محمدیوسف رحیم بیدری ۔ بیدرکرناٹک
۱۔ امام الدین
بچہ سڑک پر گر گیاتھا۔ خون بہہ رہاتھا۔ کوئی صاحب تھے جو بچے کو لے کراسپتال پہنچے۔ اسی اثناء میں ایک صاحب اسپتال میں داخل ہوئے اوران سے مل کر کہا’’شکریہ صاحب ، آپ نے میرے بچے کو اسپتال پہنچایا۔ میں آپ کاشکرگزار ہوں ‘‘
وہ صاحب بولے ’’کوئی بات نہیں شاکر بھائی،یہ تو میرافرض تھا‘‘ شاکر صاحب نے پوچھا ’’آپ مجھے پہچانتے ہیں؟‘‘ سامنے والے صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا’’ کیوں نہیں پہچانتا؟مجھے امام الدین کہتے ہیں۔ میں آپ کا پڑوسی ہوں۔ آپ کے گھر سے تین گھر پہلے کونے والا میرامکان ہے ‘‘
۲۔ سنت موکدہ
’’پڑوسی تک کھانا پہنچانا سنت موکدہ ہے‘‘ والد نے کہاتو ان کی دخترصبیحہ نے پوچھا’’ابو، سنت ِموکدہ کامطلب کیاہوتاہے ؟‘‘ والد نے ننھی صبیحہ کو گود میں اٹھالیا اور کہاکہ ’’مجھے لگتاہے میری بیٹی میری جانشین بنے گی۔ ایسے سوال کرتی ہے جس سے دل خوش ہوجاتاہے‘‘صبیحہ نے والد کی ٹھوڑی پکڑ کرنازسے کہا’’ابو پہلے میرے سوال کاجواب دیجئے گا ‘‘ابونے ہنس کر کہا’’سنت موکدہ کامطلب ہوتاہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی سنت جس پرچلنے کی انھوں نے تاکید کی ہو‘‘
’’توکیا ہردن پڑوسی تک کھانا پہنچانا چاہیے ؟‘‘ صبیحہ نے دوسرا سوال داغ دیا۔ ابو نے اس کاجواب بھی مسکراکردیا اور کہاکہ ’’ہردن پڑوسی تک کھانا اس وقت پہنچانا چاہیے جب وہ ضرورت مند ہو۔ لیکن جب کبھی گھر میں بریانی بنے ، تہاری بن جائے ، پلاؤ پکے ، یا پائے وغیرہ پکیں ۔ شامی کباب ہوں ، گوشت کاسالن ہویااپناپسندیدہ سالن بنے تو پڑوس میں ضرور بھیجنا چاہیے ‘‘
صبیحہ نے کہا’’یہ سب کون کرتاہے ابو ، امی تو آپ کے ٹوکنے یاغصہ کرنے پر ہی پڑوس میں سالن بھیجتی ہیں، ورنہ نہیں ‘‘ ابو کچھ نہ بولے ۔وہاں سے نکل لینے میں عافیت جانی۔
۳۔ غلط فہمیوں کے درمیان
شہر کے حالات خراب ہورہے تھے ایسے میں بھائی کا ، بھاوج کا ، بھتیجوں اور خود امی کابھی کہناتھاکہ اس کالونی سے مجھے نکل آنا چاہیے جہاں میں نے نیانیابنگلہ بنایاتھا۔ اوراس بنگلے میں شفٹ ہوئے دوسال ہی گزرے تھے۔ میں نے نہیں مانا۔ میراکہناتھاکہ سبھی اچھے لوگ ہیں۔ کہاگیاکہ وہ کالونی غیرمسلمین کی ہے۔ اگرکچھ ہوگیاتو ہم بھی بچانے نہیں آسکتے ۔ بعد میں رونے دھونے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘‘
