یوم صحافت پر ایک خاص رپورٹ
(ڈاکٹر جاوید کمال)
ابھی ابھی یوم صحافت گزرا ہے یعنی 30 مئی کو پورے ہندوستان میں یوم صحافت منایا گیا، اس سلسلے میں جگہ جگہ مباحثہ اور میٹنگ ہوئی۔ صحافیوں نے اس پر اپنے اپنے خیال کا اظہار کیا ۔لیکن حیرت کی بات ہے سدھارتھ نگر میں جہاں صحافت کا دو گروپ بنا ہوا ہے یعنی یہاں پر دو پریس کلب رواں دواں ہیں ۔جن میں ایک پریس کلب نے تو یوم صحافت پر بحث، مباحثے کے ذریعے اپنی موجودگی درج کرائی۔ وہیں دوسرے گروپ نے بالکل خاموشی اختیار کر رکھی۔ یہاں تک کہ اس دوسرے گروپ میں کہیں سے بھی یوم صحافت کے تعلق سے کسی میٹنگ کرنے کی خبر موصول نہیں ہوئی۔ حیرت اس بات پر بھی ہے کہ چار پانچ مہینہ گزر جانے کے بعد بھی جب اس دوسرے پریس کلب کی تشکیل ہوئی تھی تب سے لے کر اب تک کوئی حلف برداری بھی نہیں کی گئی۔ جبکہ ایک روایت کے مطابق پریس کلب میں چنے جانے والے لوگ حلف برداری کی ایک رسم ادا کرتے ہیں۔
بات اگر صحافت اور صحافیوں کی، کی جائے تو اس ضلع میں تقریباً 500 صحافی موجود ہوں گے لیکن ان میں کتنے صحافت کے معیار پر پورا اترتے ہیں یہ تو ان کو پڑھنے اور سننے والے بتا سکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو اس ضلع میں انگلیوں پر گنے جانے والے چند صحافیوں کو چھوڑ دیا جائے جو اپنے تجربے کی بنیاد پر آج برسوں سے لکھتے چلے آ رہے ہیں اور ان کی صحافت اور تحریر لوگوں کے گلے بھی اترتی ہے، وہیں صحافیوں کا ایک پورا گروپ ایسا ہے جو اپنے آپ کو صحافی تو کہتا ہے لیکن انہیں صحافت کے معنی شاید ہی معلوم ہو۔ یہاں تک کہ زبان کی ادائیگی اور الفاظ کا تلفظ بھی ان کے بولنے اور لکھنے سے بہت دور ہے۔ جہاں ایک طرف صحافیوں کے لیے یونیورسٹی میں کورسز بھی چلائے جاتے ہیں، وہیں تمام ایسے صحافی ضلعے میں موجود ہیں جن کے پاس شاید ہی صحافت کی کوئی ڈگری یا ڈپلومہ ہو، انہیں خود کو صحافی کہنے میں بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔ وہیں اج کے دور میں صحافت کا درجہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا ہے یہ کسی سے چھپا نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر صحافیوں کی ایک اچھی خاصی فوج موجود ہے لیکن ان کی تحریر دیکھ کر بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں صحافت کا کتنا علم ہے یا ان کی تحریر میں کس حد تک صحیح الفاظ منتخب کیے گئے ہیں۔ حیرت تو اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ یہاں کا شعبہ معلومات (سوچنا وبھاگ) ایسے تمام اخباروں کے صحافیوں کو سرکار کی طرف سے منظوری بھی دلا دیتا ہے جن کے اخباروں تک کا کوئی پتہ نہیں رہتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے نام دیکھے جا سکتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اخبار کہاں آتے ہیں، کہاں جاتے ہیں؟ اس کا پتہ تو شعبہ معلومات ہی دے سکتا ہے۔ یہ ایک بڑا اہم سوال ہے کہ آخر ایسے تمام صحافیوں کو شعبہ معلومات سرکاری منظوری کیسے دلا دیتا ہے؟ وہیں دوسری طرف عام لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اج کے صحافی اپنا مطلب نکالنے کے لیے صحافت کرتے ہیں اور ان کا کام دفتروں میں جا کر صرف وصولی کرنا ہوتا ہے۔ تمام فرضی صحافیوں کے پکڑے جانے کی خبریں بھی آئے دن ملتی رہتی ہیں لیکن پھر بھی صحافیوں کی ایک لمبی چوڑی فوج ایسی موجود ہے جنہیں صحافت کے شین قاف کی بھی معلومات نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی خبروں اور اخباروں کو دیکھ کر صحافت کا معیار بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ سماج کا چوتھا ستون کہی جانے والی صحافت آج خود چند صحافیوں کی بدولت اپنی ہی بنیاد ہلانے میں لگی ہوئی ہے۔
