از: مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی
ناظم تعلیمات: دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر(راجستھان)
برصغیر کی روحانی تاریخ میں خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کو وہی درجہ حاصل ہے جو دل کو جسم میں حاصل ہوتا ہے۔ اس مرکزِ علم و عرفان سے ایسی ایسی ہستیاں اُبھریں جنہوں نے دینی و روحانی فضا کو ایمان و اخلاص کی خوشبوؤں سے معطر کر دیا۔ انہی زریں سلسلۂ مشائخ میں ایک تابندہ نام ہے
حضرت سید شاہ ابوالقاسم اسماعیل حسن عرف شاہ جی میاں مارہروی علیہ الرحمہ،
جنہیں اہلِ محبت و عقیدت "صاحبِ عرسِ قاسمی” اور "مجددِ برکاتیت” کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔
ولادت و ابتدائی زندگی:
حضرت شاہ جی میاں علیہ الرحمہ کی ولادت 3 محرم الحرام 1272ھ مطابق 1855ء کو مارہرہ مقدسہ کی پاکیزہ فضا میں ہوئی۔ آپ کا تعلق اس خانوادۂ برکاتیت سے ہے جس کی جڑیں ولایت، علم، اور عرفان میں پیوست ہیں۔
آپ کے نانا حضور امیرِ عالم سید شاہ غلام محی الدین مارہروی قدس سرہ اور والدِ ماجد حضرت سید شاہ محمد صادق برکاتی علیہ الرحمہ دونوں ہی عظیم مشائخ و اولیاء میں سے تھے۔
یوں حضرت شاہ جی میاں بچپن ہی سے روحانیت کے سائے، تقویٰ کے اجالے اور علم کے نور میں پرورش پانے لگے۔
تعلیم و تربیت:
حضرت شاہ جی میاں کی رسم بسم اللہ خوانی حضرت خاتم الاُکابر سید شاہ آلِ رسول احمدی مارہروی قدس سرہ نے ادا فرمائی۔
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی کے زیرِ سایہ حاصل کی۔
آپ کے اساتذہ میں اُس عہد کے جلیل القدر علماء و فحولِ فضلائے دین شامل ہیں جن کے نام آج بھی درس و تدریس کی تاریخ میں روشن ہیں۔
حضرت تاج العلما علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ”حضرت شاہ جی میاں نے قرآنِ کریم کو حافظ ولی داد خان مارہروی، حافظ قادر علی لکھنوی اور حافظ عبد الکریم ملک پوری سے حفظ کیا،
جب کہ درسی علوم کی تکمیل مولوی عبدالشکور صاحب، عبدالغنی صاحب، مولوی محمد علی لکھنوی، محمد حسن سنبھلی، مولوی فضل اللہ فرنگی محلی، اور تاج الفحول مولانا عبدالقادر بدایونی رحمہم اللہ سے فرمائی۔”
یوں علم و فضل، تدبر و فہم، اور فقہ و حدیث کی روشنی آپ کے قلب و باطن میں جاگزیں ہوگئی۔
بیعت و خلافت:
حضرت سید شاہ ابوالقاسم اسماعیل حسن برکاتی علیہ الرحمہ کو بیعت و خلافت کا شرف اپنے نانا حضور امیرِ عالم سید شاہ غلام محی الدین مارہروی قدس سرہ العزیز سے حاصل تھا۔
بعدہ آپ کے والدِ ماجد حضرت سید شاہ محمد صادق علیہ الرحمہ نے بھی اپنی خلافت سے نوازا۔
یوں آپ خانقاہِ برکاتیہ کے علمی و روحانی سلسلے میں دوہرے فیض یافتہ قرار پائے۔۔۔ ایک فیضانِ علم سے، دوسرا فیضانِ سلوک و معرفت سے۔
سلوک و معرفت:
راہِ تصوف میں حضرت شاہ جی میاں علیہ الرحمہ نے سیر و سلوک کی منازل اپنے عظیم اساتذہ اور مشائخ سے طے کیں۔
آپ نے سلوک و طریقت کے اسرار و رموز حضرت خاتم الاُکابر سید شاہ آلِ رسول احمدی مارہروی،
سراج السالکین حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی،
اور تاج الفحول حضرت مولانا عبدالقادر بدایونی رحمہم اللہ سے حاصل فرمائے۔
آپ کو علومِ باطنی کے ساتھ ساتھ علمِ جفر، علمِ رمل، اور علمِ تکسیر میں بھی کامل مہارت حاصل تھی۔
علمی وراثت و کتب خانہ برکاتیہ:
