نعمـــان انجم عثمانی
(خادم تدریس جامعہ حفصہ محبوب نگر)
پوری انسانیت کے لیے سب سے بہترین، کامل اور ہمہ گیر نظامِ زندگی اسلام عطا کرتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات صرف عبادات یا مذہبی امور تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبے، ہر گوشے اور ہر پہلو میں اس کی رہنمائی روشن و نمایاں ہے۔
نبیِ اکرم ﷺ کائنات کے سب سے عظیم، مؤثر اور بے مثال رہنما ہیں، اور کیوں نہ ہوں! جن کے معلم خود خالقِ کائنات ہوں، ان کا ہر عمل مثالی، ہر قدم قابلِ تقلید اور ہر فیصلہ حکمت و عدل کا مظہر تھا۔ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر لمحہ نوعِ انسانی کے لیے چراغِ راہ اور ضامنِ نجات ہے۔
زیرِ نظر مضمون میں ہم حضور ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کے اُس پہلو پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے جو اسلام کے سیاسی، انتظامی اور فلاحی نظام سے متعلق ہے۔
*اسلامی نظامِ حکومت کی بنیاد♧* نبیِ آخرالزماں ﷺ نے اپنی زندگی کا ایک طویل اور قیمتی حصہ اخلاقی تربیت، انسان سازی اور کردار سازی میں صرف فرمایا۔ آپ نے واضح فرمایا کہ حاکم کی اصل ذمہ داری رعایا کی اخلاقی و روحانی اصلاح ہے۔ نتیجتاً ایک ایسی جماعت تیار ہوئی جو ایمان، ایثار اور عدل پر قائم تھی، اور اس نئے نظامِ حیات کو قبول کرنے کے لیے دل و جان سے آمادہ تھی۔
اللہ کے حکم سے جب آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو وہاں اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری کے فوراً بعد مسجدِ نبوی کی تعمیر ہوئی، جو محض عبادت گاہ نہ تھی بلکہ اسلامی ریاست کا پہلا مرکزی دفتر (سیکریٹریٹ) قرار پائی۔
*فلاحی نظام اور مؤاخاتِ مدینہ♧* مدینہ پہنچنے کے بعد آپ ﷺ نے سب سے پہلے معاشی عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے مؤاخاتِ مدینہ کا نظام قائم فرمایا۔ مہاجرین و انصار کو بھائی بھائی قرار دیا گیا۔ یہ مؤاخات اسلامی فلاحی ریاست کی پہلی اینٹ تھی، جس کی بنیاد ایثار، قربانی اور اخوت پر رکھی گئی۔
اس کے نتیجے میں معاشرتی تفریق مٹ گئی، طبقاتی امتیازات ختم ہوئے اور ایک متوازن، محبت بھرا معاشرہ وجود میں آیا۔
اس وقت مدینہ کی معیشت سودی اثرات سے آلودہ تھی۔ آپ ﷺ نے سود کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور قرضِ حسنہ کا پاکیزہ نظام رائج فرمایا۔
*میثاقِ مدینہ: پہلا تحریری دستور♧* مؤاخات کے ذریعے داخلی اتحاد قائم ہونے کے بعد ضرورت تھی کہ بیرونی خطرات اور داخلی سازشوں سے تحفظ کے لیے تمام قبائل کو ایک مشترکہ عہد پر جمع کیا جائے۔
اسی مقصد کے تحت آپ ﷺ نے ایک عظیم تحریری معاہدہ مرتب فرمایا، جو تاریخ میں میثاقِ مدینہ کے نام سے معروف ہوا۔
یہ معاہدہ دراصل دنیا کی پہلی تحریری آئینی دستاویز تھی جس نے مدینہ کو ایک شہری ریاست کی حیثیت عطا کی۔ اس میں ہر شہری کے لیے عقیدہ، جان، مال اور عزت کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔
جب دنیا ظلم و استبداد کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، اُس وقت میثاقِ مدینہ نے عدل، مساوات اور امن کا چراغ جلایا۔
یوں مدینہ منورہ امن و انصاف کا گہوارہ بن گیا اور نبیِ کریم ﷺ ایک منتظمِ اعلیٰ کے طور پر ابھرے۔
*داخلی سیاست و نظمِ حکومت♧* آپ ﷺ نے اسلامی ریاست کے استحکام کے لیے داخلی و خارجی پالیسیوں کا جامع خاکہ پیش فرمایا۔
