کشی نگر(پریس ریلیز): پڈرونہ بلاک، جامعہ رحمانیہ اسلامیہ، رحمان نگر، سمرا ہردو، ضلع کشی نگرمیں مولانا غلام محمد وستانوی کے سانحۂ ارتحال پر ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی جس میں سارے اساتذہ و طلبہ نے شرکت کی، قرآن خوانی کرکے ایصال ثواب کیا اور دعائے مغفرت کی، اس کا آغاز شعبئہ حفظ کے طالب علم حافظ شوکت علی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا،  جامعہ رحمانیہ اسلامیہ کے سربراہ مولانا احمد کمال عبدالرحمان ندوی نے بڑے رنج و غم کے ساتھ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا غلام محمد وستانوی اس زمانے کے مجدد، جید عالم دین، درجنوں کالجز کے فاؤنڈر، جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم کے بانی و مہتمم، سیکڑوں مدارس دینیہ کے سرپرست، ہزاروں مکاتب اسلامیہ کے قائم کرنے والے، دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم، مصلح و داعی ا ور خطیب تھے، اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، زہد و تقویٰ میں اپنے زمانہ کے جنید و شبلی تھے، ماضی قریب میں مجھے ایسی گوناگوں شحصیت نظر نہیں آتی جس نے مولانا وستانوی جیسا علوم دینیہ و عصریہ کا حسین امتزاج پیش کرکے امت کی دونوں میدانوں میں رہنمائی کی ہو۔  مولانا کی وفات ملت کا بہت بڑا خسارہ ہے جس کا پُر ہونا مشکل ہے۔ بڑے افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ یہ در نایاب ۴ اپریل ۲۰۲۵ بعد نماز ظہر ہم سب کو سوگوار چھوڑ کر رب حقیقی سے جا ملا  ’’ اناللہ و انا الیہ راجعون‘‘۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کے سارے پسماندگان خاص طور پر ان کے صاحبزادے مولانا حذیفہ وستانوی اور مولانا سعید صاحب اور ان کی والدہ کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔
قاری محمد جبریل صدر مدرس شعبئہ حفظ کے دعائیہ کلمات پر نشست کا اختتام ہوا۔ اس میں خاص طور پر حافظ مظفرالحسن، ماسٹر صدر عالم، حافظ آزاد، مولوی اسامہ، ماسٹر محمد، حافظ اخلاق و حافظ مرسلین وغیرہ شریک رہے۔
صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے نظیر اس کا
تلوار ہے تیزی میں صہبائے مسلمانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے