عرس شریف کے موقع پر
مرزا ؔچشتی صابری نظامی، بیدر شریف
آپ کانام محمد عبدالصمد اور لقب قاضی راجا ہے۔ راجا ؔآپ کاتخلص تھا۔ یہ جو بیدر میں آپ کو شاہ راجو قتال کہتے ہیں بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ حضرت کاتعلق دہلی کے قاضی خاندان سے ہے اور ان کی ولادت باسعادت شہر ِ دہلی میں ہوئی۔ تعلیم وتربیت اپنے والدِ ماجد کے علاوہ دہلی کے مشہور علمائے کرام سے حاصل کی۔ آپ کاشمار جید علمائے کرام میں ہوتاہے۔ آپ کوفقہ ، فتویٰ اور درس وتدریس میں خاص مہارت حاصل تھی۔ آپ پابندِ شریعت ، عابد، زاہد ، اور تہجد گزار تھے۔ مملکت بہمنیہ میں آپ شیخ الاسلام کے عہدے پر مامورتھے۔ تعلیم وتربیت اور عدلیہ کاانتظام بھی آپ ہی کے سپرد تھا۔ شاعروصاحب ِ تالیف وتصنیف بھی تھے۔ اور تخلص آپ کاراجا تھالیکن ان کاکلام دستیاب نہیں۔ آپ نہایت خوش اخلاق ، متواضع اور منکسرالمزاج بزرگ تھے۔ ہرایک سے مثالی حسن سلوک اور احسان سے پیش آتے۔ آپ کامعمول تھاکہ آرام کرنے سے پہلے یَا حَیُّ یَا قَیُّومْ ثَبِّتْنِی عٰلی الِْایِماَنْ کا ورد فرماتے ۔
وُرودِ بیدر شریف:۔ سلطان احمد شاہ کے دور میں آپ بیدر شریف تشریف لائے۔ آج جہاں آپ کی مزارشریف ہے وہیں آپ کاقیام تھا۔
بیعت وخلافت:۔ آپ حضرت سیدنا خواجہ بندہ نواز گیسودراز بلندپروازؒکے مریدوخلیفہ ہیں۔ بعدازبیعت آپ ذکر وشغل میں مشغول ہوگئے اور کچھ عرصہ بعد حضرت خواجہ ؒ نے انہیں نعمت ِ باطنی سے سرفراز فرماکر اپنا صاحب ِ مجاز خلیفہ مقرر فرمایا اور نصیحت کی کہ اپنی زندگی کتاب اللہ اور سنت رسول ِ کریم ؐ کے تحت گزار یں۔ اہل دنیا سے دور رہیں۔ روزی حسب ِ ضرورت کمائیں اوراپنے متعلقین کو پابندِ شریعت بنائیں۔ تزکیہ نفس اورتصفیہ قلب کے سلسلے میں میری ہدایات پر عمل کریں۔ بندگانِ خدا کو معصیت سے توبہ کرواکر صراطِ مستقیم پر لگانے کی غرض سے بیعت لیں۔
ارشادات:۔ (۱) فرمایا علم باطن کی تحصیل کااصل مقصد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کافہم پیدا کرنا ہے۔ اس کے حصول کے لئے اتباعِ رسول ِ کریم ؐ لازمی ہے۔ کامل مرشد کی صحبت اور ان کی نگرانی میں تربیت ضروری ہے۔ محض کتابوں کے مطالعہ سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ 2۔ فرمایا پیران ِ طریقت سے مراد وہ اصحاب ہیں جنہیں رسول اللہ سے نسبت ِ فقر وارادت حاصل ہو۔ 3۔ فرمایا اتباع ِ رسول اکرم لازم ہے اور اولیاء اللہ کی صحبت اور ان کی نگرانی میں تربیت ضروری ہے ۔ خاص طورپر تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کے لئے ان کی صحبت نہایت کارآمد ہے۔ 4۔ فرمایا بزرگوں کی صحبت سے ماسوااللہ سے تعلق ختم ہوجاتاہے۔
5۔ فرمایا جب تک حب ّ دنیا ختم نہ ہواس وقت تک اللہ ، رسول کی محبت قلب میں قایم نہیں ہوسکتی ۔ 6۔ فرمایا عشق ِ حقیقی قربت ِحق ووصلِ حق کا سبب بنتاہے۔7۔ سالک یامرید کو چاہیے کہ حب ّ دنیا ترک کردے۔ کسب ِ معاش حسبِ ضرورت کرے۔ اور شریعت کی پابندی لازمی جان لے۔ 8۔ فرمایا سماع محبوبِ حقیقی تک پہنچانے کاایک طریقہ ہے اور سماع بلا مزامیر کے سننا چاہیے۔9۔ فرمایا معاملات کی کشادگی ، تلاوتِ کلام پاک اور سماع میں وجد سے ہوتی ہے۔ 10۔ فرمایا جو شخص دیتارہتاہے حق تعالیٰ بھی اس کو دِیاکرتاہے اور بخیل سے لوگ متنفر رہتے ہیں۔ 11۔ فرمایاکثرت میں وحدت کی جلوہ گری ہے۔
وصال:۔ آپ ؒ کا وصال بروزجمعہ 15؍ذی قعدہ 859ھ کو ہوا۔ درگاہ مبارک شہر ِ بیدر کی مشرقی جانب اشٹور روڈ کے قریب موضع تاجلاپور (نیانام مرزا پورٹی) میں واقع ہے اور مرجع خلایق ہے۔ ہر سال آپ کا عرسِ شریف منجانب عقیدت مندان نہایت تزک واحتشام سے منایاجاتاہے۔