مدینہ اور اس کے نواحی علاقوں کو ایک وحدت قرار دے کر غیر مسلم شہریوں کے ساتھ معاہدہ کیا اور انہیں مکمل شہری حیثیت عطا فرمائی۔
مسلمان قبائل کو ہدایت دی کہ وہ مدینہ کے قریب آ بسیں تاکہ آبادی، دفاع اور سیاسی پوزیشن مستحکم ہو۔
آپ ﷺ نے داخلی استحکام کے لیے امن و اخلاقی تربیت کو اولین ترجیح دی۔
ریاست کو انتشار سے محفوظ رکھنے کے لیے آپ نے ہر موقع پر حکیمانہ تدابیر اختیار فرمائیں۔
بعض امور وحی کی روشنی میں طے پاتے، اور جن معاملات میں وحی نازل نہ ہوتی، وہاں آپ ﷺ اپنے اصحابِ کرامؓ سے مشاورت فرمایا کرتے۔
*انتظامی و مالیاتی ڈھانچہ اور عدلیہ♧* آپﷺنے ریاست کے نظم و نسق کو چلانے کے لیے ایک مستحکم انتظامی ڈھانچہ بھی تشکیل دیا:
مالیاتی نظام: اسلامی فلاحی نظام کے تحت مالداروں سے زکوٰۃ و صدقات کی وصولی کو لازمی قرار دیا گیا۔ یہ رقم دراصل ریاست کا وہ ٹیکس تھا جو غرباء، مساکین اور حاجت مندوں کا حق تھا اور معاشی توازن قائم رکھنے کا بنیادی ذریعہ تھا۔
عدالتی نظام: ریاست میں انصاف کی بالادستی کے لیے مختلف علاقوں میں قاضیوں کا تقرر فرمایا گیا تاکہ ہر شہری کو مذہب اور حیثیت سے بالاتر ہو کر فوری اور یکساں عدل میسر آسکے۔
*تعلیم، احتساب اور سماجی اصلاح♧* اسلامی ریاست میں تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ ہجرت سے قبل ہی آپ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو مدینہ میں معلم مقرر فرمایا۔
بعد از ہجرت مسجدِ نبوی میں صفہ چبوترا قائم کیا گیا جو پہلا باقاعدہ دارالعلم تھا۔
یہیں سے تعلیم و تعلم کا سلسلہ باقاعدہ شروع ہوا۔
احتساب کے لیے کوئی علیحدہ محکمہ قائم نہ تھا، مگر خود نبیِ کریم ﷺ براہِ راست نگرانی فرماتے۔
بازاروں کا دورہ کرتے، ناپ تول اور تجارت میں انصاف کو یقینی بناتے۔
نوجوانوں کو فنونِ جنگ کی تربیت دینا لازم قرار دیا، اور خواتین کو گھریلو صنعتوں کے ساتھ ساتھ علاج و معالجہ کے کاموں میں شریک فرمایا۔
*اسلامی ریاست کا مقصد♧* آپ ﷺ کی حکومت دینی و اخلاقی بنیادوں پر قائم تھی۔
اس کا مقصد محض اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ رضائے الٰہی اور عوامی بہبود تھا۔
آپ ﷺ دعا فرمایا کرتے: *اَللّٰهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِالْإِمَارَةِ*
اے اللہ! اقتدار کے ذریعے اسلام کی مدد فرما۔
اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی۔ آپ ﷺ کے زیرِ قیادت ایک ایسا مثالی سیاسی و فلاحی نظام قائم ہوا جس میں عدل، مساوات، شفقت، ذمہ داری اور خدمتِ خلق کی روح کارفرما تھی۔
اس طرح نبیِ رحمت ﷺنے نہ صرف انسانیت کو روحانی و اخلاقی رہنمائی عطا فرمائی بلکہ ایک ایسا منظم، عادلانہ اور فلاحی سیاسی نظام قائم فرمایا جو انسانی تاریخ کا روشن ترین باب ہے۔
اسلام کا یہ نظام آج بھی دنیا کے لیے امن، انصاف اور رحمت کا سرچشمہ ہے۔ یہی وہ نظام ہے جو انسان کو غلامی سے آزادی، ظلم سے نجات اور باہمی اخوت و مساوات کی حقیقی نعمت عطا کرتا ہے۔
یوں مدینہ کی مختصر ریاست نے جدید دنیا کی تمام ریاستی اکائیوں کے لیے گولڈن اسٹینڈرڈ قائم فرمادیا۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیوی حکومتیں یا کم از کم مسلم حکومتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جامع نظام کی پیروی کریں تاکہ دنیا میں امن وسرخ روئی اور آخرت میں نجات پاسکیں-
