(حضرت کے وصالِ مبارک 11؍ذی القعدہ کے حوالے سے ایک تحریر)

مرزا چشتی صابری نظامی
بیدر شریف
ولادت باسعادت: آپ کانسبی سلسلہ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ کے توسط سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ تک پہنچتاہے۔ آپ کاوطن کاکوری، نواحِ لکھنؤ میں ہے لیکن اکثرکتب ِسیر میں آپ کا وطن نکراون ضلع پورب لکھاہے۔ حضرت کی ولادت باسعات 1071ھ میں ہوئی۔ آپ کااسمِ مبارک شاہ نظام الدین اور لقب شیخ الاسلام ہے۔
تعلیمِ ظاہری وباطنی: محض گیارہ سال کی عمر میں اپنے وطن سے دہلی تشریف لائے اور بعدازعلوم ظاہری ، حضرت شاہ کلیم اللہ چشتی ؒ ریاضت میں اس قدر منہمک ہوگئے کہ پیرومرشد قبلہ نے خوش ہوکر انہیں خلافت عطافرمایا اور فرمایاکہ اللہ تعالیٰ دکن کی ولایت تمہیں عطافرمایاہے۔ انھوں نے مزید فرمایاکہ اورنگ آباد جاؤاور تبلیغ اسلام کاکام کرو، ہمارے سلسلے کو روشن کرو۔ آپ اپنے پیرومرشِد قبلہ کا بے حد ادب واحترام فرماتے تھے اور ان کے پیرومرشِد قبلہ بھی انہیں انتہائی چاہتے تھے۔ چنانچہ حسب الحکم ِ پیر
آپ اورنگ آباد تشریف لائے اور ردکن میں احیائے دین وتبلیغ دین اور سلسلہ ِ چشتیہ کی نشاطِ ثانیہ کے لئے تادمِ زیست خود کووقف کردیا ۔ دکن میں آپ کے مریدین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ کتبِ سیر میں ہے کہ بعدازحضرت سید نا خواجہ بندہ نواز ؒ سلسلہ ء چشتیہ میں آپ نے چار چاند لگادئے۔ اور تابہ َ وِصال مخلوق کو صراطِ مستقیم کی تعلیم دی ۔ آپ اکثر فرمایاکرتے تھے کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب ِ الٰہی نے مجھے اپنا جھنڈا دے کر اورنگ آباد بھیجا ہے۔ ان کاجھنڈا وہاں لہراتاہے۔ اور میرا یہاں اورنگ آباد میں۔ مخفی مباد کہ حیدرآباد کے حضرت یوسف بابا وشریف بابا آپ کے پیر بھائی ہیں۔
فضائل وخصائل: آپ صاحب ِ کشف وکرامات بزرگ تھے۔ علمی قابلیت نہایت درجے کی تھی۔ آپ سے بے شمار کرامات ظاہر ہوئیں۔ آپ نے دعا کی تو قحط زدہ علاقوں میں خوب بارش ہوئی اور سارے قحط زدہ علاقے اللہ کے فضل سے پھر سے سرسبزوشاداب ہوگئے۔ آپ نے دعا کی تو آن ِ واحد میں پانچسو جوگیوں نے کلمہ ء حق پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپ نے دعا کی توجادوبے اثر ہوگیا۔ آپ نے دعا کی تونواب میرقمرالدین آصف جاہ اوّل کو حکومت ِ دکن پر فائز ہوئے اور نواب میرعثمان علی خاں آخری حکمراں تھے جن کی حکومت ستمبر 1948ء کو ختم ہوگئی۔
آپ کے روزمرہ کے معمولات میں عبادات، مطالعہء کتب ، ذکرِ الٰہی ، نماز باجماعت کی سختی سے پابندی ، مخلوق کی فریاد رسی، ظاہری وباطنی تربیت ِ دینی وغیرہ تھے۔ آپ اپنے مریدوں وخلفاء پر کڑی نظر رکھتے کہ کہیں وہ دنیاداری میں تو ملوث نہیں ہورہے ہیں؟آپ نہایت ہی ہردلعزیز تھے، جو بھی آپ کے پاس ایک بار آتا آپ کاگرویدہ ہوجاتا ۔ چاہے بڑے ہوں یاچھوٹے ۔ جوبھی آپ سے ملنے آتے فوراً کھڑے ہوکر ادب فرماتے۔ بے مثل خلق کے مالک تھے۔ مریدوں کی تعداد ایک لاکھ کے اوپر تھی۔ آپ کی ساری زندگی نیکی وپارسائی کی سچی تصویر تھی۔ آپ کی باتوں میں شیرینی، گفتگو میں شفقت اور بردباری تھی۔ شب وروز مخلوق کی حاجات روائی کے لئے دعا فرماتے اور حاجات پورے ہوتے۔ بعدنماز جمعہ محفل ِ سماع کا انعقاد ہوتا ۔ وہاں بھی آپ کی دعا سے مخلوق کے حاجات پورے ہوجاتے۔ تادمِ زیست غرباء وفقراء اور دیگر حاجت مندوں کے لئے جن کاکام اُمر اء کے پاس ہوتا، آپ کے لئے سفارش نامہ لکھ کردیتے اور کام ہوجاتا۔
وصال: آپ کا وصال بعمر 71اکہتر سال 11؍تاریخ ماہ ذی قعدہ 1144ھ میں ہوا۔ آپ کی درگاہ شہرِ اورنگ آباد میں شاہ گنج قیصر کالونی میں مرجعِ خلایق ہے۔ میں نے اس بارگاہ ِ عالیہ میں جب بھی حاضری دی ، نزولِ رحمت اور جمال ہی جمال محسوس کیا۔

