ثناء عرشیہ صالحاتی
میں ایک کمپیوٹر سائنس کی طالبہ ہوں اور میں نے کوڈنگ کے دوران ایک بات اخذ کی ہے کہ اگر کوڈ لکھتے وقت ہم سے ذرا سی بھی غلطی ہو جائے تو پورا پروگرام بگڑ جاتا ہے، چاہے باقی تمام کوڈ بالکل درست لکھا ہو۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم نے پروگرام تیار کیا، ہر لائن کو دھیان سے چیک کیا، اور اطمینان کے ساتھ اسے run کیا — لیکن نتیجہ (output) کے بجائے ہمیں error ملتا ہے۔ اس وقت ہم حیران رہ جاتے ہیں کہ آخر غلطی کہاں ہے؟ ہم تو سب کچھ صحیح لکھ چکے ہیں!
پھر ہم اپنے کوڈ کا دوبارہ جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے پہلے اسپیلنگ چیک کرتے ہیں، پھر دیکھتے ہیں کہ تمام opening اور closing tags صحیح جگہ پر ہیں یا نہیں۔
اور جب ہمیں لگتا ہے کہ سب کچھ اصول کے مطابق ٹھیک ہے، تب بھی دل میں ایک خیال ابھرتا ہے کہ کہیں کوئی نہ کوئی معمولی سی بھول تو نہیں رہ گئی؟
تب ہم اپنے کوڈ کے ایک ایک حرف پر غور کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں — اور اچانک پتا چلتا ہے کہ ہم کہیں ایک معمولی سا comma (،) یا dot (.) لگانا بھول گئے تھے، یا دو حروف کے درمیان بلا وجہ space دے دی تھی۔
اسی لمحے ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر وہ چھوٹی سی غلطی مل گئی جس نے پورے پروگرام کو روک رکھا تھا۔
ہم فوراً اسے درست کرتے ہیں، اور جیسے ہی کوڈ run کرتے ہیں تو ہمارا output سامنے آ جاتا ہے۔
بلکل اسی طرح ہماری حقیقی زندگی کا بھی یہی حال ہے۔
ہم پوری جان لگا کر اپنی ترقی کے لیے محنت کرتے ہیں، لیکن جب نتیجہ نہیں ملتا تو یا تو ہم مایوس ہو کر ہار مان لیتے ہیں، یا پھر بنا سوچے سمجھے بس دن رات محنت کرتے رہتے ہیں — اور اس دوران اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں۔
دونوں حالتوں کا نتیجہ ایک ہی ہے، کیونکہ اگر میں تھک کر کوڈ پر کام چھوڑ دوں تو پروگرام کبھی مکمل نہیں ہو گا،
اور اگر میں وہی غلطی بار بار دہراتی رہوں تو بھی کامیابی ممکن نہیں، جب تک اپنی غلطی کو پہچان کر درست نہ کر لوں۔
زندگی میں بھی یہی اصول ہے۔
ہمیں صرف اتنا سمجھنے کی دیر ہوتی ہے کہ آخر وہ کون سی غلطی ہے جو ہماری ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
سب سے پہلے ہمیں اپنی کوتاہی کو پہچاننا ہے، پھر اسے درست کرنا ہے۔
جب تک ہم یہ نہ جان لیں کہ ہمیں کون سی کمزوری لاحق ہے، ہم اپنا علاج نہیں کر سکتے۔
اور جب تک ہم اپنی غلطیوں کا ادراک نہیں کر لیتے، ہم ان کی اصلاح بھی نہیں کر سکتے۔
شاید اسی لیے ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے
"انسان اپنی غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے۔”
