بغور میرا پیام شاید ابھی جہاں نے سنا نہیں ہے
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
حفیظ ؔمیرٹھی بنیادی طورپر جماعت اسلامی ہنداور ادارہ ء ادبِ اسلامی ہند کے شاعر رہے۔ ان حلقوں میں ان کے 10-15اشعار بے حد مشہور ہیں، جواجتماعات ، تقاریر اور گفتگو کے دوران بیشتر استعمال کئے جاتے ہیں۔پہلے ان استعمال ہونے والے اشعار کو ملاحظہ کریں ؎
اُف یہ جادہ کہ جسے دیکھ کے جی ڈرتاہے
کیا مسافر تھے جو اس راہ گزر سے گزرے
کسی جبیں پر شکن نہیں ہے کوئی بھی مجھ سے خفا نہیں ہے
بغور میرا پیام شاید ابھی جہاں نے سنا نہیں ہے
کارواں چاہے مختصر ہوجائے
کوئی رہزن نہ ہم سفر ہوجائے
رات کو رات کہہ دیا میں نے
سنتے ہی بوکھلا گئی دنیا
نہ کارزارِ جہاں میں نہ خانقاہوں میں
جناب ِ شیخ کہیں آپ کا پتہ بھی ہے
اثر ہوا تو یہ تقریر کا کمال نہیں
مراخلوص مخاطب تھا میں کہاں بولا
وہ وقت کا جہاز تھا کرتا لحاظ کیا
میںدوستوں سے ہاتھ ملانے میں رہ گیا
کاش ہمارا فرضِ محبت
عیش ِ محبت پر چھاجائے
ان کے جانے کامنظر تماشہ نہیں
دور تک دیکھئے، دیرتک سوچئے
جان ہتھیلی پر رکھ لے
کہنی ہے گر سچی بات
نہ لے چل خانقاہوں کی طرف شیخ حرم مجھ کو
مجاہد کا تو مستقبل ہے میدانوں سے وابستہ
شیخ صاحب تمہاری بھی اچھی کٹی
خوب سجدے کئے، خوب دھوکے دئے
شیخ قاتل کومسیحا کہہ گئے
محترم کی بات کو جھٹلائیں کیا
ان اشعار سے ہٹ کر کچھ اشعار وہ بھی ہیں جومختلف ادبی حلقوں میں حفیظ ؔمیرٹھی مرحوم کی شناخت بنائے ہوئے ہیں۔ جیسے یہ شعر ؎
شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے
دل ٹوٹے آواز نہ آئے
ترقی پسند ادیب بھی انھیں پسندکرتے تھے اور دل کے قریب رکھتے تھے اورجدیدیت کے بانی شمس الرحمن فاروقی کی بھی وہ پسندتھے، شاید اسی لئے ماہنامہ ’’شب خون‘‘ میں حفیظ ؔمیرٹھی کی غزلیں شائع ہوتی تھیں۔ تاہم جماعت اسلامی ہند سے ان کی وابستگی نے دینی مزاج افراد کے بڑے حلقے میں انھیں متعارف کروایا ، تو انھوں نے بھی اپنی شاعری کے نقوش چھوڑے ہیں۔ ہر سال مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی جانب سے سالانہ ڈائری بنام ’’شب وروز‘‘فروخت کرنے کیلئے شائع ہوتی ہے، اس ڈائری کے اندرون کے ہرصفحہ کی پیشانی پر قرآنی آیت ، احادیث مبارکہ ،ا قوال یاپھراشعار شائع کئے جاتے ہیں۔ حفیظ ؔ صاحب کے بیشتر اشعار ہرسال ا س ڈائری کے توسط سے ہزاروں اہل ذوق تک پہنچ جاتے ہیں۔ان صفحات کے علاوہ ڈائری کھولتے ہی جو پہلا اور دوسرا صفحہ سامنے آتاہے ، اس پر ایک شعر نمایاں طورپر شائع ہوتاہے جو کبھی علامہ اقبال یاپھر تحریکی شعراء کاہوتاہے۔ اسی طرح اور ڈائری کے آخری صفحات پر بھی جلی طورپرایک شعر شائع کیاجاتاہے۔سال 2025 ء کی ڈائری میں آخری صفحہ پر جلی حروفوںمیں حفیظ ؔ صاحب کایہ شعر شائع کیاگیاتھا ؎
روشنی اتنی کب تھی مرے شہر میں
جل رہے ہیں مکاں مشعلوں کی طرح
دنیا سمجھتی ہے (اور اس کو سمجھایابھی جاتاہے ) کہ شاعر نکما، نالائق اور غیرعملی ہوتاہے۔ اس کودنیا سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ اسلام پسند شعراء پر اس طرح کا الزام شاید ہی صحیح ثابت ہواہو۔ گلزار

دہلوی نے ہندوہوتے ہوئے بھی ان کے بارے میںگواہی دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’حفیظ ؔمیرٹھی کے بارے میں میں وثوق اور یقین سے کہہ سکتاہوں کہ وہ اچھے انسان بھی تھے اور اچھے شاعر بھی ۔ انھوں نے دونوں صورتوں کو تہذیب وشائستگی ، کتاب وسنت ، قال اللہ ، قال الرسول اور صالحین وصدیقین کی تصویر کو ہمیشہ نظر میں رکھا۔ ان کی شخصیت بھی خوشبودار تھی اور ان کاشعروفن بھی ‘‘(کلیا ت حفیظ ؔمیرٹھی ۔صفحہ 27اور 28۔ اشاعت :جولائی 2000ء ) پروفیسر عبدالمغنی لکھتے ہیں ’’میرے نزدیک حفیظ ؔمیرٹھی کی شاعری کی اہمیت یہ ہے کہ وہ محض کسی ادارہء ادب کے شاعر نہیں ہیں بلکہ ادب کے شاعر ہیں اور اس لحاظ سے انھوں نے اپنے ادارے کابھی ادبی اعتبار بڑھایاہے اور دوسری طرف اپنے ادبی موقف اور فنی صلاحیت کے سبب وہ دور جدید میں ارد وغزل کی روایت کواپنے عہدکے بعض دوسرے شعراء کے ساتھ مل کرسنبھالنے اور بڑھانے کاپورا سروسامان رکھتے ہیں ‘‘(حفیظ ؔمیرٹھی کاشعری مجموعہ ’’شعروشعور‘‘مکتبہ دوام ۔ ٹانڈہ (فیض آباد ) یوپی، صفحہ 14، ۔13؍جنوری 1970ء )
حفیظ ؔمیرٹھی خالص غزل کے شاعر رہے ہیں۔ نظمیں بھی کہیں لیکن ذائقہ بدلنے سے زیادہ ضرورت کے تحت کہی ہوں گی ، وہ پوری طرح غزل کے شاعر رہے۔ جس کے بارے میں پروفیسر ابوذرعثمانی ڈاکٹر شفیق عالم کی حفیظ ؔمیرٹھی پر کی گئی تحقیق کے حوالے سے کہتے ہیں ’’انھوں (ڈاکٹر شفیق عالم) نے بجاطورپر حفیظ ؔ کے کلام کو غالب ؔ، حالی ؔ اور اقبال ؔ سے منسوب غزلیہ شاعری کی روایت کی توسیع قرار دیاہے اور اس کا حقیقی فنی امتیاز اور قدروقیمت متعین کرنے کی کوشش کی ہے ان کایہ خیال صحیح ہے کہ حفیظ ؔ اردو کے دور ِ جدید کے معتبر اور بلندپایہ غزل گو شعرامیں شمار کئے جائیں گے ‘‘ (حفیظ ؔمیرٹھی :حیات اور شاعری ، از:ڈاکٹر شفیق عالم ، صفحہ نمبر 15۔ اشاعت :2007ء )
حفیظ ؔ میرٹھی کے کلام کو کیوں مقبولیت حاصل ہے ، اسکی حقیقت واشگاف کرتے ہوئے ان کے دوسرے شعری مجموعے ’’متاعِ آخرشب ‘‘ کے ناشر نے جوکچھ لکھا ہے وہ باتیں حفیظ ؔصاحب کی شاعری کی سمت متعین کرتی ہیں ۔مجموعہ کے ناشر ابو عمّار لکھتے ہیں’’آج کے اس فکری بے راہ روی کے دورمیں صحیح فکر کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ آزادی ء فکر اور آزاد خیالی کے نام پر فکر کی اصل اساس پر آج ضرب ِکاری لگائی جارہی ہے اور مقصد ِ حیات کے صحیح فکرو اسا س پر یقین رکھنے والوں کو’’بنیاد پرست‘‘ کہہ کر مطعون کیاجارہاہے ۔ پھر اس کے ساتھ شاعروں ، ادیبوں اور صحافیوں کی ایک بھیڑ ہے جن کی نگارشات پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ نہ وہ صحیح اقدار ِ حیات سے آشناہیں اور نہ انھیں کسی صحیح فکر واساس کی خبر ہے ۔ اس صورتِ حال کودیکھتے ہوئے اردو کلاسیکی غزل کے پاسدا ر، محافظ اقتدار ، نامور معاصر شاعر حفیظ ؔ میرٹھی کے کلام کی اشاعت میرے نزدیک ادب واقدار ِ حیات کی ایک اہم خدمت ہے ‘‘(متاعِ آخر ِ شب ۔ صفحہ نمبر 6، اشاعت :دسمبر 1986ء )
’’متاعِ آخر ِ شب‘‘ کی اشاعت کے 40سال بعد جب ہم اقدار حیات کا جائزہ لیتے ہیں تو انٹرنیٹ جیسی انقلابی ٹیکنالوجی کی بدولت انسان اور انسانی رشتے پوری طرح حیاتیاتی قدروں کوقتل کرنے میں محو ہیں۔ بے پردگی ،اور اس پرمستزاد بے حیائی ، خواتین کاایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ تعلق بنا نا،سوشیل میڈیا پر اس کی ترغیب دینا ، معاشرے میں قتل کی جانب مردوں کی رغبت ، خواتین کا بھی اپنے آشناؤں کے ساتھ مل کر شوہروں کوقتل کرنا، اقتصادی سیکٹر میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت اورمردوں کی تعداد میں کمی ،بغیر شادی تنہا رہنے کی سعی اور اس کی طرف نئی نسل کو راغب کرنے کی منصوبہ بندی ، بچوں کااستحصال ، لڑکے لڑکیوں کا قبل ازوقت ۷۰بالغ ہونے کی خواہش رکھنا، اوراس کے لئے ذرائع کا بآسانی میسرہونا، خلع ، طلاق ، اولڈ ایج ہوم اور اس میں مرتے ہوئے بوڑھے والدین کی طرف سے اولاد کی حیوانی بے اعتنائی ، کیا یہ منظرنامہ تقاضہ نہیں کرتاکہ ادب کے گلیاروں میں اکیسویں صدی کے نئی سوچ ، نئی فکر، نئی دردمندی والے باخبر شعراء کی ضرورت ہے ؟جو ادب کے پلیٹ فارم سے اقدار ِ حیات کی معنوی حیات آفرینی کوانسانوں میں تقسیم کرنے لگ جائیں۔ حفیظ ؔمیرٹھی کی 26؍ویں برسی کے موقع پر یہی پیغام دیاجاسکتاہے۔ آپ کیاسوچتے ہیں ضرور بتائیں۔

