سدھارتھ نگر: سوشل ویلفیئر فاؤنڈیشن "نئی آواز” کی 150ویں شعری نشست ڈاکٹر جاوید کمال کے رہائش گاہ پر گزشتہ شب منگل کو ہوئی۔ جس میں مقامی شعراء اور کوی حضرات نے شرکت کیا۔ نشست کا آغاز ڈاکٹر جاوید کمال نے نعت پاک کے چند اشعار کے ساتھ کیا:

دین و دنیا کے رہبر محمد، آپ سے لو لگائے ہوئے ہیں

 آپ ہی کی دعاؤں کے طالب، ہاتھ اپنے اٹھائے ہوئے ہیں۔

نشست میں شعرأء کے کچھ چنندہ اشعار درج ذیل ہیں:

ڈاکٹر نوشاد اعظمی = 

ابھی ہم ہیں ابھی تم ہو ابھی ہے کارواں باقی

 زمانے میں محبت کی ابھی ہے داستاں باقی

پنکج سدھارتھ =

 یہ کس کے غم میں جلتے جا رہے ہو

جو تیزی سے پگھلتے جا رہے ہو

 کسے آخر یہ تم نے کھو دیا ہے؟

مسلسل ہاتھ ملتے جا رہے ہو

ریاض قاصد =

  پھر سجائے گئے ہیں دار و رسن،

انتہا سے چلو گزر جائیں

 سامنا ہو نہ جائے بچوں کا،

ہاتھ خالی ہے کیسے گھر جائیں۔

ایڈوکیٹ شاداب شبیری=

 بدنام ہے داناؤں میں دانائی ہماری

کرتا ہی نہیں کوئی پذیرائی ہماری

 جب تو بھی نہیں اور کتابیں بھی نہیں ہیں

 تب اور مزہ دیتی ہے تنہائی ہماری

 سنگھشیل جھلک=

  کپڑے شدھ نہیں ہیں تن پر نہ روٹی ہے تھال میں

پھر بھی دنیا پھنسی ہوئی ہے پاکھنڈوں کے جال میں

 ڈاکٹر جاوید کمال=

 کنول جمیلی یا رات رانی یا اک غزل لاجواب لکھوں

 یہ پھر یکایک خیال آیا کہ اس پہ میں ایک کتاب لکھوں۔

 صدر ڈاکٹر فضل الرحمن ‘یاس’=

تری فطرت میں یکتائ نہیں ہے

کہوں کیسے تو ہرجائی نہیں ہے

 ارادہ تھا اتر جانے کا لیکن

 تیری آنکھوں میں گہرائی نہیں ہے

نشست کی صدارت ڈاکٹر فضل الرحمن ‘یاس’ نے کیا۔مہمان خصوصی پروفیسر اختر حسین اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر جاوید کمال نے بخو بی انجام دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے