میوزک شیطان کا سب سے خوبصورت جال ہے جس میں عوام کے ساتھ خواص بھی گرفتار ہوتے جا رہے ہیں۔

لکھنو (محمد رضوان گوہر ندوی): باطل کی اسکیم ہے کہ گناہ کو اتنا عام کردیا جائے کہ احساس گناہ ہی ختم ہو جائے، آج موبائل کے راستے لغویات، خرافات، رسم و رواج، میوزک، رقص، کفر و شرک اور بے حیائی و بے غیرتی کے مظاہر کتنی آسانی کے ساتھ ہمارے گھروں میں گھستے جارہے ہیں، ہمارے دلوں میں بستے جارہے ہیں، ہماری فکروں پر حملہ آور ہیں، حیرت کی بات ہے کہ احساس گناہ ہی مرتا جارہا ہے، یہی میوزک اور گانے اگر کوئی دوسرا ہماری مسجد میں بجا دے تو مرنے مارنے کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں لیکن ہم خود میوزک اور گانے موبائل کی رنگ ٹون بناتے ہیں اور بے خیالی یا بے غیرتی میں دوران نماز مسجد میں بجاتے ہیں تو کوئی تعجب نہیں ہوتا، یہاں تک کہ بعض لوگ ناواقفیت کی بنیاد میں حالت نماز میں ان کو بند بھی نہیں کرتے خواہ سب کی نماز متاثر ہوجائے، دین کے معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے، بے اعتدالی اور افراط و تفریط ہمارے نیک اعمال کو بھی ضائع کر دیتے ہیں. ان خیالات کا اظہار مفتی محمد عمر شفیق حجازی ندوی( سابق ریسرچر انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی جدہ) نے ایک خصوصی نشست میں عوام و خواص کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے کہا کہ باطل ہمیشہ ایسے راستوں سے ہمارے دل و دماغ میں گھسنے کی کوشش کرتا ہے جو بہت مانوس و مالوف ہو، اس نے گناہ اور برائی پھیلائی ہی اسی لئے ہے کہ دھیرے دھیرے اس کی سنگینی ہمارے ذہنوں سے نکل جائے، موبائل بھی اس دور کا میٹھا زہر ہے، ہم اس جدید آلہ سے بے شک فائدہ اٹھائیں لیکن بہت احتیاط کے ساتھ، اس میں ہر طرف گناہ کے راستے کھلے ہوئے ہیں، آپ کو اپنی نظر بھی بچانی ہے، ہاتھ بھی بچانا ہے، دل بھی بچانا ہے، فکر بھی محفوظ رکھنی ہے، ایمان و عقیدہ کی حفاظت بھی آپ کے ذمہ ہے، موبائل رنگ ٹون گھر کے باہر لگے ہوئے کال بیل کی طرح ہے لیکن یہیں سے بے احتیاطی شروع ہوجاتی ہے، عوام تو عوام خواص بھی توجہ نہیں دیتے اور بے تکے اور غلط رنگ ٹون سیٹ کر لیتے ہیں, میوزک اور گانے والے رنگ ٹون لگاکر حتی کہ بعض مرتبہ شرکیہ اور کفریہ رنگ ٹون لگا کر بے فکر ہوجاتے ہیں کہ ہم سے کوئی گناہ ہو ہی نہیں رہا ہے، اسی طرح بعض لوگ آیات قرآنیہ، کلمات اذان اور تلاوت لگا کر خوش گمان ہو جاتے ہیں کہ کار ثواب کر رہے ہیں جب کہ بیت الخلاء میں، بازار کے شور و ہنگامےمیں، گناہ کی جگہوں میں جانے انجانے میں بے ادبی کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، کیا سادگی کے ساتھ کوئی تنبیہ کی گھنٹی نہیں لگائی جا سکتی ہے، بالکل ممکن ہے، آپ اپنی سادی رنگ ٹیون خود وضع کرکے لگا سکتے ہیں، ایسی بیل سیٹ کیجئے جس میں کسی طرح کی کوئی قباحت لازم نہ آئے، کیا آپ کسی کے گھر پر دستک دیتے ہوئے کوئی بے ہنگم اور غیر مناسب چیز کا استعمال کر سکتے ہیں، ظاہر ہے آپ ایسا نہیں کرتے ہیں اور ادب و سنجیدگی کے ساتھ کسی مناسب چیز یا مناسب الفاظ سے اس کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مفتی عمر شفیق نے کہا کہ ہمارے علماء کرام کو خاص طور پر ان چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ ہمارے علماء کرام کو زکوۃ کے سلسلے میں مدارس کی بے ضابطگی کو دور کرنا چاہئے، جو رقم جس مد کی ہو شفافیت کے ساتھ اسی مد میں خرچ کرنی چاہیے، حساب و کتاب میں من مانی قطعی نہ برتی جائے، موجودہ دور میں مضبوط و مفید نصاب تعلیم کے ساتھ مضبوط نظام تعلیم اور مثالی طریقہ تربیت اختیار کئے بغیر خاطر خواہ فائدہ حاصل کرنا مشکل ہے،اللہ تعالیٰ ہم سب کو درست سمجھ عطا فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے