سدھارتھ نگر/غازی پور: گزشتہ روز شہر غازی پور میں سدھارتھ نگر کے شاعر اور سوشل ورکر ڈاکٹر جاوید کمال کے اعزاز میں ایک شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں شہر کے نامور شعراء اور کویوں نے شرکت کی۔ بزم کا آغاز غازی پور کے شاعر مرحوم حسن فیضی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد اختر قریشی کی نعت پاک سے ہوا۔
مونس بے کساں کا خیال اگیا،
پھر میری بے کسی کا سوال اگیا،
شامیوں نے کہا دور سے دیکھ کر،
عاشق مصطفی وہ بلال آ گیا۔
خالد غازی پوری۔۔۔
آرام جس وجاں کو یہ دنیا بنی نہیں ،
جس میں خلش نہ ہو کوئی وہ زندگی نہیں ۔
بادشاہ راہی۔۔۔
کوئی شکوہ کوئی گلہ نہ کرو،
اس طرح سے کبھی ملا نہ کرو،
دو دلوں میں یوں فاصلہ نہ کرو،
ان کو مشکل میں مبتلا نہ کرو۔
گوپال گورو۔۔۔
کہیں مسجد کہیں شوالہ ہے،
پھر بھی ہوتا نہیں اجالا ہے،
کھوٹ ساقی میں ہے نہیں گورو،
تیرے ہاتھوں میں الٹا پیالا ہے۔
مزاحیہ شاعر ہنٹر غازی پوری۔۔۔
جینے نہیں وہ دیتی ہے مجھ کو سکون سے،
بڑکا رہی ہے روز مجھے بیوی فون سے۔
ڈاکٹر ساجد غازی پوری۔۔۔
ستم کا ذکر کہیں بھی نہیں گناہوں میں،
گناہ رد عمل ہے تیری نگاہوں میں،
سلگ نہ جائے کہیں اقتدار کی وادی،
کہ سرد آہ ہے مظلوم کی کراہوں میں۔
اختر قریشی۔۔۔
اب یہ منصوبہ بہرحال بنایا جائے،
ملک سے فرقہ پرستی کو مٹایا جائے،
ہچکیاں ہیں کہیں آہوں کے دھوئیں اٹھتے ہیں،
ایسے ماحول میں کیا شعر سنایا جائے۔
معصوم راشدی۔۔۔
ایک عذاب آسمانی کی طرح نازل ہے کیا،
شہر میں پھر صاحب مسند کوئی قاتل ہے کیا،
شہر کا سقراط واحد مانتا ہے خود کو جو،
اس سے بڑھ کر بھی زمانے میں کوئی جاہل ہے کیا۔
نسیم زمانیاوی۔۔۔
اپنے چشم ناز کا جادو جگا کر رکھ دیا ،
آپ نے تو مجھ کو دیوانہ بنا کے رکھ دیا ۔
ڈاکٹر جاوید کمال۔۔۔
بیتے لمحے یاد دلانے آیا ہوں میں آج یہاں،
حال دل کچھ سننے سنانے آیا ہوں میں آج یہاں،
کچھ ایسے تھے جو راہوں میں چلتے چلتے بچھڑ گئے،
دو آنسو ان پہ بھی بہانے آیا ہوں میں اج یہاں۔
ڈاکٹر نسیم غازی پوری۔۔۔
ہر آہ و فغاں درد و الم بھول گئے ہیں،
خود کو تیرے جلووں کی قسم بھول گئے ہیں،
جب سے تیرے چہرے پہ نظر اپنی پڑی ہے،
ہم ساری تلاوت کو صنم بھول گئے ہیں۔
بزم کی نظامت شاعر ہنٹر غازی پوری نے اور صدارت ڈاکٹر نسیم غازی پوری نے کی۔
