ہمایوں اقبال ندوی

گونڈا کے اندرا نگر میں خودکشی کا ایک عجیب و غریب واقعہ پیش ایا ہے۔ ایک خاتون نے صرف اس لیے خود کشی کر لی کہ اس کا شوہر اسے طلاق دیناچاہتا تھا ، یہ ساری باتیں خودکشی سے پہلے آن کیمرہ مذکورہ خاتون کہہ رہی ہے:” مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے۔ پھر بھی میرا ادمی مجھے طلاق دینا چاہتا ہے۔ ریزن یہ ہے کہ میرا بھائی وہاں سے موبائل لے کر آیا تھا، وہ پیسے مانگ رہا ہے کہ پیسے مجھے مل جائیں گے تواس کے بعد موبائل واپس کر دوں گا، میری ان سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے، مگر میرے آدمی کو ایسا لگ رہا ہے میں اپنے گھر والوں کی طرف سے بول رہی ہوں، اس لیے وہ مجھے طلاق دے رہا ہے، میں طلاق نہیں لے سکتی لیکن اپنی جان دے سکتی ہوں”۔

مذکورہ خاتون کا یہ بیان میں درد چھپا ہوا ہے جسے ہر کوئی محسوس کرسکتا ہے، نیز بڑی خوبصورتی سے اس بہن نے ہر شوہر کے لئے ایک اہم پیغام چھوڑا ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عموما میاں بیوی میں تلخی غلط فہمی کی بنیاد پر پیدا ہوتی ہے، بیوی شوہر کو اعتماد میں لینے کی کوشش کرتی ہے، مگر معاملہ جب کسی قریب و عزیز کا ہوتا ہے تو شوہر کسی حال میں تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتا ہے اور بیوی کو مورد الزام ٹھہرانے لگتا ہے اور اس میں حد سے گزر جاتا ہے، اس موقع پر طلاق کو بطور ہتھیار کے استعمال کرتا ہے اور بات بات پر طلاق کی دھمکی دیتا ہے کہ، میں تجھے چھوڑ دوں گا، طلاق دے دوں گا، یہ بات ایک عورت کو بہت بری لگتی ہےاور ذہنی اذیت میں مبتلا ہو جاتی ہے، اس کے عجیب و غریب نتائج سامنے آتے ہیں،اور یہ خودکشی کا واقعہ اسی کا شاخسانہ ہے۔ آج بیوی کے حقوق پر بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف نان، نفقہ اور سکنہ بیوی کا حق ہے،یہ کم علمی کی بات ہے۔ ایک شخص نے آکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ بیوی کا حق شوہر پر کیا ہےتو آپ نے فرمایا:جب خود کھائے تو اس کو کھلائے، جب خود پہنے تو اس کو پہنائے، نہ اس کے منھ پر تھپڑ مارے نہ اس کو برا بھلا کہے اور نہ گھر کے علاوہ اس کی سزا کے لئے اس کو علیحدہ کرے (ابن ماجہ)۔

ہر وہ عمل جس سے میاں بیوی میں دوری پیدا ہو شریعت نے منع کیا ہے اور کھانے، پینے اور پہنے میں کسی تفریق کی اجازت شوہر کو نہیں دی ہے، اور دھمکی تو بڑی بات ہے برا بھلا کہنے کی بھی شرعی اجازت نہیں ہے۔ عورت نافرمانی کرے تو اس کو بطور تنبیہ کے ہلکی مار کی گنجائش تو شریعت میں ہے مگر ڈانٹ ڈپٹ، دھمکی اور دھونس کی اجازت نہیں ہے۔ دراصل یہاں شریعت اسلامیہ نے صنف نازک کے مزاج کا بڑا پاس و لحاظ کیا ہے۔ بنت حوا مار برداشت کرسکتی ہے مگر بات برداشت نہیں کرتی ہے، جسمانی تکلیف وہ برداشت کرسکتی ہے مگر قلبی صدمہ انہیں برداشت نہیں ہے۔ مثل مشہور ہے کہ زبان کا زخم تلوار کے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ آج طلاق اور خواتین میں خودکشی کی ایک بڑی وجہ یہی ہے۔افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس کا احساس ہمیں نہیں ہے جبکہ غیروں نے اسے خوب محسوس کرلیا ہے اور اس حوالہ سے امت مسلمہ ہندیہ کے خلاف آج منظم سازش شروع کردی گئی ہے۔ بھگوا لو ٹریپ کا یہی فنڈا ہے وہ ایسی مسلم بچیوں کو نشانہ بناتے ہیں جنکی دینی تعلیم و تربیت نہیں ہوئی ہے، انہیں یہ خوف دلاتے ہیں کہ بات بات پر تمہیں طلاق دیدی جاتی ہے ،پھر تمہاری زندگی اجیرن بن جاتی ہے، ہم ایسے لوگ نہیں ہیں، ہم عورت کی قدر کرتے ہیں اور ان کی عزت کرنا جانتے ہیں وغیرہ ۰۰۰اس طرح انہیں اعتماد میں لیکر ارتداد کا شکار بنالیا جاتا ہے۔اس کے سد باب کے لئے اس وقت خواتین اسلام کو ان کی عظمت سے روشناس کرانا ضروری ہے اور عملی طور انہیں یہ باور کرانا بھی لازمی ہے۔اور یہ کام مردوں کے ذمہ ہے،وہ اس لئے کہ انہیں قوام اور ذمہ دار بنایا گیا ہے، قران کریم نے یہ حکم شوہروں کو دیا ہے کہ:تم ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو (سورہ نساء) اور حدیث شریف میں فرمان رسول ہے: تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہترین سلوک کرنے والا ہے (ترمذی)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمایوں اقبال ندوی 

نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ

۲۳/اکتوبر ۲۰۲۳ء بروز جمعرات

One thought on “خواتین کی خودکشی اور ارتداد کی ایک وجہ”
  1. بے شک بہترین مرد وہ ہے جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔
    تقریبا 10 دن پہلے کوچہادھامن حلقہ اسمبلی مجکوڑی پنچائیت مچکوری گاؤں کی ایک بچی کی نکاح اسیانی پنچایت کھٹا ٹولی گاؤں میں ہوا تھا جو خالہ زاد بھائی کے ساتھ جو سعودی عرب میں مدینہ منورہ میں ایک کمپنی الدریز میں کام کر رہا تھا ۔
    اسی دوران اپنی بیوی کے ساتھ ان کے پیار و محبت کی نسبت پر نکاح ہوا تھا نہ جانے کون ایسی بات ہوئی کہ ویڈیو کال میں بی بی گھر پر پھانسی لگا کر خودکشی کر لیا وہیں اس کی شوہر یہ منظر دیکھ کر برداشت نہ کر سکا سعودی عرب مدینہ منورہ میں بلڈنگ کے اوپر جا کر پھانسی لگا کر وہ بھی خود کشی کر لی دونوں کی انتقال ہو گیا انا للہ وانا الیہ راجعون
    اس پر اپ بھی تبصرہ کیا جائے خاص کر دیہات گاؤں میں دینی تعلیم کی بہت ہی ضرورت ہے ہمارے کشن گنج کے مقبول مرحوم حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی صاحب کی جو مکاتب شروع ہوا تھا وہ کسی گاؤں میں نظر نہیں ا رہا ہے اپ ذمہ داران حضرات سے محدبنہ گزارش ہے گاؤں گاؤں ٹولہ ٹولہ محلہ محلہ تعلیم و تربیت کا ذمہ لیں اور اس کو ایماندارانہ مخلصانہ طور پر انظام دے 🙏
    ناچیز محمد منتظیم عالم گرام لاءتور مجکوری پنچایت کوچہ دام ن منظانب سعودی عرب سے مخاطب ہوں۔
    ایک اور اپیل تبلیغ جماعت کی جو کام ہو رہے ہیں اس میں بھی تبدیلی ہونا ضروری ہے کیونکہ میں خود اپنی خاندان اور کنبہ اقاربوں میں دیکھا ہوں
    جو تبلیغ جماعت کے کاموں کو میں زیادہ ترجیح دے رہے ہیں اور گھر میں بیٹا بیٹیوں کی شادی اور نکاح اور تقریب کو بلائے طاق رکھ کر تبلیغ جماعت کے کام کو افضل منا جاتا ہے
    تقریبوں کو چھوڑ کر تین دن 40 دن چار مہینہ نام لکھا ہوا ہے تو وہاں جانا بہتر سمجھتے ہیں اس کو چھوڑ دیتے ہیں جس وجہ سے خاندانوں میں درار پیدا ہو رہی ہے۔
    اور ایسے پروگراموں کو چھوڑ کر تبلیغ کے کام میں لگ جاتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے