تحریر: مفتی نذیر احمد حسامی ظہیرآباد

  وقف کی جائیدادیں مسلمانانِ ہند کا وہ بے بہا روحانی اور سماجی سرمایہ ہیں جنہیں ہمارے اسلاف نے دینی، تعلیمی اور فلاحی مقاصد کے لیے اللہ کی راہ میں وقف کیا۔ مسجد کی محراب، مدرسے کی درسگاہ، قبرستان کی خاموش زمین یا کسی مسافر خانے کی چھت یہ سب وقف کی صورت میں اللہ کے نام پر قائم وہ امانتیں ہیں جو بندوں کی بھلائی کے لیے ہمیشہ سے موجود ہیں۔ فقہائے کرام نے وقف کو صدقۂ جاریہ قرار دیا ہے، ایسا صدقہ جس کا ثواب موت کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ روزِ قیامت تک جاری رہتا ہے۔
    مگر افسوس کہ آج انہی اوقافی جائیدادوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔ کہیں ناجائز قبضے ہیں، کہیں کاغذی کمزوریاں، اور کہیں متولیوں کی غفلت و لاپرواہی ان قیمتی امانتوں کو ضائع کر رہی ہے۔ ایسے میں ان کا تحفظ ایک شرعی، اخلاقی اور اجتماعی فریضہ بن چکا ہے۔ ان حالات کے پیشِ نظر حکومتِ ہند کی وزارتِ اقلیتی امور نے ایک نیا نظام قائم کیا ہے جسے “اُمید پورٹل” کہا جاتا ہے۔
    یہ نظام اوقافی املاک کے تحفظ، شفاف انتظام اور باقاعدہ نگرانی کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی وقف جائیداد ضائع نہ ہو سکے اور اس کا ریکارڈ ہمیشہ محفوظ رہے۔ “اُمید” بظاہر ایک احساس ہے مگر دراصل ایک منظم منصوبہ بھی ہے۔ یہ لفظ انگریزی کے حروف UMEED کا مجموعہ ہے، اُمید پورٹل
U.M.E.E.D Portal = Unified Management of Endowments and E-Database Portal یونِفائیڈ مینیجمنٹ آف اینڈاؤمنٹس اینڈ ای۔ڈیٹابیس پورٹل یعنی اوقافی املاک کے متحدہ نظم و نسق اور برقی معلوماتی نظام کا مرکزی آن لائن پلیٹ فارم۔
     یہ منصوبہ 6 جون 2025 کو وزیرِ اقلیتی امور جناب کرن رجیجو نے باقاعدہ طور پر جاری کیا اور اسے ملک میں اوقاف کے تحفظ کے لیے سنگِ میل قرار دیا۔ اس نظام کے تحت ہند کے تمام ریاستی وقف بورڈز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی حدود میں موجود تمام اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات “اُمید پورٹل” پر درج کریں۔ اس اندراج میں جائیداد کی نوعیت، محلِ وقوع، رقبہ، وقف نامہ اور متولی کی شناخت شامل ہوتی ہے۔ بورڈ کی منظوری کے بعد ہر جائیداد کو ایک مخصوص کوڈ دیا جاتا ہے جس سے وہ مرکزی ریکارڈ میں شامل ہوجاتی ہے۔ اس طرح اگر خدانخواستہ کوئی تنازع یا قبضہ پیش آئے تو اس آن لائن ریکارڈ کے ذریعے فوری ثبوت فراہم کیا جا سکتا ہے، جو قانونی دفاع کے لیے نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔
رجسٹریشن کی قانونی حیثیت اور ضرورت  
     حالیہ برسوں میں حکومتِ ہند نے اوقافی جائیدادوں کے درست ریکارڈ کے تحفظ کے لیے مرکزی سطح پر UMEED پورٹل کو وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت قانونی درجہ دیا ہے، اور تمام اوقافی املاک کا اس پورٹل پر اندراج لازمی قرار دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، غیر قانونی قبضوں سے بچاؤ فراہم کرنا، اور ہر وقف کی قانونی شناخت قائم کرنا ہے۔
    وقف ایکٹ کے مطابق، اگر کسی مسجد، مدرسے یا قبرستان کا مقررہ مدت میں اندراج نہیں کرایا جاتا، تو ایسی جائیداد کی قانونی حیثیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں وہ ‘متنازعہ’ قرار پا کر وقف ٹریبونل یا سرکاری تحویل میں بھی جا سکتی ہے۔ اس لیے یہ لازم ہے کہ تمام بڑی یا چھوٹی اوقافی زمینیں وقت پر درج ہوں تاکہ مستقبل میں کسی نقصان یا عدالتی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
 خدشات اور حقیقت  
     بعض متولی اور منتظمین کے دلوں میں یہ اندیشہ پایا جاتا ہے کہ رجسٹریشن کے بعد حکومت کی مداخلت بڑھے گی یا احتساب زیادہ سخت ہو جائے گا۔ یہ خدشہ کسی حد تک قابلِ فہم ضرور ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اندراج نہ کرانے کی صورت میں نقصان کہیں زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ رجسٹریشن سے نہ صرف قانونی تحفظ بڑھ جاتا ہے بلکہ وقف بورڈ اور عدالتوں میں ریکارڈ پیش کرنا بھی آسان ہوتا ہے، غیر مجاز قبضوں یا حکومتی دعووں کے خلاف مضبوط دفاع ممکن ہوجاتا ہے۔
