بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری): شہر کے محلہ نبی گنج میں واقع بزمِ عزیز کے صدر الحاج نصیر انصاری کے مکان پر بزمِ عزیز کی ماہانہ طرحی نشست منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت شکیل گیاوی لکھنو نے کی، جبکہ نظامت ھزیل لعل پوری نے کی۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر لکھنو سے تشریف لائے سلیم تابش موجود رہے۔
(دیکھنا یہ ہے کہاں تک ظلم ڈھائے گا کوئی) مصرع طرح پر تمام شعراء کرام نے اپنے۔اپنے کلام پیش کیے۔
پسند کیے جانے والے اشعار نزر قارئین ہیں۔
غم تو یہ ہے ہوش میں کب آخر آئے گا کوئی
کب تلک دھوکے پہ دھوکے یوں ہی کھائے گا کوئی
الحاج نصیر انصاری
زندگی اور موت کا چلتا رہے گا سلسلہ
یوں ہی آئے گا کوئی اور یوں ہی جائے گا کوئی
شکیل گیاوی
ایک دن تجھ کو بھی شدت سے رلائے گا کوئی
ناز تیرے زندگی کب تک اٹھائے گا کوئی
سلیم تابش
تیر لفظوں کے اگر گھر میں چلائے گا کوئی
نفرتی دیوار آنگن میں اٹھائے گا کوئی
عظیم مشائخی
کیا مری بھی خیریت پوچھے گا کوئی ان دنوں
کیا مرے زخموں پہ بھی مرہم لگائے گا کوئی
حافظ اثر سیدن پوری
جانے کتنے ہی دلوں پر بجلیاں گر جائیں گی
رُخ سے زُلفوں کو جھٹک کر جب ہٹائے گا کوئی
ڈاکٹر ریحان علوی
کیا خبر تھی رفعتیں اِتنی بھی پائے گا کوئی
ایک پل میں عرش پر جائے گا آئے گا کوئی
ماسٹر عرفان
کیا یہ زحمت دورِ حاضر میں اٹھائے گا کوئی
عمر بھر عہدِ وفا اپنا نبھائے گا کوئی
ھزیل لعل پوری
آج کل تو عدلیہ کا بس یہی دستور ہے
غلطیاں کوئی کرے گا جیل جائے گا کوئی
نفیس بارہ بنکوی
کس کو تھا معلوم ایسا دور آئے گا کوئی
جب زبانوں پر بھی پابندی لگائے گا کوئی
سرور کنتوری
دوسروں کو دیکھ کر محنت کرو بیٹا ذرا
عمر بھر تم کو نہیں رستہ بتائے گا کوئی
کیف بڑیلوی
ان کے علاوہ طفیل زید پوری، ماسٹر شعیب کامل، طالب اعلیٰ پوری ،شمس ذکریاوی، بشر مسولوی، نظر مسولوی ،عارف شہاب پوری نے بھی اپنے۔اپنے طرحی کلام پیش کیے۔
