اسماعیل قمر بستوی
حشر میں چاہیے اک نگاہِ کرم
اے شفیع الامم اے شفیع الامم
تاجدارِ مدینہ اے فخر رسل
آپ جیسا نہیں ہے کوئ محترم
آپ پیدا ہوئے بت گرےمنھ کےبل
آپ سےکفر کا سارا ٹوٹا بھرم
آپ سے لڑکیوں کو ملی زندگی
آپ کا یہ ہے انسانیت پہ کرم
میں نے مانا کہ جنت بڑی چیز ہے
آپ کے کم ہے روضہ سے باغِ ارم
آپ کے ہےوسیلے سے مانگی دعا
ہو بلند آج اسلام کا پھر علم
یہ قمر بےنوا نے کہی نعت ہے
ہو قبول آپ کو تاجدارِ حرم