علم و تحقیق کی محبت خاندانِ برکاتیت کا خاندانی شیوہ رہا ہے۔
حضرت شاہ جی میاں نے اپنے اسلاف کے علمی ورثے کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ اسے آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
آپ کے اہتمام سے خانقاہِ برکاتیہ میں ایک قدیم و نادر کتب خانہ وجود میں آیا جس میں فنونِ مختلفہ کی نادر و نایاب کتابیں آج بھی موجود ہیں۔
آپ نے اپنے اعزّا و اقربا اور مریدین کو علمِ دین کے زیور سے آراستہ کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے علم و عرفان کا یہ چراغ روشن رکھا۔
مجددِ برکاتیت:
حضرت سید شاہ ابوالقاسم اسماعیل حسن مارہروی علیہ الرحمہ کا زمانہ وہ تھا جب خانقاہِ برکاتیہ کو علمی، فکری اور خانقاہی روایتوں کے استحکام کی سخت ضرورت تھی۔
ایسے وقت میں آپ نے ایک مجددانہ کردار ادا کیا۔
آپ نے نہ صرف علم و طریقت کی ترویج کی بلکہ خانقاہی روایات کو نئی زندگی عطا کی۔
آپ نے اپنے نواسوں اور فرزندانِ برکاتیت کو علم و عرفان کے سانچے میں ڈھالا، بیٹیوں کو حافظہ قرآن بنایا،
خانقاہ کی نشستوں کو علم و ذکر سے منور کیا،
اور اہلِ علم و روحانیت کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے۔
اسی تجدیدی روح کی بنیاد پر آپ کو بجا طور پر "مجددِ برکاتیت” کہا جاتا ہے۔
خلفاء و سجادہ نشین:
آپ کے خلفاء میں اکابرینِ مارہرہ کے وہ روشن چراغ شامل ہیں جنہوں نے خانقاہ کی شان و شوکت کو دوام بخشا:
حضرت سید شاہ غلام محی الدین فقیرِ عالم علیہ الرحمہ،
حضرت سید شاہ اولادِ رسول محمد میاں علیہ الرحمہ، سیدالعلماء حضرت سید شاہ آلِ مصطفیٰ سید میاں علیہ الرحمہ، احسن العلماء حضرت سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں علیہ الرحمہ۔
آپ نے اپنی حیاتِ ظاہری ہی میں اپنے محبوب و حقیقی نواسے حضرت احسن العلماء علیہ الرحمہ کو سجادہ نشین مقرر فرمایا۔
آج الحمدللہ! وہی سلسلہ برکاتیت کی تجدید کا پرچم لیے،
آپ کے فرزندِ اکبر حضرت امینِ ملت دامت برکاتہم العالیہ کی قیادت میں فروزاں و تاباں ہے،
جن کی مساعیِ جمیلہ سے عرسِ قاسمی کی روحانیت دو چند ہوگئی ہے۔
وصال:
حضرت شاہ جی میاں علیہ الرحمہ کا وصال یکم صفر 1347ھ میں مارہرہ مقدسہ میں ہوا۔
آپ کا مزارِ پرانوار آج بھی فیوض و برکات کا سرچشمہ ہے،
جہاں زائرینِ برکاتیت اپنے دلوں کی دنیا کو منور کرنے حاضر ہوتے ہیں۔
الحاصل:حضرت شاہ ابوالقاسم اسماعیل حسن المعروف شاہ جی میاں مارہروی علیہ الرحمہ نے علم، عشق، اور خدمتِ دین کو ایک لڑی میں پرو دیا۔
آپ نے خانقاہِ برکاتیہ کو ایسا روحانی مرکز بنایا جو آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے رشد و ہدایت کی شمع ہے۔
بے شک آپ وہ ہستی ہیں جنہوں نے علم و عرفان کی میراث کو محفوظ رکھا،
اور روحانیت و شریعت کی راہوں کو ازسرِ نو روشن کیا۔
اسی لیے آپ کا لقب "مجددِ برکاتیت” اہلِ دل کے نزدیک ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔
اللہ رب العزت حضرت سید شاہ ابوالقاسم اسماعیل حسن مارہروی علیہ الرحمہ کے درجات کو بلند فرمائے،ان کے فیوض و برکات سے ہمیں، ہماری نسلوں اور پوری امتِ مسلمہ کو حصہ عطا فرمائے،
خانقاہِ برکاتیہ کی روحانی و علمی روشنی کو تا ابد قائم و دائم رکھے،
اور ہمیں اُن کے نقشِ قدم پر چلنے، عشق و اخلاص کے ساتھ دین و ملت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ
