ظہیرآباد 6/جون(مشرقی آواز جدید): تلنگانہ فریڈم فائٹر ڈاکٹر جاں نثار معین نے ایک صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ محترم چیف منسٹر صاحب سے گزارش اُردو داں طبقہ کی تعلیمی، لسانی اور آئینی حقوق کی صریح بازگشت ہے۔ مادری زبان علم کا وہ سرچشمہ ہے جو دل سے ذہن تک روشنی پھیلاتا ہے۔ یہ محض اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ شناخت، احساس اور شعور کا عکاس ہے۔ جب تعلیم اسی زبان میں ہو جو بچپن سے سنائی دیتی رہی ہو، تو الفاظ معنویت اور فہم کا زیور بن جاتے ہیں۔ مادری زبان میں تعلیم سیکھنے کو آسان اور سوچ کو وسعت بخشتی ہے، جس سے فرد اپنی پہچان سے جُڑ کر خود اعتمادی حاصل کرتا ہے۔

اردو داں طبقہ اسی تعلیمی مساوات کے وژن کی تائید کرتا ہے جو حقِ تعلیم ایکٹ 2009 اور نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں منوّر ہے۔ مگر تلنگانہ کے سرکاری اسکول، خصوصاً اردو میڈیم اور اقلیتی علاقوں میں، اس وژن سے انحراف ایک سنگین تعلیمی، آئینی اور لسانی محرومی کی صورت میں موجود ہے۔ پالیسی اور عمل کے درمیان یہ خلیج محض اعداد و شمار کی کمی نہیں، بلکہ نسل نو کے تعلیمی مستقبل کا چیلنج ہے۔لہٰذا، مؤدبانہ گزارش ہے کہ اردو کو مادری زبان کے طور پر فروغ دینے اور اردو میڈیم اسکولوں میں تدریسی و انتظامی عملے کی فوری و ترجیحی تقرری کے احکامات جاری فرمائے جائیں، تاکہ آئینی وعدے پورے ہوں اور تعلیمی مساوات کا خواب تعبیر پائے۔

ضلع نارائن پیٹ کے حالیہ تعلیمی جائزے سے انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 60 فیصد اسکولوں میں مستقل ہیڈ ماسٹرز کی عدم موجودگی ہے، جبکہ ریاست بھر میں 2000 سے زائد تدریسی اسامیاں خالی ہیں۔ یہ صورتحال کسی عارضی رکاوٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہری ادارہ جاتی غفلت کی عکاس ہے۔ اسی نوعیت کا بحران ضلع سنگاریڈی، بالخصوص ظہیرآباد، نارائن کھیڑ اور جھرہ سنگم جیسے علاقوں میں بھی درپیش ہے، جہاں اردو میڈیم اسکولوں کو مضامین کے ماہر اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ بعض اسکولوں میں تدریسی و غیر تدریسی ذمہ داریاں ایک ہی استاد پر آن پڑی ہیں، جو تعلیم کے معیار پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔

ظہیرآباد، جہاں اردو بولنے والی آبادی بڑی تعداد میں موجود ہے، تعلیمی و لسانی شناخت کا مرکز ہے۔ اردو میڈیم اسکولوں میں ریاضی، سائنس اور سماجی علوم کے اساتذہ کی کمی تعلیمی عمل کو مفلوج کر رہی ہے۔ آئینِ ہند کے آرٹیکل 350A اور حقِ تعلیم قانون 2009 ریاست کو اس امر کا پابند کرتے ہیں کہ وہ اقلیتی زبانوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ ان تقاضوں کے پیش نظر، حکومت سے مطالبہ ہے کہ ظہیرآباد سمیت تمام متاثرہ علاقوں میں اردو میڈیم اساتذہ کی فوری اور مستقل تقرری کے اقدامات کیے جائیں، تاکہ تعلیمی خلا کو پُر کیا جا سکے اور لسانی و تعلیمی انصاف بحال ہو۔

اُردو میڈیم اسکولوں میں زیر تعلیم اکثریتی طلبہ کا تعلق اُن طبقات سے ہے جو معاشی و سماجی سطح پر پہلے ہی محروم ہیں۔ ایسے میں تعلیم کی زبان کا مسئلہ محض ایک لسانی معاملہ نہیں بلکہ اُن کی شناخت، رسائی اور کامیابی کا مسئلہ ہے۔ اردو کو بطورِ مادری زبان پڑھنے والے طلبہ، جب موزوں اور تربیت یافتہ اساتذہ سے محروم رہتے ہیں، تو ان کی علمی و فکری نشو و نما متاثر ہوتی ہے۔یہ صورتحال آئینِ ہند کے آرٹیکل 350A کی خلاف ورزی ہے۔ جو اقلیتی طلبہ کو ان کی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم کی آئینی ضمانت دیتا ہے۔ مزید یہ کہ اقوامِ متحدہ، یونیسکو اور دیگر عالمی تعلیمی ادارے بھی اس امر پر متفق ہیں کہ بچوں کی مادری زبان میں تعلیم نہ صرف ان کا بنیادی حق ہے، بلکہ سیکھنے کی استعداد میں اضافہ اور خود اعتمادی کی بنیاد ہے۔

حقِ تعلیم ایکٹ 2009 ریاست کو اس امر کا پابند بناتا ہے کہ وہ ہر بچے کو مناسب تعلیمی ماحول، بنیادی سہولیات اور موزوں استاد فراہم کرے۔ اسی طرح نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020، کثیر لسانی تدریس، برابری اور شمولیت کو مرکزی اصول قرار دیتی ہے۔ لیکن جب اُردو میڈیم اسکولوں میں مضامین کے ماہرین، ہیڈ ماسٹرز اور لسانی تدریسی عملہ ہی میسر نہ ہو، تو یہ پالیسیاں صرف کاغذی خواب بن کر رہ جاتی ہیں۔

اساتذہ پر اضافی انتظامی و غیر تدریسی بوجھ ڈالنا، نہ صرف ان کی تدریسی صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے۔ ان کے اندر بے چینی، تھکن اور مایوسی کو جنم دیتا ہے۔ نتیجتاً، وہ ادارے جنھیں تعلیم کا چراغ روشن کرنا تھا۔ اب خاموشی کی دھند میں لپٹے خواب گاہوں میں بدلتے جا رہے ہیں۔حکومتی سطح پر اس سنگین مسئلے پر خاموشی، محض کوتاہی نہیں بلکہ ایک اجتماعی بے حسی کی علامت ہے۔ اُردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی عدم تقرری، جمہوری وعدوں، آئینی اصولوں اور تعلیمی انصاف کے بنیادی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ مسئلہ اب محض تعلیمی نہیں رہا، بلکہ انسانی و لسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری اور مؤثر اقدامات کرتے ہوئے درج ذیل اصلاحی اقدامات نافذ کرے:

1. تدریسی اور قائدانہ اسامیوں پر ترجیحی اور شفاف تقرری کی جائے، بالخصوص اردو میڈیم اسکولوں میں۔

2. اقلیتی زبانوں میں تعلیم کے لیے مخصوص بجٹ، تربیتی ادارے اور مستقل تقرری کا نظام وضع کریں۔

3. آئینی، تعلیمی اور سماجی پالیسیوں کی روشنی میں اردو میڈیم اسکولوں کی ضروریات کا جامع ازسرنو جائزہ لیں۔

4. اُردو میڈیم اسکولوں کو لسانی، ثقافتی اور تعلیمی شناخت کے مراکز کے طور پر فروغ دیں۔

یہ اصلاحی اقدامات صرف تکنیکی بہتری کا ذریعہ نہیں بلکہ آئینی، اخلاقی اور انسانی سطح پر ایک عزمِ نو کا تقاضا ہیں۔ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو اُردو میڈیم اسکول، تعلیم کے وہ ادارے بن جائیں گے جو ریاستی وعدوں کی ناتمام تحریریں ہوں گے۔جہاں تختۂ سیاہ پر علم کی روشنی کے بجائے، محرومی کی دھند چھائی رہے گی۔ اسی لیے محترم چیف منسٹر صاحب سے اردو داں طبقہ پرامید ہے کہ آپ ان مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے ان کا حل یقینی بنائیں گے، تاکہ تعلیمی اور لسانی محرومی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے