ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کرناٹک کے ریاستی سکریٹری جناب مبین احمد نے اپنے ایک سخت ردِ عمل میں کہا ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے وقف ایکٹ 2025 کے تحت 6 جون سے "وقف اُمید پورٹل” کا آغاز، ایک غیر آئینی، غیر قانونی اور سپریم کورٹ کی واضح توہین کے مترادف ہے۔
مبین احمد نے کہا کہ یہ قانون اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور متعدد مسلم تنظیمیں، انسانی حقوق کی انجمنیں، اپوزیشن پارٹیاں، نیز سکھ، عیسائی اور دیگر اقلیتیں اس متنازعہ قانون کو پہلے ہی مسترد کر چکی ہیں۔ اس کے باوجود، حکومت کی جانب سے پورٹل کا آغاز اور اس میں اوقافی جائیدادوں کا لازمی اندراج، عدالتی عمل میں مداخلت اور اقلیتوں کے مذہبی و آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دراصل آئین ہند کی روح، بالخصوص آرٹیکل 26 (مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے انتظام کا حق) کے خلاف ہے، اور مسلمانوں کی مذہبی خودمختاری پر حملہ ہے۔ انہوں نے تمام مسلمانوں، ائمہ، متولیان اور ریاستی وقف بورڈوں سے اپیل کی کہ وہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے تک اس پورٹل پر کسی بھی قسم کا اندراج نہ کریں۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا اس جبری رجسٹریشن کی پرزور مذمت کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس اقدام کو فی الفور روکے۔
آخر میں مبین احمد نے کہا کہ اگر حکومت نے یہ غیر آئینی عمل جاری رکھا تو ویلفیئر پارٹی عوامی اور قانونی دونوں محاذوں پر اس کا بھرپور مقابلہ کرے گی، اور اقلیتوں کے مذہبی، آئینی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔
مذکورہ اطلاع ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، کرناٹک ریاستی سکریٹری مبین احمد نے میڈیا کے لئے جاری ایک پریس ریلیز میں دیا ہے۔
