مولانا ڈاکٹرمحمد فرمان ندوی
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء ، لکھنؤ
دنیا میں اتحاد واتفاق کا وجود ہمیشہ خیر کی علامت رہا ہے ، اس کے ذریعہ قوموں کی تعمیر ہوئی ہے ، اور نسلوں کو ترقی کرنے کے مواقع حاصل ہوئے ہیں ، اخلاقی قدروں کی نشر واشاعت میں اس اتحاد واتفاق نے جو اثر ات چھوڑے ہیں، اس کی افادیت سے کسی حالت میں انکار نہیں کیا جا سکتا ، اسی وجہ سے کہنے والے صحیح کہا ہے : اتحاد زندگی ہے ،اور اختلاف موت ہے ، اس کا مطلب صالح بنیادوں پر جو اتحاد ہوگا ، وہ زندگی کو رواں دواں رکھنے میں معاون ہوگا ، اور فاسد بنیادوں پر جو اتحاد ہوگا ، اس سے انسانیت کو زوال ہوگا اور قومیں ترقی کے بجائے تنزلی کی راہ پر پڑ جائیں گی اور نتیجہ ہلاکت و بربادی کی شکل میں ظاہر ہوگا ۔قرآن کریم نے اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیاہے : واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا ( اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور ٹولیو میں نہ بٹو ) ( آل عمران : ۱۰۳)
دنیا میں ایک ناپسندیدہ اتحاد ایک عرصہ سے نظر آرہا ہے ، اس اتحاد نے قوموں کو تاراج کیا ہے ، نسلوں کو تباہ کیا ہے ، انسانیت کا جنازہ نکالا ہے ، اس کی وجہ سے علاقے کے علاقے ویرانی میں تبدیل ہو گئے ہیں ، اس سعی نامشکور کی تازہ مثال یہودیت و نصرانیت کا وہ اتحاد ہے ، جو غزہ کی سرزمین پر نظر آیا ، جس نے تقریبا دوسال سے غزہ کی سرزمین کو تباہی و بربادی کے غار میں ڈھکیلنے کی کوشش کی ہے ،مصدقہ اطلاعات کے مطابق غزہ کی تباہی میں صرف یہودیت و نصرانیت کا اتحاد نہیں ہے ، بلکہ وثنیت ( بت پرست طاقتوں )نے بھی اس میںپوری تیاری کے ساتھ حصہ لیا ہے ، اور اس مبارک خطہ کو برباد کر نے میں پوری طاقت صرف کردی ہے ، اس طرح یہودیت ونصرانیت اور وثنیت کا مثلث مرکز اسلام کو تاراج کرنے پر آمادہ ہے ، اور الکفر ملۃ واحدۃ ( کفر کا مذہب ایک ہی ہوتا ہے ) کا پورا نمونہ سامنے ہے۔
اس وقت یہودیت ونصرانیت میں جو اتحاد ہے ، وہ تاریخ کے کسی دور میں نہیں رہا ، خود قرآن کریم اس عداوت ودشمنی کا نقشہ کھینچتا ہے ، او ر کہتا ہے : وقالت الیھود لیست النصاری علی شییٔ ، وقالت النصاری لیست الیھود علی شییٔ ، وھم یتلون الکتاب ، کذلک قال الذین لا یعلمون مثل قولھم ، فاللہ یحکم بینھم یوم القیامۃ فیما کانوا فیہ یختلفون( البقرۃ : ۱۱۳)(یہود کہتے ہیں کہ نصاری کسی بنیاد پر نہیں ، اور نصاری کہتے ہیں کہ یہود کسی بنیاد پر نہیں ، اور وہ سب ایک ہی آسمانی کتاب پڑھتے ہیں ، اس طرح وہ لوگ بھی کہنے لگے ، انھیں کا سا قول جو کچھ بھی علم نہیں رکھتے ، سو اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن اس باب میں فیصلہ کرے گا ، جس میں جھگڑتے رہتے ہیں )۔
