ذکی طارق بارہ بنکوی

سعادت گنج، بارہ بنکی، یوپی، انڈیا
فرما دیا نبی نے وہ انساں مِرا نہیں
جس کو بھی عشقِ ابن علی مرتضٰی نہیں
نانا کسی کے مصطفٰے صلّے علٰی نہیں
کوئی بھی تو حسین کے ہم مرتبہ نہیں
جتنے حسین پاک دلارے نبی کے ہیں
اتنا کوئی حبیبِ شہِ انبیاء نہیں
تو اور تیری نسل فنا ہوگئی یزید
میرا حسین آج بھی لیکن مٹا نہیں
دنیا کی عظمتیں ہوں یا محشر کی ہو نجات
ہم کو حسین پاک سے کیا کچھ ملا نہیں
جز پیرویء نقشِ کفِ پائے اہلِ بیت
خلدِ بریں کا اور کوئی راستہ نہیں
شاید یہ جانتے نہیں باغی حسین کے
جن کے نہیں یہ ان کے نبی و خدا نہیں
اس کے لئے مٹا دیا خود کو حسین نے
ایسے ہی دین کا یہ اجالا ملا نہیں
جب تک نہ اترے پشتِ سے خود ہی حسین پاک
سجدے سے سر حضور کا تب تک اٹھا نہیں
میں مدح خوانِ آلِ پیمبر ہوں اے "ذکی”
ڈر مجھ کو کوئی حشر کے میدان کا نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے