امام علی فلاحی
بی ایم سی انتخابات کے نتائج نے ممبئی کی سیاست کو ایک بار پھر کروٹ لینے پر مجبور کر دیا ہے وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب سیاسی دگج اپنی بساط بچھائے، حساب کتاب میں مصروف تھے، نتائج نے کئی طاقتور ناموں کی نیندیں حرام کر دیں۔ کہیں جیت کی مسکراہٹ تھی تو کہیں شکست کی خاموشی لیکن سب سے نمایاں وہ منظر تھا جس نے پورے سیاسی افق کو چونکا دیا۔
ایک طرف شیوسینا (ٹھاکرے گروپ) اور بی جے پی کے درمیان طاقت کا زبردست کھیل جاری تھا، اتحاد، اختلاف اور جوڑ توڑ کی شطرنج بچھ چکی تھی وہیں ممبئی کی سیاست میں ایک ایسی انٹری ہوئی جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
جی ہاں! بات ہو رہی ہے اسدالدین اویسی کی قیادت والی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کی۔
ممبئی کے سیاسی آسمان پر اس بار اویسی کی پتنگ نہ صرف اڑی بلکہ ایسی بلندی پر پہنچی کہ اس نے سیدھے آٹھ نشستوں پر اپنا پرچم گاڑ دیا، یاد رہے کہ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے خاص طور پر اس شہر میں جہاں سیاست صرف نعروں سے نہیں بلکہ طاقتور تنظیم، سرمائے اور گہرے نیٹ ورک سے چلتی ہے۔
ممبئی کی مہانگر پالیکا، ملک کی سب سے امیر بلدیاتی ادارہ ہے جہاں داخلہ بھی آسان نہیں۔ یہاں تو کھاتہ کھلوانا بھی ایک سیاسی نعمت سمجھا جاتا ہے مگر اس بار حیدرآباد سے اڑی ہوئی پتنگ نے ثابت کر دیا کہ اگر ہوا کا رخ پہچان لیا جائے تو فاصلے معنی نہیں رکھتے۔
یہ جیت محض آٹھ نشستوں کی نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی پیغام ہے کہ ممبئی کی سیاست میں اب نئے کھلاڑی اپنی جگہ بنا رہے ہیں، اویسی کی سیاست جسے اب تک کچھ مخصوص جغرافیوں تک محدود سمجھا جاتا تھا اس نے مہانگری ممبئی میں اپنی موجودگی درج کرا دی ہے۔
وہ جماعت جو 2017 میں محض دو نشستوں کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلا پائی تھی اس بار ایک مضبوط اپوزیشن کے روپ میں ابھری۔ یہ محض سیٹوں کا اضافہ نہیں تھا بلکہ ایک بیانیے کی جیت تھی، ایک ایسا بیانیہ جو برسوں سے گوونڈی، مانخورد اور اطرافی علاقوں کی گلیوں میں دبے قدموں چل رہا تھا۔
مسلم اکثریتی علاقوں میں مجلس کی کامیابی اس بات کا اعلان تھی کہ عوام اب صرف وعدوں سے نہیں بلکہ نمائندگی سے بات کرتے ہیں۔
ہر وارڈ میں ووٹ صرف پرچی نہیں بنے بلکہ ایک سوال تھے اور ان سوالوں کا جواب عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے دے دیا۔
وارڈ نمبر 145 میں خیرالنساء حسین کی جیت محض عددی برتری نہیں تھی بلکہ خواتین کی قیادت پر عوامی اعتماد کی گواہی تھی، 2095 ووٹوں کا فرق اس بات کی علامت تھا کہ خاموش ووٹر بھی بول پڑا ہے۔
وارڈ نمبر 137 میں سمیر پٹیل نے مقابل سیاست کو پیغام دیا کہ اب معمولی دعوے کافی نہیں ہیں، وارڈ نمبر 134 میں عتیق احمد کی فتح نے پرانی سیاسی صف بندیوں کو ازسرنو سوچنے پر مجبور کر دیا۔
غرض یہ کہ ہر وارڈ میں جیت ایک الگ کہانی تھی مگر مجموعی داستان ایک ہی تھی: اعتماد کی واپسی۔
ممبئی کی اس جیت نے ثابت کیا کہ حاشیے پر کھڑی آوازیں اگر مستقل مزاجی سے بولتی رہیں تو ایک دن مرکز میں گونج بن جاتی ہیں۔
