کی ادا اور صدا اور ہے