یہودیت کا انتساب حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرف ہے ، یعقوب حضرت اسحاق علیہ السلام کے صاحبزادے ہیں ، ان کا نام اسرائیل بھی ہے، جس کے معنی اللہ کے بندے کے ہیں ، حضرت یعقوب کی اولاد کو بنی اسرائیل بھی کہا جاتا ہے ، یہودیت ایک نسلی مذہب ہے ، جو پیدائشی یہودی ہوگا وہی یہودی سمجھا جائے گا ، ان کے یہاں یہودی مشنریز اور مبلغین کا نظام نہیں ، یہودیت کی لفظی نسبت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے یہود ا کی طرف کی جاتی ہے ، یہودیت کے مختلف مراحل و ادوار ہیں ، جن میں یہودیت کا مکروہ اور ناپسندیدہ چہرہ سامنے آتارہا ہے ، تاریخ کی روشنی میںدیکھا جائے تو یہودیت کینسرکی طرح انسانیت کو نقصان پہونچاتی رہی ، جس کی وجہ سے زمانہ ٔرسالت میں قرآن کریم نے ان کے تعارف میں کہیں گدھے ، اورکہیں بزدل اور تحریف کرنے والے ، نافرمان مجرم ، جھوٹ کے عادی ، مال حرام کھانے کے رسیا، ناپاک و بے فیض ، بندر و خنزیر ، اور شیطان کے غلام اور انبیاء کرام کی زبانی لعنت زدہ، بے وقوف اور انبیاء کے قاتل اورذلت و مسکنت کے شکار جیسی صفات استعمال کی ہیں اور ان تمام جرائم کے خلاصہ کے طور پر یہ بات کہی گئی ہے : ذلک بما عصو ا وکانوا یعتدون ( وہ نافرمان تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے )۔
یہود تورات پر ایمان رکھتے ہیں ، اور تورات کو عہد نامہ قدیم (Old Testment) کے نام سے جانا جاتا ہے ، اس کے پانچ اجزاء ہیں : سفر پیدائش ، سفر خروج ، سفر لاوی ، سفر تثنیہ ، سفر عدد ، یہودیوں کی ایک اور مذہبی کتاب ہے ، جو تلمود کے نام سے جانی جاتی ہے ، یہودیوں کا دعوی ہے کہ تلمود موسی علیہ السلام کو کوہ طور پر ملی تھی ، حضرت ھارون نے اس کو محفوظ رکھا ،اس طرح اگلی نسلوں میں اس کو فروغ حاصل ہوا ، تلمود ایک عبرانی لفظ ہے ، جس کے معنی شریعت و تعلیمات دین کے ہیں ، یہودی تورات کے بعد اس کو دوسری مذہبی کتاب سمجھتے ہیں ، لیکن جدید تحقیقات سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ موجودہ تورات اور تلمود میں زبردست ہیر پھیر ہوئی ہے ، اور اس میں ایسی خرافات داخل کی گئی ہیں ، جوناقابل بیان ہیں ۔
یہودیت کے بالمقابل نصرانیت کے ماننے والے دنیا میں بڑی تعداد میں ہیں ، اس کا انتساب ناصرہ نامی گاؤں کی طرف ہے ، اس کے ماننے والے انجیل کو مانتے ہیں ، اور چار اناجیل معتبر مانی جاتی ہیں ، جن میں لوقا ، متی ، یوحنا ، اور مرقص ہیں ، اس مجموعہ کو عہدنامہ جدید New Testment) (کہا جاتا ہے ، مسیحیوں اور عیسائیوں کے یہاں جو خرابیاں پائی جاتی ہیں ، ان میں ایک عقیدۂ تثلیث ہے ، جس میں وہ اللہ، جبریل ، اور عیسی کو خدا مانتے ہیں ، دوسرا عقیدہ حلول کا ہے کہ اللہ کی ذات حضرت عیسی علیہ السلام میں حلول کر گئی ہے ، اور تیسرا عقیدہ کفارہ کا ہے ، حضرت عیسی علیہ السلام نے سولی کے پھندے کو گلے لگا کر پوری قوم کی طرف سے کفارہ کا کام کیا ہے ، اور چوتھا عقیدہ فارقلیط ہے ، جس کی عیسائی یہ تشریح کرتے ہیں کہ حضرت عیسی کے سولی پر چڑھائے جانے کے بعدان کی روح حواریوں کے پاس آئی ، اور اس نے حواریوں کو عیسائیت کو لازم پکڑنے کی تلقین کی ، ( الفوز الکبیراز شاہ ولی اللہ دہلوی )
یہ واضح خرابیاں اور تحریفات ہیں، جو سینٹ پاک کے ذریعہ عیسائیت کا حصہ بن گئی ہیں ، سینٹ پال جس کا پرانا نام پولس تھا ، اس نے عیسائیت قبول کی ، اور حواریوں سے خاصا قریب ہوا ، پھر اس نے دین مسیح کو کمال مکاری سے بدل کر رکھ دیا ، اس وقت عیسائیت کی جو تصویر ہمارے سامنے ہے ، و ہ سینٹ پال کی ایجاد کردہ ہے ۔
یہودیوں کی عیسائی دشمنی کا آغاز حضرت عیسی علیہ السلام کے نبی بنائے جانے کے بعد ہوتا ہے ، حضرت عیسی علیہ السلام بگڑے ہوئے یہودیوں کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے ، حضرت عیسی علیہ السلام نے ان کو سمجھایا ، اوران کے سامنے اللہ کا پیغام پیش کیا ، چنانچہ وہ ان کے مخالف ہو گئے ، اور ان کے خلاف سازش کر نے لگے ، اوربات یہاں تک پہونچی کہ اپنے عقیدہ کے مطابق انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو تختۂ دار پر چڑھا دیا ۔ جس کے بعد یہودی ، عیسائی دشمنی میں شدت آئی اور یہ بات آگے بڑھتی گئی ۔
۵۳۴ ء کا واقعہ ہے ، عیسائی مذہب کے ماننے والے افراد ایک جگہ مقیم تھے ، اور حضرت عیسی علیہ السلام کی شریعت کے مطابق زندگی گذارر ہے تھے کہ نجران کے علاقے میں ایک یہودی بادشاہ ذو نواس تھا ، اس کا نام زرعہ بن تبان اسعد حمیری بتایا جاتا ہے ،جس نے بارہ ہزار عیسائیوں کو ان کے مذھب سے پھیرنا چاہا ، لیکن وہ اپنے مذہب پر قائم رہے تو اس ظالم بادشاہ نے ایک گڈھا کھودوایا، اور اس میں آگ جلوائی ، اور پھر ان عیسائی مذہب کے ماننے والوں کو اس میں جھونک دیا ، ا س طرح وہ سب جل کر خاک ہو گئے ، قرآن کریم نے ان کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے : قُتل أصحاب الأخدود ، النارذات الوقود ، اذ ھم علیھا قعود ، وھم علی ما یفعلون بالمؤمنین شھود(ہلاک ہو گئے خندق والے ، ایندھن کی آگ والے ،جس وقت وہ لوگ اس آگ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اور اپنے اس کرتوت کو دیکھ رہے تھے جو کچھ وہ ایمان والوں کے ساتھ کررہے تھے ( البروج : ۴۔۷)۔ایک قول کے مطابق بیس ہزار عیسائیوں کو اس نے اپنے مذہب تبدیل نہ کر نے کی وجہ سے آگ کے گھڑھے میں جھونک دیا۔
یہودی و عیسائی دشمنی اور باہمی عداوت کا اندازہ اُس سے لگائیے جو یہودیوں کی مذہبی کتاب تلمود میں لکھا ہوا ہے : یہودی پر لازمی ہے کہ روزانہ عیسائیوں پر تین بار لعنت بھیجے ، اور اللہ سے دعا کرے کہ اللہ ان کو غارت کرے اور ہلاک کردے ، اور یہودیوں پر لازم ہے کہ بت پرستوں کے ساتھ کبھی کوئی خیر کا معاملہ نہ کریں ، جہاں تک عیسائیوں کا تعلق ہے تو ان کی خونریزی کریں ، اور ان کے وجود سے زمین کو پاک کردیں ، تلمود جدید میں آیا ہے : عیسی مسیح کی تعلیمات کافرانہ ہیں ( نعوذباللہ ) اور ان کے شاگرد یعقوب کافر ہیں ، اور انجیل کافروں کی کتاب ہے ( نھایۃ الیھود مولف : ابو الفداء محمد عزت محمد عارف ، دار الاعتصام ) یہ ہیں یہودیوں کے مذہبی و دینی عقائد عیسائیوں کے بارے میں ۔
یہی وجہ ہے کہ یہودی و عیسائی دشمنی میں برابر اضافہ ہوتا رہا ، عیسائیوں نے اپنے غلبہ و اقتدار کے دور میں کبھی بھی یہودیوں کو برداشت نہیں کیا ، بلکہ ان کو قتل کیا ،اوران کو اپنے وطن سے نکالا ، اور برابر ان کے خطرات سے لوگوں کو آگاہ کرتے رہے ، تاریخ شاہد ہے کہ تفتیشی عدالتیںInquisition) (کلیسا کے زیر سایہ قائم تھیں ، ان کا قائم کرنے والا بابا ہفتم غریغوری ہے ، اس نے یہ عدالتیں یہودیوں کے مجرمانہ کارروائیوں کے تعاقب کے لئے قائم کی تھی ، یہ عدالتیں تیرہویں صدی عیسوی سے لے کر سولہویں صدی تک قائم