 چھوٹی اور بڑی جائیداد میں امتیاز کا مسئلہ  
    اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صرف بڑی اوقافی اراضیوں کا اندراج ضروری ہے، جب کہ چند سو گز پر قائم چھوٹے مدارس یا قبرستان کے لیے زبانی اقرار یا اسٹامپ پیپر کافی ہے۔ یہ غلط تصور ہے۔ وقف ایکٹ کے مطابق ہر جائیداد کے لیے قانون یکساں ہے۔ رقبہ تین سو گز ہو یا تیس ایکڑ، اندراج ضروری ہے۔ اسٹامپ پیپر پر لکھا اقرار قانونی وقف نامہ نہیں مانا جاتا، بلکہ صرف نیتِ وقف کا عندیہ سمجھا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر عدالت میں مقدمہ جیتنا مشکل ہو سکتا ہے۔
 عملی رہنمائی برائے متولیان  
    رجسٹریشن سے قبل متولیوں کو چاہیے کہ مستند علما اور قانونی ماہرین سے مشورہ لیں تاکہ کسی غلطی یا کمی کے باعث حقوق متاثر نہ ہوں۔ جہاں وقف نامہ موجود نہیں، وہاں درج ذیل اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں، دستیاب تمام ثبوت مثلاً پرانے بجلی کے بل، مدرسے یا مسجد کے رجسٹر، مقامی گواہوں کے بیانات، اور اسٹامپ پیپر پر تحریری اقرارات جمع کریں۔ متعلقہ ریاستی وقف بورڈ سے معلوم کریں کہ ان متبادل ثبوتوں کی بنیاد پر اندراج کا طریقہ کیا ہے، ضرورت پڑنے پر وقف ٹریبونل کے ذریعے زمین کو باقاعدہ وقف قرار دلوا کر قانونی تحفظ حاصل کریں۔
رجسٹریشن کرنے کا عمل اور طریقہ
      رجسٹریشن کا عمل یہ عمل دو حصوں میں مکمل ہوتا ہے:متولی کی تفصیلات سب سے پہلے ویب سائٹ 🔗 umeed.minorityaffairs.gov.in پر جائیں۔
Register / Enrolment پر کلک کریں، نام، پتہ، موبائل اور ای میل درج کریں، پھر OTP سے تصدیق کریں۔آدھار کارڈ، پتہ کا ثبوت، تقرری نامہ اور تصویر اپ لوڈ کریں۔
آخر میں Captcha درج کر کے Submit کریں۔
 وقف جائیداد کی تفصیلات، ریاستی وقف بورڈ منتخب کریں۔ اگر پرانا Waqf ID موجود ہو تو درج کریں۔جائیداد کی نوعیت (مسجد، مدرسہ، قبرستان، درگاہ وغیرہ) منتخب کریں۔پتہ، حدود، رقبہ اور محلِ وقوع درج کریں۔وقف نامہ (Waqf Deed) اور تصاویر اپ لوڈ کریں۔
Geo-Tagging مکمل کر کے تمام تفصیلات کا جائزہ لیں  Submit کریں
 شرعی زاویہ اور دینی رہنمائی  
      شریعت کے مطابق جب کوئی چیز اللہ کے لیے وقف کر دی جاتی ہے تو وہ بندے کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور اللہ کی ملکیت بن جاتی ہے، جسے کسی حکومت یا فرد کی ملکیت نہیں بنایا جا سکتا۔ البتہ اگر کسی قانونی نظام کے ذریعے اس وقف کی حفاظت ممکن ہو تو اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، بشرطیکہ اس سے وقف کی اصل روح متاثر نہ ہو۔
     آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے 19 اکتوبر 2025 کے اعلامیہ میں وضاحت کی تھی کہ اوقاف کا رجسٹریشن کیا جائے مگر اس سے قبل مکمل قانونی جانچ لازمی ہے تاکہ کسی حکومتی تحویل کا خطرہ نہ رہے۔ وقف جائیداد ہمیشہ وقف بورڈ اور متولی کے زیرِ انتظام ہی رہے گی، حکومت کی ملکیت نہیں بن سکتی۔
 نتیجہ: وقف کی جائیدادیں امتِ مسلمہ کے اعتماد اور دیانت کی علامت ہیں۔ اگر ہم نے ان امانتوں کے تحفظ کے تعلق سے غفلت برتی تو بہت سے قیمتی ورثے ضائع ہو سکتے ہیں۔ اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ ہر مسجد، مدرسہ، قبرستان اور درگاہ کے منتظمین اپنے دستاویزات درست رکھیں، وقف نامے کی تجدید کریں، قانونی ماہرین سے رہنمائی لیں اور “اُمید پورٹل” پر بروقت اندراج کرائیں۔
    یہ اقدام نہ صرف شرعی ذمہ داری کی ادائیگی ہے بلکہ ایک مضبوط اجتماعی دفاع بھی ہے، جو ملت کے دینی، تعلیمی اور فلاحی اداروں کو آنے والے زمانوں تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے جس سے ہم اپنی امانتوں کی حفاظت اس شعور اور فہم کے ساتھ کر سکیں، جیسا شریعت ہم سے چاہتی ہے۔ یہی "اُمید” دراصل ایمان کی روشنی اور عمل کی قوت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے