علماء اور دینی و سماجی رہنماؤں کی متفقہ ہدایت، ظہیرآباد اور اطراف کے منڈلوں میں مکمل تجارتی بند – اسپتال و میڈیکل خدمات مستثنیٰ

ظہیرآباد، 29 ستمبر (مشرقی آوازجدید): وقف ترمیمی قانون کے خلاف جاری ملک گیر تحریک کے تسلسل میں آج بعد نمازِ ظہر ادبی ہال (نزد پولیس اسٹیشن ظہیرآباد) میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف مسالک، دینی، سماجی اور صحافتی طبقات کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور موجودہ غیر اطمینان بخش قانونی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
مقررین نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے 15 ستمبر 2025 کے عبوری فیصلے کے باوجود وقف ترمیمی قانون کی کئی دفعات نافذ ہیں، جو مسلمانوں کے دینی اور آئینی حقوق کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 3 اکتوبر کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) کی ہدایت پر ملک گیر احتجاج کا دوسرا مرحلہ شروع ہو رہا ہے، جس میں تجارتی مراکز، دفاتر اور کاروباری ادارے صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک بند رہیں گے۔ عوامی سہولت کے پیشِ نظر میڈیکل شاپس اور اسپتال مستثنیٰ رہیں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ظہیرآباد کے ساتھ ساتھ کوہیر، جھرہ سنگم، مگڈم پلی اور نیالکل منڈلوں میں بھی عوام سے پرزور اپیل کی جائے تاکہ یہ احتجاج منظم، مؤثر اور ہمہ گیر ثابت ہو۔ مقررین نے کہا کہ یہ اقدام محض تجارتی بندش نہیں بلکہ ملت کی دینی و آئینی ذمہ داری اور اجتماعی شعور کا مظہر ہے۔
مقررین نے زور دیا کہ وقف و اوقاف مسلمانوں کی دینی امانت اور تاریخی ورثہ ہیں، اور ان کے خلاف کسی بھی ترمیم یا مداخلت کو ملت کبھی قبول نہیں کرے گی۔ کنوینر وقف بچاؤ، دستور بچاؤ تحریک ظہیرآباد نے کہا کہ تین اکتوبر کا احتجاج ملت کے اتحاد، بصیرت اور عزم کا روشن مظہر ہوگا، اور حکومت و متعلقہ حلقوں تک ایک واضح پیغام پہنچائے گا کہ مسلمان اپنے حقوق اور امانتوں کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔
واضح رھےکہ اس مشاورتی اجلاس میں شہر کی اہم شخصیات موجود تھے جس میں مفتی عبدالصبور قاسمی، مولانا عبدالمجیب قاسمی، مفتی نذیر احمد حسامی، جناب ایوب (MPJ)، جناب یوسف (مسلم ایکشن کمیٹی)، جناب معیز (مسلم ایکشن کمیٹی)، جناب اعجاز (صحافی)، جناب محبوب غوری (صحافی)، عبدالماجد (صدر عیدگاہ کمیٹی)، حافظ اکبر، عبدالقدیر (جمعیۃ علماء)، جناب ضمیر صاحب ایڈوکیٹ عبدالوحید، محمد مولانا کمان پٹے والے، مفتی معین، مفتی سراج، مفتی عبدالواسع، مولانا عبدالغنی، ایوب سہارا، وسیم (PT)، جناب علی صاحب، ڈاکٹر نصیر سنروہی جناب علیم صاحب جم اور خضر خان صاحب،جناب ایوب خان صاحب وسیم صاحب  اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے