بیدر۔ 16؍جون (محمدیوسف رحیم بیدری): ادارۂ ادبِ اسلامی ہند، شاخ بیجاپور کی جانب سے ماہ ِ جون کے مشاعرے کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ مشاعرے کی صدارت معروف شاعر اور صدر ادارہء ادب اسلامی ہند، بیجاپور جناب محمود انعمدار محمود نے کی۔مشاعرہ کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا جس کو مولانا عبدالرحمٰن عاطر نے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی، جناب انور حسین سوداگر نے حضور اکرم کی شان میں نعت پیش کی۔ جناب آصِف بالسنگ ، سیکریٹری ادارۂ اسلامی ہند، شاخ بیجاپو ر نے شعرا ء اور سامعین کا استقبال کیااور افتتاحی کلمات پیش کئے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہء ادب اسلامی ہند تعمیری ادب کے ذریعہ ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کی فکر لیے ایسی شعری و ادبی نشستیں منعقد کرتا چلا آرہا ہے، جس کی تکمیل میں شہر کے ادباء و شعراء نے اینٹ در اینٹ رکھنے کا فریضہ انجام دیاہے اور دے رہے ہیں اور یہ عمارت اپنے مقصد کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ صدر ادارہء ادبِ اسلامی ہند، جناب محمود انعمدار محمود نے اپنے صدارتی خطاب میں نہایت مسرت کا اظہار کا کرتے ہوئے کہا کہ آئے دن ادارہء اپنی نت نئی سرگرمیوں کے ذریعہ آگے بڑھتا جارہا ہے۔ شعرا و ادبا کے ساتھ کی سامعین کی کثیر تعداد ادارہ سے جڑتی جارہی ہے۔ موصوف نے آگے کہاکہ بیجاپور کی زمین ہمیشہ سے شعر وادب کے لیے زرخیز ثابت ہوئی ہے اور ثابت ہو رہی ہے اور یہ مشاعرہ بھی اس کی مثال ہے۔ ممتاز شعرا، بشمول محمود انعمدار محمود، مومن بیجاپوری، اقبال خادم، عمر بیجاپوری،مجیب احمد مجی، ڈاکٹر عبدالستار عاجز، رضوان احمد رضوان، امیر حمزہ راز،قمر رتضیٰ، بشر بیجاپوری، ڈاکٹر امیرالدین امیر، صاحب لال نداف، یاسین منتظر، ہاشم مدنی، عبداللہ راشد ذبیح، عبدالرحمٰن عاطر،عاقب رضا اور خواتین شاعرات میں مہر النساء مہرو، عشرت جہاں زیب، مبینہ منتہا، سلمہ سلطانہ اور ماہین امید نے اپنا اپناکلام پیش کرتے ہوئے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔اس طرح ایک کامیاب مشاعرہ اپنے اختتام کو پہنچا۔
مشاعرہ میں پیش کیا گیا شعرائے کرام کا منتخب کلام ملاحظہ فرمائیں۔
ترالمس محسوس ہوتاہے اب بھی
کبھی چھو کے دیوار و در دیکھتے ہیں
محمود انعامدار محمود
فلسفہ یہ جینے کا گر تجھے پتہ ہوتا
جیسے جی رہا ہوں مَیں ویسے تُو جیا ہوتا
مومن بیجاپوری
اینٹ پتھر کا پہلے مکاں تھا مرا
اب مکیں آگئے اسکو گھر بولنا
مہرالنّساء مہرو
گرداب میں ہوں پاس کنارہ بھی نہیں
تقدیر میں تنکے کا سہارا بھی نہیں
ہونے نہ دیا قید سے وہ اپنی رہا
اور اس نے مجھے جان سے مارا بھی نہیں
مجیب احمد مجیب
جن کی فطرت میں عاجزی ہو عمر ؔ
وہ اکڑ کر چلا نہیں کرتے
عمربیجاپوری
چمن در چمن وہ جلانے لگے ہیں
بسانے میں جن کو زمانے لگے ہیں
امیر حمزہ راز
منتظر کو میسریہ دولت ہوئی
حفظِ قرآن کی ہے سعادت ملی
یاسین منتظ
میری وفا کو نیا ایک اختیار ملا
عجب ادا سے کوئی آج پہلی بار ملا
عشرت جہاں زیب
ناکامی سے تیری کیوں ہے پریشاں عاجز
مشکل تیری بھی آساں ہوگی، سر جھکا کے دیکھ
ڈاکٹر عبدالستار عاجز
وہ بارش میں کاغذ کی کشتی بنانا
بڑے فخر سے دوسروں کو سکھانا
عبداللہ راشد ذبیح
لبوں پر دین کی باتیں عمل کچھ اور ہوتا ہے
دو چہرے اوڑھ کر ہم کو دکھایا بھی نہیں کرتے
عبدالرحمٰن عاطر
آخر میں جناب عمر بیجاپوری نے اظہار تشکر کیا۔ ہفتہ14؍جون کو منعقدہ یہ مشاعرہ بیجاپورکی شعری و ادبی روایت کا نقیب رہا۔ واضح رہے کہ ادارہء ادبِ اسلامی ہند بیجاپور ہرماہ پابندی کیساتھ اردو اور ہمہ لسانی مشاعرے منعقد کرتے ہوئے کئی سال سے اردو، ہندی اور کنڑی ادب کی خدمت کررہاہے۔
