محمد ہاشم القاسمی

(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
جمہوری ملک میں عوام کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے نمائندوں کا انتخاب آزادانہ طور پر کریں۔ اس اہم فریضے کی باگ ڈور جس ادارے کو سونپی جاتی ہے، وہ الیکشن کمیشن ہے۔ یہ الیکشن کمیشن کا ادارہ گویا جمہوریت کا ایک ستون ہوتا ہے، جو نہ صرف انتخابات کو منظم کرتا ہے بلکہ ان کی شفافیت، غیرجانبداری اور قانونی حیثیت کو بھی یقینی بناتا ہے۔جمہوریت میں اگر انتخابات غیر منصفانہ ہوں یا ان میں دھاندلی کا شائبہ ہی ہو، تو عوام کا اعتماد جمہوری نظام پر سے اٹھ جاتا ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری، دیانت داری اور اختیارات بہت اہم ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ایک با اختیار اور آزاد الیکشن کمیشن ہی اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی، حکومت یا طاقتور طبقہ عوامی رائے کو یرغمال نہ بنا سکے۔الیکشن کمیشن نہ صرف ووٹر لسٹ تیار کرتا ہے، بلکہ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ کرتا ہے، انتخابی اخراجات کی نگرانی کرتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر انتخابی بے ضابطگیوں پر کاروائی بھی کرتا ہے۔ اگر یہ ادارہ اپنے فرائض کو بغیر کسی سیاسی دباؤ کے انجام دے، تو ملک میں جمہوری اقدار فروغ پاتی ہیں۔ لیکن اگر یہ ادارہ کسی خاص پارٹی یا حکومت کے زیر اثر آ جائے، تو انتخابات ایک تماشہ بن کر رہ جاتے ہیں اور جمہوریت کھوکھلی ہو جاتی ہے۔
جمہوری طرز حکومت کی روح اس وقت تک محفوظ رہ سکتی ہے جب تک الیکشن کمیشن آزاد، غیر جانبدار اور دیانت دار ہو۔ یہی ادارہ عوام اور اقتدار کے درمیان ایک شفاف پل کا کام کرتا ہے، جس پر جمہوریت کی عمارت قائم رہتی ہے۔ یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ جمہوریت کی بنیاد شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات پر استوار ہوتی ہے، اور ان انتخابات کے نگہبان ادارے یعنی الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری اور خود مختاری پر ہی عوام کا اعتماد ٹکا ہوتا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ برسوں میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کا کردار ایک آزاد آئینی ادارے کے بجائے برسر اقتدار پارٹی کے ترجمان جیسا نظر آنے لگا ہے۔ واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کو بی جے پی حکومت نے ان کے سرکاری عہدے پر رہتے ہوئے جو قانونی تحفظ فراہم کی ہے، وہ تحفظ ملک کے صدر جمہوریہ اور گورنر کو بھی حاصل نہیں ہے۔ اس قانون کے مطابق کوئی بھی عدالت الیکشن کمشنر کے سرکاری ڈیوٹی میں کیے گئے کاموں (جیسے انتخابی فیصلے، بیان ، ردعمل) کے لیے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کے خلاف ایف آئی آر یا مقدمہ درج نہیں کر سکتا ہے۔ یہ تحفظ موجودہ الیکشن کمیشنرز اور سابق دونوں کمشنرز پر نافذ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عہدہ پر رہنے اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی ان پر مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون مرکز کی مودی حکومت نے 2023 میں لائی تھی، جسے اس وقت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پاس کرالیا گیا تھا۔ اس وقت کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے اس قانون کی پر زور الفاظ میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سخت مخالفت کی تھی اور اسے الیکشن کمیشن کی آزادی اور شفافیت کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ اب ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کردہ اس قانون کی درستگی کا جائزہ لینے پر راضی ہو گیا ہے جو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کو تاحیات مقدمہ سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کو تاحیات قانونی تحفظ فراہم کرنے والے الیکشن قانون 2023 کو چیلنج کرنے والی عرضی پر مرکز اور تمام ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کی آئینی حیثیت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق جمہوریت اور آزاد و منصفانہ انتخابات کی بنیاد سے جڑا ہوا ہے۔ یہ نوٹس چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی پر مشتمل بینچ نے جاری کیا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ "عدالت یہ جانچ کرے گی کہ آیا اس قانون کے ذریعے دی گئی چھوٹ سے کسی قسم کا نقصان ہو سکتا ہے اور آیا آئین کے تحت اس طرح کی تاحیات قانونی چھوٹ دینا درست ہے یا نہیں”۔ تاہم، عدالت نے فی الحال اس قانون پر فوری روک لگانے سے انکار کر دیا۔ یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں "لوک پرہری این جی او” نے دائر کی ہے انہوں نے اپنی عرضی میں اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ” ہندوستانی آئینی ڈھانچے میں اتنی وسیع قانونی چھوٹ تو ملک کے صدر جمہوریہ کو بھی حاصل نہیں ہے، پھر الیکشن کمشنروں کو یہ خصوصی تحفظ کیسے دیا جا سکتا ہے”۔ عرضی میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ میں اس قانون پر بحث کے دوران خود حکومتی وزیر نے تسلیم کیا تھا کہ یہ بل صرف سروس شرائط سے متعلق ہے، جبکہ فوجداری اور دیوانی کارروائی سے استثنا کو سروس شرائط کا حصہ نہیں مانا جا سکتا۔ درخواست گزار این جی او کے مطابق یہ شق نہ صرف جوابدہی کے اصول کے خلاف ہے بلکہ آزاد اور شفاف انتخابات کے تصور کو بھی کمزور کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمشنروں کے خلاف ایف آئی آر یا مقدمہ درج ہی نہ ہو سکے تو کسی بھی ممکنہ بدعنوانی یا اختیارات کے غلط استعمال پر سوال اٹھانا ناممکن ہو جائے گا۔ اس کا متوازن ہونا بہت ضروری ہے اور غلطیوں کی صورت میں قانونی کارروائی ممکن ہونی چاہیے۔” اب دیکھنا یہ ہوگا کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد حکومت اس معاملے میں قانون کی حفاظت کس طرح سے کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے کیا جواب آتا ہے، سب کی نگاہیں اس پر مرکوز رہنے والی ہے۔ اگر سپریم کورٹ اس قانون کو آئین مخالف قرار دیتی ہے تو انتخابی عمل میں جوابدہی کے نئے معیارات وضع ہو سکتے ہیں۔ یہ کیس جمہوریت کے ستونوں، آزاد عدلیہ، ایگزیکٹو اور الیکشن مشینری کے درمیان توازن کو یقینی بنانے کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ ابھی بی جے پی کے پاس طاقت ہے اور وہ انتخابات کے دوران ووٹ چوری کرتے ہیں، انہوں نے تین انتخابی افسران کے نام لیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ لوگ حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی نے ان کے لیے قوانین میں تبدیلی کر کے انہیں جوابدہ بنانے سے روکا ہے۔ راہول گاندھی نے اپنے بھاشنوں میں بارہا کہا کہ کانگریس حکومت میں آ کر ان قوانین کو بدلے گی اور الیکشن کمیشن پر مقدمہ دائر کر کے انہیں سلاخوں کے اندر کر کے جمہوریت کی حفاظت کرے گی۔ راہل گاندھی کی باتوں پر نہ بی جے پی کوئی ردعمل دیتی ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن اس لئے بھی عوام الناس کے شکوک و شبہات الیکشن کمیشن کے تئیں گہراتے جاتےہیں۔***

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے