سنگھ پریوار کو خوش کرنے کے چکر میں ــ’بنگلادیشیـ’کا الاپ:ویلفیئر پارٹی کرناٹک 

بنگلور۔ یکم جنوری (پریس نوٹ): اپوزیشن لیڈر آر اشوک کا فقیر کالونی کے متاثرین کے ساتھ انتہائی غیر انسانی اور نفرت انگیز سلوک قابلِ مذمت ہے انھیں یہاں کے غریب متاثرین سے کُھلے عام معافی مانگنی چاہیے۔ویلفیئر پارٹی کر ناٹک کے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہر حُسین نے ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔اُنہوں نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ،اپوزیش لیڈر آر اشوک کوگیلو لے آوٹ کے فقیر کالونی پہنچ کر وہاں کے متاثرین کودلاسہ دینے کے بجائے نفرت کی سیاست کا نمونہ پیش کیا ہے۔ایک متاثرہ خاتوں سے بڑے ہی غیر انسانی طریقہ سے بات کر تے ہوئے اُس متاثرہ خاتوں کی بے عزتی کی ہے۔اپنی گفتگو کے دوران جبراً اس بات کی کوشش کی کہ ان لوگوں کو بنگلا دیشی ثابت کیا جا سکے۔جب اُس خاتوں نے اپنا مسائل بیان کرنا شروع کیا تو اُن کو ہراساں کر تے ہوئے بڑے ہی نفرتی انداز میں پوچھتے ہیں کہ’ تو کہا پیدا ہوئی ،تیرا باپ کہا پیدا ہوا؟ـ”۔جب اُس خاتوں نے یہ کہا کہ میں اُردو میں بات کرونگی تو آر اشوک عمداً اُن سے پوچھتے ہیں کیا "کیا تم کو بنگلہ زبان آتی ہے؟”یہ انتہائی بد بختانہ رویہ ہے جو ایک اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اشوک نے پیش کیا ہے،اس سے اس خاتون کی تذلیل ہوئی ہے۔اشوک کے ساتھی نارائین جب اُس خاتون کو ہندی میں مخاطب ہوتے ہیں ،اُس وقت بھی اشوک مداخلت کرتے ہوئے نارائین سے کہتے ہیں کہ تم کیوں ان کی زبان بنگلہ میں بات کر رہے ہو؟ جب کہ وہ کہتے بھی ہیں کہ وہ بنگلہ نہیں اُردو زبان بول رہی ہے۔ایک اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے متاثرین کے مسائل کو جاننے اور اُن کو حل کرنے کی اپنی ذمہ داری کو بھول کر سنگھ میں بیٹھے اپنے آقائوں کو خوش کرنے اور اپنی نفرت بھری سیاست کو چمکانے کی گھناؤنی کوشش آر اشوک نے کی ہے۔ اپنی پریس کانفرنس میں بھی اس نفرتی لیڈر نے یہ زہر پھیلایا کہ کوگیلو کی فقیر کالونی ایک سلیپر سیل بن رہی ہے،ان بنگلا دیشیوں کی وجہ سے آج بنگال جل رہا ہے،ان کی شہریت کی جانچ ہو نی چاہیے۔ہم آر اشوک سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر اتنی تعداد میں بنگلا دیشی ملک میں اورریاست میں آگئے ہیں تو یہ کس کی ناکامی ہے، سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری کس کی ہے؟ اس حیثیت سے تو سب سے پہلے امیت شاہ اور راجناتھ سنگھ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ کوگیلو کا معاملہ کیرالہ اور اب پورے ملک میں بحث کا موضوع اس لیے بنا کہ موجودہ حکومت نے بنیادی تیاریاں کئے بغیر وہاں کے لوگوں کے مکانات کی انہدامی کاررواائی کی جس کے نتیجے میں سینکڑوں خاندان اس سردی کے موسم میں بے گھرہوگئے۔انسانی ہمدردی اگر آپ نہیں دکھا سکتے تو غریب عوام کی دل آزاری کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔بلخصوص خواتین کے ساتھ اس طرح کی زبان کا استعمال کرنا قابلِ مذمت ہے۔ہم ویلفیئر پارٹی کی جانب سے اپوزیشن لیڈر آر اشوک سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کے وہ ان متاثرین سے فوری معانی مانگیں۔اس بات کی اطلاع WPIکرناٹک کیمیڈیا سکریٹری نے دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے