سہارنپور(احمد رضا): عالم دین اور مفکر اسلام مفتی محمد صادق مظا ہری نے اپنا بیباک تعلیمی بیان کرتے ہوئے واضع کیا کہ لائق عبادت اور احترام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہے اس لئے اس کے لئے سر جھکاؤ حد سے تجاوز مت کرو تقویٰ اور انکساری اختیار کرو ، لوگ اقتدار کی طاقت کے ذریعے عوام کو غلام اور تابعدار بنانے میں سر گرم ہیں مگر یاد رہے قرآن کریم کے مطابق حدیں عبور کرنے والے کے دنیا میں بڑا عذاب منتظر ہے اس لئے لازم ہے کہ اللہ رب العالمین اور اللہ تعالیٰ کے پاک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اطاعت کو خد پر لازم کرو ظلم اور جبر کے ساتھ ساتھ تہمت لگانے اور تشدد برپہ کرنے سے بچو یہی ہم سب کے لئے سب سے بہتر ہے دین اسلام کے خلاف کچھ بھی عمل سیدھا ایمان پر ضرب لگانے کے متعارف ہے ، کرسمس عیسائی مذہب کا خالص مذہبی تہوار ہے جس کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے اس عقیدے پر ہے جس میں انہیں الله کا بیٹا یا الوہیت کا درجہ دیا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے اس عقیدے کی نہایت صراحت کے ساتھ تردید فرمائی ہے عالم دین اور مفکر اسلام مفتی محمد صادق مظا ہر ی نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ سورہ اخلاص میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ﴾ یعنی الله نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا۔ اسی طرح سورہ مائدہ میں فرمایا گیا: ﴿لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ﴾ ترجمہ: یقیناً وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ الله ہی مسیح ابنِ مریم ہے۔ قرآنِ مجید نے متعدد مقامات پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الله کا بندہ اور رسول قرار دیا!

واضع رہے کہ عصرِ حاضر فکری انتشار، تہذیبی اختلاط اور اعتقاد کمزوریوں کا دور ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں مذہب کو محض ایک ذاتی معاملہ بناکر پیش کیا جا رہا ہے اور اجتماعی سطح پر عقائد، عبادات اور شعائرِ مذہب کی حدود کو دانستہ طور پر غیر واضح کیا جا رہا ہے۔ عالمگیریت، سیکولر تہذیب اور نام نہاد بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر ایسی فضا تشکیل دی جا رہی ہے جہاں حق و باطل، ایمان و کفر، توحید و شرک اور اسلامی تشخص و غیر اسلامی شعائر کے درمیان امتیاز کو دقیانوسی قرار دے کر ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی فکری گمراہی درحقیقت اس امت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ کیونکہ جب عقیدے کی سرحدیں مٹتی ہیں تو ایمان کی حفاظت ممکن نہیں رہتی۔

اسی فکری پس منظر میں غیر مسلم مذہبی تہواروں، بالخصوص عیسائیوں کے مذہبی تہوار کرسمس کے تعلق سے مسلمانوں میں پائی جانے والی فکری بے احتیاطی ایک نہایت سنگین مسئلہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ بعض حلقے اسے محض سماجی رواداری، اخلاقی حسنِ سلوک یا تہذیبی کشادگی کا نام دے کر کرسمس کی مبارکبادی، تقریبات میں شرکت اور اس دن خوشی کے اظہار کو جائز بلکہ مستحسن قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں یہ مسئلہ محض اخلاقی یا معاشرتی نہیں بلکہ براہِ راست ایمان اور عقیدے سے جڑا ہوا ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے