حیدرآباد 24 مئی (مشرقی آواز جدید): حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تمہاری زبان برابر اللہ کے ذکر میں تر بتر رہنی چاہئے ۔ زبان سے اللہ تعالی کا ذکر مبارک ایسی عظیم نعمت ہے جس کی بدولت انسان آخرت میں اعلیٰ سے اعلیٰ درجات سے نوازا جائے گا، اور دنیا میں شیطان لعین کی ریشہ دوانیوں اور فتنہ سامانیوں سے محفوظ رہے گا۔ ایک روایت میں وارد ہے کہ شیطان آدمی کے دل میں اپنی سونڈ ر کھے رہتا ہے، پس اگر وہ اللہ کے ذکر میں مشغول ہو تو وہاں سے اپنی سونڈ ہٹالیتا ہے اور اگر آدمی اللہ کی یاد سے غافل ہو تو اس کا دل اپنے منہ میں رکھ لیتا ہے، یعنی اپنے وساوس و خیالات دل میں بھر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلئے ہر مسلمان کو کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے رہنا چاہئے ، اور ہماری زبانیں اٹھتے بیٹھتے اور چلتے اللہ تعالی کے مبارک ذکر میں تر رہنی چاہیئے ۔ ایک شخص نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کیا کہ حضرت دین کے بہت سے مسائل میرے سامنے آچکے ہیں ، اب کوئی ایسی بات مجھے بتادیجئے جس پر میں مضبوطی سے بڑا سے عمل پیرا ہو سکوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نصیحت فرمائی کہ قرآن کریم کی تلاوت یا دینی کتابوں کے مطالعہ وغیرہ میں لگا کر کار آمد کے بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہو گا جب ہمیں آخرت اس کی زندگی کی فکر ہوگی ، اور دنیا کی نام نہاد لذت کوشیوں کے مقابلہ میں آخرت کی راحتوں کے حصول کا داعیہ دل میں ہوگا۔ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ شیطان لعین پوری انسانیت کا دشمن ہے، وہ ہمیں ہمارے رب سے دور کر کے اس کی رحمت سے محروم کر دیتا چاہتا ہے ، اس کی یہ سازش اس وقت نا کام ہو گی۔ جب ہم کثرت سے اللہ کی یاد اور اس کے ذکر میں مشغول رہیں۔ ذکر اللہ ہی شیطان کے مقابلہ کے لئے تیر ہدف نسخہ ہے، ذکر ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے اس سے ہرگز غفلت نہ برتنی چاہئے ، اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں فرمایا۔ الا بذكر الله من القلوب وه لوگ جو ایمان لائے اور اللہ کے ذکر سے ان کے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے، خوب سمجھ لو کہ اللہ کے ذکر سے دل کو اطمینان ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں اور ذکر کی حلاوت اور برکات سے بہت سے احادیث شریفہ میں کثرت سے ذکر واذکار کر نے فضائل اور ترغیبات وارد ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذکر کا قدر فائدہ ہے کہ زبان سے اس کی تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی بعض روایات میں ہے کہ اہل جنت کو کو اگر کوئی غم ہو گا تو صرف یہ ہو گا کہ دنیا میں خالی لمحات ذکر سے خالی کیوں گزر گئے ، وہاں جب ایک ایک مرتبہ سبحان اللہ اور الحمد لله کہنے کا عظیم ثواب نظر آئے گا جب اس کی قدر معلوم ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ مگر افسوس کا مقام ہے ہم اپنے بیشتر اوقات فضول اور لغو گفتگو ، جھک بازیوں اور واہیات مشاغل میں ضائع کر دیتے ہیں اور ہمیں ان عظیم نقصانات کا احساس تک نہیں ہوتا ، بالخصوص سفر کے دوران ٹائم پاس کرنے کے بہانے سے یا تو مخرب اخلاق ناولوں اور میگزینوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے، یا گانے وغیرہ سن کر اوقات کو برباد کیا جاتا ہے، اسی طرح آج کی نوجوان نسل رات کا ایک بہت حصہ سیل و فون میں اور دوستوں سے غیر ضروری باتیں کر کے گزار دیتے ہیں حالانکہ ان خالی اوقات کو تسبیحات یا قرآن کی تلاوت میں گز از سکتے ہے اللہ تعالی ہم کو صحیح علم اور عمل کی تو فیق عطا فرمائیں۔آمین۔۔۔