رہیں ، جن میں ہزاروں یہودیوں کو سزا دی گئی ،اور انہیں متعدد ملکوں میں ذلت و رسوائی کے ساتھ بھیجا گیا ، یہودی ۱۲۹۰ء میں انگلینڈ سے نکالے گئے ، ۱۳۹۰ء میں فرانس سے نکالے گئے ، ۱۴۲۰ ء میں آسٹریا سے جلاوطن کئے گئے ، ۱۶۶۲ء میں اسپین سے نکالے گئے ، اور ۱۷۱۹ء میں جرمنی سے باہر کئے گئے ، اور ۱۷۲۷ء میں روس سے کھدیڑے گئے ، پھر ہٹلر کا زمانہ آیا ، جس نے ان میں لاکھوں کو زندہ جلایا ، اور ان کو ان کی شرارتوں کی سزا دی ۔
ان ذلت آمیز حالات کی ترجمانی قرآن کریم کے اس بیان سے ہوتی ہے ، جس میں کہا گیا ہے : ضربت علیھم الذلۃ والمسکنۃ ( ان پر ذلت و بیچارگی کی مار ماری گئی ہے )، لیکن یہودی برابر اپنے نسلی تفوق میں مبتلا رہے ، اور اللہ کی پسندیدہ جماعت کا خطاب اپنے ساتھ وابستہ کرتے رہے ، اورعیسائیوں کی اس دشمنی کو ختم کر نے کے لئے مواقع کی تلاش میں تھے ۔
یورپ پر مصائب و آلام کے مختلف ادوار آئے ، جس میں وہ قحط زدگی ، بھکمری اور روحانی بحران کا شکار ہوا ، دوسری طرف کلیسا کے ظلم نے انسانوں کی کمر توڑ دی تھی ، چنانچہ انقلابی تحریکات کا آغاز ہوا ، جن میں مارٹن لوتھر نے سولہویں صدی میں اور نیپولین بوناپارٹ نے اٹھارہویں صدی میں اپنا رول ادا کیا ، اس کے نتیجہ میں بہت سے یہودیوں نے عیسائیت اختیار کی ، تاکہ عیسائیوں کا تقرب حاصل ہوجائے ، اور ان کے نزدیک بااعتماد ثابت ہوں ، اس مقصد کے لئے انہوں نے انسانی فلاح و بہبود کے نام سے تنظیمیں اور ادارے قائم کئے ، جن میں حریت ، عدالت ، اخوت ، اور مساوات کو نمایاں حیثیت دی ، اس سیاسی تدبیر و چالبازی کے ذریعہ وہ دنیا کے اسٹیج پر آنے میں کامیاب ہوئے ، جس کے نتیجہ میں ایک یہودی و عیسائی اتحاد قائم ہوا ، اس اتحاد کو بنیادی مقصد خلافت عثمانیہ کا الغاء اور خاتمہ تھا ، عیسائی تو صلیبی جنگوں ہی سے مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے تھے ، اب یہودیوں کا ساتھ ہو گیا تو اس مقصد کو حاصل کر نے مزید ان کی تائید کی اور ان کے ہر ممکن تعاون کیا ، اس اتحاد کے نتیجہ میں ایک بڑا فیصلہ یہ ہوا کہ یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کر کے اور سولی پر چڑھا کر جو سنگین جرم کیا تھا ، اس سے عیسائیوں نے ان کو بری کردیا ، اور معاف کر دیا ، اور تاریخ سے اپنی دشمنی کی تمام کارروائیوں کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا ، پھر یہودیوں نے حیلہ سازی کی ، اور اس کو ایک اعتقادی اور روحانی مسئلہ بنا دیا ، اب دونوں ارض مقدس شام پر اپنے اپنے عقیدہ کے لحاظ سے دعویداری میں شریک ہیں ۔
یہود و نصاری کی دشمنی کی ایک طویل تاریخ ہے ، لیکن آج وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متحد اور سینہ سپر ہیں، جب کہ عالم اسلام اپنے ذخائر اور بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود تسبیح کے دانوں کی طرح منتشر ہے ، دنیا کے اندر اس کا کوئی خاص وزن نہیں ہے ، جب ہمارے دشمن ہمارے خلاف اس قدر متحد ہیں ، تو پھر ہم کیوں اختلاف و انتشار کے شکار ہیں ؟ یہ ایک ایسا شکار ہے ، جو ہر انصاف پسند کے سینہ میں تیر کی طرح چبھتا ہے ، اللہ کرے کہ عالم اسلام ہوش کے ناخن لے ۔

