محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔ یومِ مادر
بیوی کیلئے آم لے جاتے ہوئے وہ سوچ رہاتھاکہ ’’یومِ مادر ‘‘ کے موقع پر ماں کو آم کھلایاکرتاتھا۔’’اور آج۔۔۔‘‘ آنکھیں جھکالیں ، توبارش شروع ہوگئی ۔
۲۔ کانٹا
’’تم کوئی نبی نہیں اور میں کوئی صحابہ کرام میں شامل نہیں ‘‘یہ کہااور اپنی جہالت کولے کر جماعت کے باہر نکل آیا۔سناہے جماعت والے خوش ہیں کہ ایک کانٹانکل گیا۔ اس نے کسی سے ذکر نہیں کیااور نہ یہ سوال کیاکہ ’’جماعت سے جدا ہونے پر خوش ہونے والے آیا انبیاء کی جماعت سے ہوسکتے ہیں ‘‘
۳۔کچرا امیدوار؟!
تجزیہ یہی کیاگیاکہ پینل کے افراد ہار گئے تو کیاہوا، ہمارا لیڈر جیت گیاہے ، ہمارے لئے کافی ہے ۔چند وہ بھی تھے جنھوں نے منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا’’یہ بات ایسے کہی جارہی ہے جیسے لیڈر ایک نعمت ہے اور ہارنے والے کچرالوگ ہوں، جن کے ہارنے سے کچھ فرق نہیں پڑا، نہ زمین پر نہ آسمان میں اللہ کے ہاں ‘‘
۴۔ اصلی کمپنی
اکلوتے باس کی حیات کے لئے بے شمار حامیوں اور پارٹی کے افراد کو انھوں نے ہرجہت سے موت کے گھاٹ اُتار ناشروع کردیاتھا۔ ایسالگتاتھاوہ کوئی مذہبی تنظیم نہیں بلکہ کوئی ڈی کمپنی ہواور اپنے دشمنوں کوموت کے گھاٹ اتارنااس کیلئے لازمی ٹہرا۔
۵۔ اقتدار پر
آدمی بہت اچھاتھا، چبھتے ہوئے سوالات کیاکرتاتھاجس سے سماج کو اور ملک کوبے شمار فائدہ پہنچتا۔ تین اسکینڈل تو اسی کے سوالات کے نتیجے میں سامنے آئے تھے۔ اس کوگولی ماردی گئی۔عوام نے پھر ایسی بینڈ بجائی کہ حکومت گرگئی اور سوال کرنے والے آنجہانی کے حامی اقتدار میں آگئے۔
۵۔جائے حیرت؟!
اس قدر حیرت کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ دنیاجائے حیرت نہیں بلکہ جائے عبرت ہے سمجھے۔
۶۔ناقابل یقین
پورے ایک ہزار لوگ ملنے آئے تھے۔ انہیں جنگ نہیں چاہیے تھی۔اوپر اطلاع دی گئی تو ان سے بات کرنے کے لئے کہاگیا۔ دوگھنٹے کی غیرمتوقعمیٹنگ کے بعد جنگ روک دی گئی۔
جنگ کارکناناقابل یقین تھا۔ کسی نے اس پرغور نہیں کیاکہ ایک ہزار VIPsکا جمع ہونا دراصل ناقابل یقین تھا۔
۷۔ اندر کااُبال
اس نے اپنے اندر کاپورا اُبال نکال کر صفحہ قرطاس پر بکھیردیا۔پچھلے کئی دن کی بے چینی یکلخت ختم ہوگئی۔ دس دن بعد اطلاع آئی کہ وہ پھر بے چین ہے ، اپنے اندر کااُبال نکالنے والا ہے
۸۔خواتین کااسکول
اس نے سناتھاکہ ملک جب جمہوری نہیں بناتھا ، غلام تھاتب عورتیں صرف اور صرف نواب زادوں کومیسر تھیں۔اوران ہی کے کوچے میں نظر آیاکرتی تھیں۔ آج جب کہ ملک جمہوری بن کر
پون صدی گزارچکاہے تو عورتوں کی اس قدر فراوانی ہے کہ ہر دومنٹ بعد آزوبازو سے عورت گزرتی رہتی ہے۔ ان میں باپردہ مسلم خواتین کی خاطر خواہ تعداد ہوتی ہے۔ کوئی مسخرے پن پر اترتے ہوئے آواز بھی لگادیاکرتاہے ’’بازو ہٹو، بازو ہٹو،خواتین کااسکول ابھی ابھی چھوٹاہے ‘‘۔
