ہے سمجھ یار کی سمجھ کر بول
دل کے اندر بسا ہے اندر بول
کاہے کو زندگانی یوں گزرے
ہے نشہ، چڑھ چکا توسرپر بول
میں تو خاموش رہتاہوں سن کر
خود سنے ہوں گے اس نے پتھر بول
سوچ کر بولنے کو ہے معراج
تہہ میں رہ جاتے ہیں سمندر بول
باقی دنیا کو فتح کرنا ہے
آدھی دنیا میں ہے سکندر بول
کیا حکومت نے یوں جواب دیا
ٹھیک ہوںگے نہیں یہ چھپر بول
میں کہ قرآن کادیوانہ ہوں
میراایمان ہے پیمبر بول
ظلم کی ہو مخالفت پھر میرؔ
اورمدد آئے گی، توُ جم کر بول
غزل(۲) ظہیررانی بنوری
دیکھ کر، سوچ کر، سمجھ کربول
کون بیٹھا ہے تیرے اندر بول
رکھ لے اپنی زباں کو قابومیں
دیکھ کر تیغ اپنے سرپر بول
ہمسفر راہِ حق کی منزل کے
پھول ہیں، خار ہیں کہ پتھر بول
کتنی ندیوں کا پانی پیتا ہے
کتنا پیاسا ہے تو سمندر بول
ساری دنیا کو جیتنے والا
ساتھ کیا لے گیا سکندر بول
زور ِ طوفاں سہہ سکے گا کیا
اے ہواسے لرزتے چھپر بول
اے خدا مجھ پہ غم کئی اُترے
میں ہوں کیا غم کا اک پیمبر بول
خوف نہ کر ظہیرؔ باطل کا
بات سچ ہے تو خوب جم کر بول
محمد امین نواز
دو غزلیں دو شاعر میرؔ بیدری اور ظہیر رانی بنوری کی تخلیقی واردات کا مظہر ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر دونوں کی داخلی فضا، فکری اضطراب اور عصری شعور ایک مشترک روحانی رشتے میں بندھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ غزلیں محض شخصی جذبات کا بیان نہیں بلکہ عہدِ حاضر کے فکری انتشار، اخلاقی سوالات اور باطنی کشمکش کا آئینہ بھی ہیں۔ دونوں شعرا نے روایت کی زمین پر کھڑے ہو کر جدید حسّاسیت کے ساتھ اپنے تجربات کو لفظی پیکر عطا کیا ہے، جس سے ان کی تخلیقی بصیرت اور فنی ریاضت نمایاں ہوتی ہے۔
پہلی غزل میں میر بیدری (شاعر) کا لہجہ ابتدا ہی سے یار، دل اور زندگی کے باہمی رشتے کو ایک درد مند تسلسل میں باندھ دیتا ہے۔‘‘ہے سمجھ یار کی سمجھ کر بول / دل کے اندر بساہے اندر بول’’جیسے اشعار میں داخلی مکالمہ اپنی شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ یہاں‘‘بول’’محض لفظ نہیں بلکہ اظہارِ ذات، اعترافِ کرب اور صداقتِ احساس کی علامت بن جاتا ہے۔ شاعر زندگی کی ناہمواریوں، خاموشی کی اذیت اور سچ کی قیمت کو جس سادگی اور گہرائی سے بیان کرتا ہے، وہ قاری کو سوچ کے ایک نئے دائرے میں داخل کر دیتا ہے۔ اسی غزل میں مذہبی اور اخلاقی شعور بھی بڑی خوب صورتی سے جذب ہو گیا ہے۔‘‘میں کہ قرآن کا دیوانہ ہوں / میرا ایمان ہے پیمبر بول’’جیسے مصرعے شاعر کی فکری وابستگی اور روحانی استقامت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ وابستگی کسی خطیبانہ دعوے کے بجائے ایک ذاتی یقین کے طور پر سامنے آتی ہے، جو غزل کی لطافت کو مجروح نہیں ہونے دیتی بلکہ اسے معنوی گہرائی عطا کرتی ہے۔ آخری اشعار میں ظلم کے خلاف آواز اور آخرت کے تصور کے ساتھ وابستگی شاعر کے فکری کینوس کو مزید وسیع کر دیتی ہے۔
