محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک

۱۔ عزتِ سادات 
بندہ ہے تو بندھا رکھاگیاہے۔ اورجب اس نے وہ بندھن توڑلیااور پچیس سال گزارے تب اس کو پتہ چلاکہ بندھے رہنے میںبہت بڑی عزت تھی ۔ اب وہ عزتِ سادات چلی گئی تھی۔
۲۔ کچھ نہیں رکھا
’’بحث میں کچھ نہیں رکھا، نہ خدا اور نہ صنم‘‘ اچانک وہ بات یادآئی تو بحث یکلخت بند کردی گئی۔حیرت اس پر تھی کہ سبھوں کووہ بات اسی لمحہ یاد آئی تھی۔
۳۔ خون بہائے بغیر جنگ 
  ’’جنگ میں نرمی دلوں کو جیت لیتی ہے۔ جنگ کی سختی سے انسان ٹوٹ جاتے ہیں ، ہر قسم کی زندگی ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے ‘‘ حضرت کی یہ تازہ باتیں تھیں۔
میں نے پوچھا’’جنگ کیوں کر ہو؟ اگر نہ ہوتو بہترہے نا؟‘‘ حضرت نے اپنا سراٹھاکر میر ی آنکھوں میں دیکھااور نظریں جھکاکرکہا’’انسانوں میں چند ایک انسان شیطانی مزاج ہوتے ہیں ،ان کی شیطانیت کوٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے جنگ ناگزیر ہے لیکن جنگ میں کم سے کم انسانی خون بہے ۔ دس لاکھ افرادپر ایک انسان ماراجاتاہے تو یہ انسانوں کے لئے بہترہوگا،ورنہ ہزاروں لاکھوں جانوں کاچلاجانادراصل انسانیت سے گری ہوئی حرکت کہلائے گی اور یہ انسانی درندگی ہوگی ، اس طرح تو شیطانی مزاج افراد کی جیت ہی کہلائے گی ‘‘۔
میں نے پوچھا’’منصوبہ بندطریقے سے جنگ ہوتو بغیرخون بہائے بھی شیطانی قوتوں کاخاتمہ ممکن ہے ۔ آپ کیافرماتے ہیں ؟‘‘
حضرت نے آگے بڑھ کر میراماتھا چوم لیا ۔ اورکہا’’ عمدہ سوال ہے ۔ جنگیں خودنمائی کی آخری حد ہیں اور کاروباری رخ اختیار کرچکی ہیں۔جنگ کے درمیان جب کاروبارکو فوقیت حاصل ہوگی توپھر انسانی جان بے دریغ خطرے میں ہوگی، اللہ بچائے جنگوں سے‘‘
۴۔ اچھائی برائی 
’’تمہاری اچھائی میں تمہاری بیوی کاحصہ ہوتاہے ‘‘ پان کی گلوری منہ میں ڈال کر جب استاد ہردئے ناتھ چولان نے فیصلہ کن اندازمیں کہاتب تواب الرحمن نے استاد ہردئے ناتھ چولان سے پوچھا’’اوکے ، لیکن کیامیرے ذریعہ کی گئی برائی میں میری بیوی کاحصہ بھی رہے گا؟‘‘
پان کی گلوری چبانے کاعمل رک گیا۔ استاد کے چہرے پر ناگواری اور حیرت کے ملے جلے اثرات صاف طورپر دیکھے جاسکتے تھے۔ پھر انھوں نے خود کوسنبھالتے ہوئے کہا’’ رشتے ناطوں کے درمیان جہاں بیوی کی ضرورت ہو ،وہاں تم نے برائی سے کام لیاہے تو اس میں ضرور بہ ضرور بیوی کا بھی حصہ رہے گا۔لیکن جہاں بیوی سے کوئی تعلق ہی نہ ہو یا اس سے مشورہ نہ کیاگیاہوتو کلی طورپر شوہر ہی اس برائی کاذمہ دار کہلائے گا‘‘۔
تواب الرحمن نے استاد ہردئے ناتھ چولان سے اٹھتے ہوئے اجازت طلب کی تو استاد نے کہا’’اچانک اجازت طلب کرنا آداب کے خلاف ہوگا۔ بیٹھ جاؤ‘‘ وہ صوفے پرواپس دھم سے بیٹھ گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے