میربیدری، بیدر،کرناٹک
ہمیں بھی سُراور تال سارا، ہوا میسر
خیال رب کا، خیال پیارا، ہوا میسر
خیال ِ جاناں ، خیال سادا، ہوا میسر
مگر تمہیں ہی سوال آدھا ہوا میسر
اُسی محبت میں دِل دیا، جاں بھی دیا جو
تو دوستوں کو کمال تیرا ہوا میسر
کلام جن سے، درود اُن پر ، سلام ان کو
انھیں کی صحبت میں مآل کھویا ہوا میسر
درخت کے نیچے لی تھی رضوان والی بیعت
کہ اہل ِ بیعت کا آلِ جادہ ہوا میسر
وہ آرہے ہیں بدل بدل کے یزید چہرے
کہ حیف اُن کو اچھال سارا ہوا میسر

