ظہیر آباد میں شعور بیداری اجلاس سے ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد اور دیگر کاخطاب
ظہیرآباد 4/ جنوری (مشرقی آوازجدید): موؤمنٹ فار پیس اینڈ جسٹس (ایم پی جے)ظہیرآباد کی جانب سے اسلامک سنٹر لطیف روڈ ظہیرآباد میں ایک اہم شعور بیداری اجلاس منعقد کیا گیا۔ جس میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے شروع کی گئی خصوصی نظرثانی (SIR) مہم پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد سیکریٹری برائے رابطہ عامہ جماعت اسلامی ہند عظیم تر حیدرآباد و سابق پروفیسر سیاسیات ایڈوکیٹ نے کلیدی خطاب میں کہا کہ ایس آئی آر دراصل شہریوں کو ان کے دستوری حقوق خصوصاً حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی ایک منظم اور خطرناک سازش ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایس آئی آر کے سماجی و سیاسی اثرات نہایت سنگین ہوں گے اور اس مشق کے ذریعے بالخصوص اقلیتوں، دلتوں، آدی واسیوں اور خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کی اپوزیشن جماعتوں، سماجی کارکنوں اور ممتاز قانون دانوں نے اس مہم پر اپنے شدید خدشات ظاہر کیے ہیں، لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن من مانی انداز میں ایک نئی ووٹر لسٹ تیار کرنے پر مُصر ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے بہار میں ایک ماہ کی قلیل مدت میں ایس آئی آر انجام دی گئی، جس کے نتیجے میں ہزاروں حقیقی شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو گئے۔ بعد ازاں ملک کی 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اس مہم کا آغاز کیا گیا۔ اب آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں بھی ایس آئی آر کی تیاریوں کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں چیف الیکشن کمشنر کے حیدرآباد دورے سے یہ اشارہ مل چکا ہے کہ تلنگانہ میں بھی جلد اس عمل کا آغاز ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کی نظرثانی کوئی نیا عمل نہیں، لیکن اس بار الیکشن کمیشن شہریوں سے جن غیر ضروری اور پیچیدہ دستاویزات کا مطالبہ کر رہا ہے، اس سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ماضی میں ووٹر لسٹ میں نام کے اندراج کے لیے صرف ہندوستانی شہریت اور 18 سال کی عمر کافی تھی، لیکن اب 2004 کے بعد پیدا ہونے والے افراد سے والدین کے برتھ سرٹیفکیٹس تک طلب کیے جا رہے ہیں۔ ابتدا میں آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کو ثبوت ماننے سے انکار کیا گیا، جسے سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد قبول کیا گیا۔دیہی علاقوں اور کم پڑھے لکھے شہریوں کے لیے یہ عمل ایک بڑی آزمائش بن چکا ہے۔ محمد منظور احمد جنرل سیکریٹری ایم پی جے ریاست تلنگانہ نے ایم پی جے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ برادران وطن اور ملت اسلامیہ کے مسائل کے حل بھرپور کوشش کرتی ہے۔ محمد ناظم الدین غوری ناظم ضلع سنگا ریڈی مغرب،مولانا مفتی محمد نذیر احمد حسامی، مولانا عرفان ندوی، حافظ محمد اکبر جمعیت علمائے مولانا معصوم عالم سلفی، سید عبدالرؤف، محمد لقمان سابق وائس چیئرمین نے خطاب کرتے کہا کہ جس عجلت اور سختی کے ساتھ ایس آئی آر کرائی جا رہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائی کسی خاص ایجنڈے کے تحت کی جا رہی ہے۔پروگرام میں مسلمانوں سے خصوصی اپیل کی گئی کہ وہ چوکنا رہیں اور ایس آئی آر کے دوران اپنے تمام ناموں کی ووٹر لسٹ میں شمولیت کو یقینی بنائیں۔ جہاں جہاں یہ عمل ہوا ہے وہاں معمولی تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر مسلم رائے دہندگان کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ اس لیے تمام ضروری دستاویزات جیسے برتھ سرٹیفکیٹ، ایس ایس سی سرٹیفکیٹ، مقامِ پیدائش کا ثبوت، آدھار کارڈ، راشن کارڈ وغیرہ محفوظ رکھیں اور اگر کسی دستاویز میں تصحیح درکار ہو تو فوری طور پر کروا لیں۔ مقررین نے زور دیا کہ اس نازک مرحلے پر تمام جماعتوں اور سماجی تنظیموں کو متحدہ جدوجہد کرنی ہوگی تاکہ شہریوں کے دستوری حقوق کا تحفظ ممکن ہو اور کوئی بھی شہری ووٹ کے حق سے محروم نہ ہو۔ پروگرام کا آغاز سید عبدالرؤف امیر مقامی جماعت اسلامی ہند ساؤتھ کی تلاوت و ترجمانی سے ہوا اور افتتاحی کلمات و خیرمقدم محمد ایوب احمد صدر ایم پی جے نے کیا جبکہ نظامت کے فرائض میں نصیرالدین نے انجام دیں محمد اعجاز پاشاہ کے اظہار تشکر پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔ اجلاس میں سیاسی سماجی مذہبی رہنماؤں اور معززین شہر کے علاوہ کوہیر، مگڑم پلی، ظہیرآباد، نیالکل، جھرہ سنگم، منڈل جات کے باشعور افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔۔۔۔