میں نہ چاہتے ہوئے بھی بنگلہ چھوڑآیا۔ میری آنکھوں میں آنسوتھے۔ پھرایک دن میرے خالی بنگلے کو شرپسندوں نے آگ لگادی تو میری آنکھوں کے آنسو خشک ہوگئے۔ میں نے جانا کہ دراصل میرا موقف جذباتی تھا ۔ بھائی بھاوج اور امی وبھتیجے حالات کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ مجھ سے زیادہ جانتے تھے ۔ اس نقصان کے باوجود بھی میراخیال ہے کہ سبھی پڑوسی اچھے ہوتے ہیں ۔ ہمارے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں ۔ ان غلط فہمیوں کو دور ہوناچاہیے ۔ ورنہ یہ زمین فساد سے بھر جائے گی ، انسانوں کے رہنے لائق نہیں ہوگی۔ اوریہ کام خود انسان اپنے ہاتھوں سے انجام دے گا۔ کیا ایسا ہونا چاہیے ؟
۴۔ کالا بھجنگ
وہ غیرمسلم ہونے کے علاوہ ایک کالا اور بدہیئت شخص تھا۔ پڑوس میں آکرکرائے کے مکان میں رہ رہاتھا۔ میرے بچے اس شخص سے ڈرمحسوس کررہے تھے جب کہ اس کی بیوی سانولے رنگ کی تھی لیکن بے حد اچھے مزاج کی تھی۔ میری اہلیہ کو کوئی اعتراض نہیں تھا کیوں کہ تین ماہ بعد پڑوس آباد ہواتھا، لیکن میراخیال تھاکہ میرے بچے ڈررہے ہیں ، اس لئے اس شخص کو یہاں سے جتنی جلد ہوسکے ، نکل جانا
چاہیے۔
میں نے مالک مکان سے مل کر اس کی شکایت کی اور کہاکہ’’ میرے چھوٹے چھوٹے اور خوب صورت بچے ڈر رہے ہیں ، آپ براہ کرم مکان خالی کروادیں ‘‘ مالک مکان میری طرح مسلمان تھے اور
اللہ والے شخص تھے ۔ انھوں نے کہا’’بچے آج ڈر رہے ہیں ، یہ ایک خیالی ڈر ہے ۔ کل نہیں ڈریں گے ان شاء اللہ ‘‘ میں نے مالک مکان کے تیقن کو نظر انداز کرتے ہوئے کہاکہ ’’آپ کے دل میں میرے بارے میں کوئی غلط فہمی بسی ہوئی ہے اسی لئے آپ میرے بچوں کے نقصان کوسمجھ نہیںپارہے ہیں جب کہ میں مسلمان بھی ہوں‘‘
وہ کہنے لگے ’’اس میں نقصان کی کیابات ہے ، اس غیرمسلم شخص نے نہ کبھی آپ کے بچوں کو ہاتھ لگایا اور نہ ہی ڈرایا دھمکایا ۔ اس کے باوجود صرف ڈر کی بنیاد پر کسی کو مطعون کرنایانکل جانے کے لئے کہنا درست نہیں ‘‘
میں نے جب نہیں مانا تو مالک مکان نے غصے سے کہا’’بھائی ، اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں برے ہمسایوں کے ساتھ بھی عمدہ اخلاق کے ساتھ پیش آنے کی تاکید کی ہے ۔ان یہودیوں کابھی ذکر ملتاہے جو حضور اکرم ﷺ کو ستایاکرتے تھے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ آخر آپ کون سی دنیا میں ہیں ، اپنے ایک فرضی خوف کو اپنے پڑوسی کے ساتھ نتھی کررہے ہیں؟قرآن اور نبی کی سیرت کو آپ نے پڑھا ہے کہ نہیں ہے؟‘‘
اللہ اور رسول کی بات کا حوالہ میری ضد کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کافی تھا۔ واقعی اولاد کی محبت میں اللہ اور رسول کے احکامات کومیں بھولتاجا رہاتھا۔وہ دن ہے اور آج کا دن ،میراکالابھجنگ پڑوسی میرااچھا دوست ہے ۔ میں اس کو ’’کالابھجنگ ‘‘ کہتاہوں تو وہ برانہیں مانتا۔ البتہ وہ مجھے ’’گوراانگریز‘‘ کہنانہیں بھولتا۔شاید اسے ہی نہلے پہ دھلا کہتے ہیں۔