دوسری غزل کا اسلوب نسبتاً بیانیہ ہے، مگر اس میں بھی درد، سوال اور جستجو کی وہی آنچ موجود ہے جو پہلی غزل کی شناخت ہے۔ ظہیر رانی بنوری(شاعر) اپنے مخاطب سے سوال کرتا ہے، کبھی خود سے اور کبھی دنیا سے، اور یہی سوالیہ انداز اس غزل کو فکری طور پر متحرک بناتا ہے۔ زندگی، وقت، ندامت، طوفان اور خوف جیسے استعارے بار بار آ کر انسانی بے بسی اور کائناتی جبر کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہاں شاعر کی نظر فرد سے آگے بڑھ کر سماج اور زمانے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ دوسری غزل میں ندامت اور خود احتسابی کا عنصر خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ شاعر اپنی لغزشوں، کوتاہیوں اور خوف کو تسلیم کرتا ہے اور اسی اعتراف کے ذریعے قاری کو بھی آئینے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔‘‘بات سچ ہے تو خوفِ جرم کیوں’’جیسے مضامین غزل کو محض جذباتی نہیں رہنے دیتے بلکہ اخلاقی سوال میں ڈھال دیتے ہیں۔ یہ انداز معاصر اردو غزل میں ایک صحت مند رجحان کی علامت ہے، جہاں شاعر اپنے آپ کو معصوم یا برتر ثابت کرنے کے بجائے انسان ہونے کے تقاضوں کو قبول کرتا ہے۔
فنی اعتبار سے دونوں غزلیں روایت سے جڑی ہوئی ہیں۔ بحر، قافیہ اور ردیف کی پابندی کے ساتھ ساتھ زبان کی شستگی اور محاوراتی روانی برقرار ہے۔ تاہم کہیں کہیں سادگی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ معنی کی تہہ داری کم محسوس ہونے لگتی ہے، مگر اسے فنی کمزوری کے بجائے شعوری انتخاب کہنا زیادہ مناسب ہوگا، کیونکہ دونوں شعرا کا مخاطب براہِ راست انسانی دل اور ضمیر ہے، نہ کہ محض فنی موشگافیاں پسند کرنے والا قاری۔ مجموعی طور پر یہ دونوں غزلیں اس بات کی گواہ ہیں کہ اردو غزل آج بھی اپنے کلاسیکی سانچے میں رہتے ہوئے عہدِ حاضر کے سوالات، مذہبی و اخلاقی تشویش اور ذاتی کرب کو پوری توانائی کے ساتھ سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دو مختلف لہجوں کے باوجود ان میں فکر کی ہم آہنگی، احساس کی صداقت اور لفظ کی حرمت مشترک ہے۔ یہی اشتراک ان غزلوں کو محض انفرادی تخلیقات نہیں رہنے دیتا بلکہ معاصر اردو شاعری کے فکری سفر کا معتبر حوالہ بنا دیتا ہے۔ دونوں غزلوں کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ یہاں جذبات محض شخصی سطح پر محدود نہیں رہتے بلکہ اجتماعی شعور سے جڑ جاتے ہیں۔ پہلا شاعر (میرؔ بیدری) یاد، خاموشی اور سچ کو داخلی تجربے کے طور پر برتتا ہے، مگر ان کے سائے میں ایک پورا سماجی منظرنامہ ابھرتا ہے۔ خاموش رہنے کا عمل، سچ بولنے کی قیمت اور ظلم کے خلاف آواز یہ سب ایسے موضوعات ہیں جو فرد سے نکل کر عہد کی پہچان بن جاتے ہیں۔ یہی وصف اس غزل کو محض رومانی یا وجدانی اظہار سے بلند کر کے فکری شاعری کے زمرے میں شامل کرتا ہے۔ اس غزل میں‘‘خاموش رہنا’’ایک کمزوری نہیں بلکہ ایک شعوری اذیت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ شاعر جانتا ہے کہ سچ بولنا معراج ہے، مگر اس معراج تک پہنچنے کا راستہ آسان نہیں۔ یہی کشمکش اس غزل کی روح ہے۔ شاعر کے یہاں ایمان، پیغمبرؐ سے نسبت اور آخرت کا تصور محض مذہبی حوالہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی موقف ہے، جو اسے ظلم کے سامنے جھکنے نہیں دیتا۔ اس اعتبار سے یہ غزل اقدار کی شاعری بن جاتی ہے۔
دوسری غزل میں اگرچہ لہجہ نسبتاً نرم اور مکالماتی ہے، مگر اس کی فکری کاٹ کم نہیں۔ شاعر(ظہیر رانی بنوری) سوال اٹھاتا ہے، خود سے بھی اور زمانے سے بھی۔‘‘ساری دنیا کو جیتنے والا / سچ کیا لے گیا سکندر بول’’جیسے اشعار میں استعارہ اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ایک اور شعر سمندرپر ہے ۔ سمندر یہاں محض وسعت کی علامت نہیں بلکہ اس سچ کی نمائندگی کرتا ہے جو وقتی طوفانوں کے باوجود باقی رہتا ہے۔ شاعر کی یہ علامتی بصیرت غزل کو معنوی وسعت عطا کرتی ہے۔ دوسری غزل کا سب سے مضبوط پہلو خود احتسابی ہے۔ شاعر(ظہیر رانی بنوری)اپنے خوف، ندامت اور لغزشوں کو چھپانے کے بجائے سامنے رکھتا ہے۔ یہ انداز جدید اردو غزل میں ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے، جہاں شاعر خود کو زمانے کا منصف نہیں بلکہ ایک سوال کرنے والا انسان سمجھتا ہے۔‘‘بات سچ ہے تو خوفِ جرم کیوں’’جیسا مضمون قاری کو بھی اپنے باطن میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی شاعری کی اصل تاثیر ہے کہ وہ قاری کو محض سننے والا نہیں رہنے دیتی بلکہ شریکِ مکالمہ بنا دیتی ہے۔
فنی سطح پر دونوں غزلوں میں زبان کی سادگی قابلِ ستائش ہے۔ کہیں کہیں یہ سادگی براہِ راست بیانیہ اختیار کر لیتی ہے، مگر اس سے جذبے کی صداقت متاثر نہیں ہوتی۔ قافیہ و ردیف کی پابندی کے باوجود اشعار میں روانی اور فطری بہاؤ برقرار ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شعرا نے محض عروضی مہارت پر نہیں بلکہ لفظ اور معنی کے رشتے پر بھی توجہ دی ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ دونوں غزلوں میں خوف، سچ، ظلم اور وقت جیسے الفاظ بار بار آتے ہیں، مگر تکرار کے باوجود اکتاہٹ پیدا نہیں ہوتی، کیونکہ ہر بار یہ الفاظ نئے تناظر میں سامنے آتے ہیں۔ یہی فنی ہنر غزل کو یکسانیت سے بچاتا ہے اور قاری کی دلچسپی کو قائم رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر ان دونوں غزلوں کو معاصر اردو غزل کے سنجیدہ اور بامقصد رجحان کی نمائندہ تخلیقات کہا جا سکتا ہے۔ یہاں نہ تو محض لفظی بازی گری ہے اور نہ ہی جذباتی شور۔ دونوں شعرا نے اپنے اپنے انداز میں سچائی، ایمان، خوف اور ذمہ داری جیسے موضوعات کو برتا ہے اور غزل کو محض حسن و عشق کے دائرے سے نکال کر فکری اور اخلاقی سطح تک پہنچایا ہے۔ ان غزلوں کی اہمیت اس بات میں بھی مضمر ہے کہ یہ قاری کو وقتی لطف سے آگے لے جا کر سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ یہی ادب کی اصل کامیابی ہے۔ دو مختلف لہجے، دو الگ تجربے، مگر ایک مشترک صداقت، یہی وہ وصف ہے جو ان دونوں غزلوں کو ایک ساتھ پڑھنے پر ایک ہم آہنگ تخلیقی تجربہ بنا دیتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ صفحہ محض‘‘دو شاعر، دو غزلیں’’نہیں بلکہ ایک ہی عہد کی دو سچّی آوازیں ہے، جو اپنے اپنے لہجے میں انسان اور زمانے کا حساب مانگ رہی ہیں۔