بیدر۔ 29؍جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری): تلنگانہ ریاست کے ضلع سنگاریڈی ، ظہیرآباد تعلقہ میں ملیاگیری اور بسواکلیان آشرم کے سربراہ ڈاکٹر بسوالنگا اودھوت نے کہا کہ وچن ساہتیہ دنیا کا بہترین ادب ہے۔انہوں نے اتوار کو شہر کے گنیش میدان میں شری گنیش مندر کمیٹی اور گنیش میدان ڈیولپمنٹ کمیٹی کی طرف سے شراون مہینہ کے موقع پر منعقدہ ایک پروچن پروگرام میں یہ بات کہی۔ انھوں نے آگے کہاکہ زندگی کی قدردراصل 12؍ویں صدی کے بسواوادی شرنوں کے کلام میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں زیادہ سے زیادہ پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے۔بسونا کا دیا ہوا لنگایت مذہب ایک سائنسی مذہب ہے۔ لنگوانوں کو ہر روز خدا کی پوجا کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ توہم پرستانہ عقائد اور رسومات سے دور رہیں۔اللہ کی دی ہوئی زندگی کو زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انسان کو سادگی سے جینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سانس ہے ایک دوسرے پر پیار اور اعتماد کے ساتھ رہنا چاہیے۔بچوں کو اچھے اخلاق سے نوازنا چاہیے۔ ان میں مذہبی عقیدت پیدا کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اچھے کاموں میں مشغول ہونے کی ترغیب دی جانی چاہئے۔صحافی ششی کانت شیمبیلی، وجے کمار بیلداڑے، ناگیش پربھا، سنجیو کمار بکا، حاجی پاشا، مادھو لاڈ کو اعزاز سے نوازا گیا۔مندر کمیٹی کے ڈاکٹر راج شیکھرکوجلگی، ریٹائرڈ ایگزیکٹیو انجینئر بی ایس۔ پاٹل، ملیکارجن کیاسا، پربھوشٹی مدّا، بسواراج مسودی اور دیگر موجود تھے۔ دیویندر کرنجی نے نظامت کی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر بسوالنگااودھوت کے علاوہ بھی کئی ایک افراد کا یہی کہناہے کہ وچن ساہتیہ ایک عمدہ ادب ہے تاہم اس وچن ساہتیہ کو اردو والوں تک بھی پہنچاناچاہیے۔ یہی مشورہ ہم نے سال 2016ء کو ڈاکٹر بسوالنگاپٹہ دیورو بھالکی کودیاتھا۔ انھوں نے اردو والوں تک وچن ساہتیہ کاترجمہ کرکے پہنچانے کی بات تو کہی لیکن نہیں پہنچایا۔ اب توقع ہے کہ یہ کام ڈاکٹر بسوالنگا اودھوت کے حامی ضرور کریں گے۔ کیوں کہ ظہیرآباد کاعلاقہ بھی اردو زبان وادب کاعلاقہ ہے۔
