وقف بل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے

نوائے حق کو اگر یہ دنیا قرار دیتی ہے باغیانہ
میں تہمت بزدلی نہ لوں گا مجھے گزارا ہے سر کٹانا

دیش کے حکمراں سے دو باتیں

کیا کہتے ہیں آپ کے
شوشوں پر شوشے چھوڑے جاتے ہیں
ظلم کی بھی حد ہوتی ہے۔
ضمیر تو مردہ ہو ہی گیا تھا
کیا سچ میں خون بھی سفید ہو چکا ہے؟
دیش کو ڈبونا کیوں چاہتے ہو؟
اس دیش میں صدیوں سے پیار کی پوجاہوتی رہی ہے۔
بھارت ہے در دھریوں کا سنگم
وقف کو تم نے کیا سمجھا ہے؟
وقف کے و سے وجود ہے
واقف تم بھیہو جاؤ
ورنہ تم نہ بیچ پاؤگے
ق سے ہے قرآن کا حکم
جاں کی بازی لگا دیں گے ہم
ف سے فنا ہو جائیں گے ہم
اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ہم
اب تم گن لو اپنے دن
آگے کنواں پیچھے کھائی
خصلت میں تو ہے یہ تمہاری
آگ لگا کر پانی کو دوڑنا
اب نہ ہم اندھیرے میں رہیں گے
ویسے ایک بات بھی سچ ہے
ہم تھے سب غفلت میں پڑے
کمزور ہوا تھا میراایماں محروم نہیں
یہی وجہ کہ تم کو موقع یہ ملا
ورنہ کسی کے بس میں کب تھا
ہم پر کوئی انگلی بھی اُٹھاتا
تم نے جھنجھوڑا ہے ہم کو
اب نہ ہوں گے ہم غافل
چلتے چلتے کچھ کہنا ہے
جیسے آنکھوں پے نہیں ہوتا پلکوں کا بوجھ
ہمارے پیش کا سنودھان بھی بالکل ایسے ہی ہے
گلدستہ ہے یہ سب دھرموں کا
دیش کو اس نے بچایا اور سنوارا بھی ہے
حسن ہے یہ ہمارے ہندوستان کا
ہم سب کرتے ہیں علی الاعلان
وقف بل کی نا منظوری
نا منظوری
نا منظوری
سیر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

شریعت اسلامیہ کو پوری طرح ختم کر دینے کی مختلف سازشیں ہوتی رہی ہیں، وقف بل بھی مسلمانوں پر لٹکتی ہوئی ایک برہنہ تلوار ہے۔ تحریک کے ذمہ اداروں اور دیگر تمام افراد کی کو ششیں، جد وجہد، ایثار و قربانیاں، احتجاجات ان شاء اللہ رائیگاں نہیں جائیں گی، جن کا حامی و ناصر خدا ہو۔ ناچیز کی قلم نے بھی جنبش کی، سو بھیج رہی ہوں۔

طالب دعا
سیدہ شفیقہ عبدالقادر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے