دینی و علمی حلقوں میں غم کی لہر، جسد خاکی لکھنؤسے رسول آباد روانہ

اناؤ:(محمد جنیدقاسمی) ۲۳؍جون: قصبہ رسول آباد کے مولانا احمد علی قاسمی کا لکھنؤ کے علی ہاسپٹل میں گزشتہ شب انتقال ہوگیاہے،جہاں وہ قریب ایک ہفتے سے زیرعلاج تھے۔ مرحوم کافی دنوںسے علیل تھے،پہلے ان کاعلاج مختلف شہروں اور دیگر صوبوں میں کرایاگیا،اطلا ع کے مطابق وہ بمبئی تک علاج کے لیے گئے،ایک ہفتہ قبل طبیعت کے زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے لکھنؤ کے علی ہاسپٹل میں داخل کرایاگیا۔ سنیچرکی رات قریب گیارہ بجے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ مولانا احمد علی قاسمی ایک نیک سیرت ،عالم دین اور اچھے مضمون نگار تھے۔ پوری زندگی درس وتدریس سے وابستہ رہے سینکڑوں طالبان علوم نبوت نے آپ سے کسب فیض کیا۔

جنازہ سے قبل مولانا عبدالجبارقاسمی صد رجمعیۃ علماء ضلع ہردوئی نے وعظ کرتے ہوئے کہا مولانا کی علمی صلاحیت اور ان کی قابلیت کا ہرایک معترف تھا، زندگی بھر اپنارشتہ علم سے استواررکھا۔ اس موقع پر حافظ محمد فرقان مہتمم مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد نے تعزیتی بیان میں کہا مولاناعلوم عربیہ کے ماہر،قرآنیات پر گہری نظر تھی،زبان وادب سے گہرارشتہ تھا۔مولانا مختارعالم مظاہری صدر جمعیۃ علماء ضلع اناؤ نے کہا مولانا احمد علی بے لوث محبت کرتے تھے،قلم وقرطاس سے مضبوط رشتہ تھا۔متعددمقالات ومضامین بھی شائع ہوئے۔

مفتی محمد جنیدقاسمی استاذ مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد نے کہا مولانا کا آبائی وطن قصبہ کرست تھا،جہاں ۱۹۵۴ء میں ان کی پیدائش ہوئی،مولاناکی پرورش اپنے نانیہال رسول آبادمیں ہوئی،ام المدارس دارالعلوم دیوبند سے ۱۹۷۳ء میں سند فراغت حاصل کی،ان کی نماز جنازہ مولانا عبدالجبارقاسمی نے پڑھائی۔اس موقع پر مولانا سفیان جامعی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع اناؤ نے کہا مولانا کی زندگی میںان کی دوتصانیف شائع ہوئیں، وہ اپنی تصانیف دیکھ ر بے حدمسرت محسوس کرتے تھے، ملاقات ہونے پر بہت دعاؤں سے نوازتے اور بہت دیرتک اپنی آپ بیتی بھی سناتے۔

اس موقع پرمولانا سلیم مظاہری، مولانا ،مولانا سفیان مظاہری استاذ مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم ،مولانا نفیس ندوی، قاری محمد آزاد، مولاناعبدالرحمن ندوی،حافظ عرفان کانپور، مولوی شفاعت علی،مولانا عبدالوارث جامعی،مولاناعفان قاسمی،مولانا وہاج قاسمی، مفتی سہیل جامعی،مولاناسلمان جامعی، مولانا خالد ندوی، حافظ جمیل حقی حافظ ارشاد،حافظ رئیس،قاری فیصل، محمد شکیل ، محمد عقیل ،رئیس ، محمد ادریس،قاری عبدالحئی وغیرہ موجود رہے۔

پسماندگان میں اہلیہ ،بیٹے،بیٹیاں موجود ہیں،اللہ تعالیٰ صبر جمیل عطافرمائے۔ مولانا کے فرزندسالم احمد علی خان نے اپنے والد بزرگوار کے تئیں کہا اگرکسی قسم کاکوئی قرضہ، یاکوئی ناگوارواقعہ والد صاحب کے ساتھ پیش آیا ہوتومعاف فرمادیں اور قرض ہم سے وصول کرلیں۔ مولاناکی تدفین بعدنمازظہر ان کے آبائی قبرستان رسول آباد میں ہوئی، جس میں بڑی تعدادمیں لوگوں نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے