ازقلم : مفتی عبیدالرحمن قاسمی ظہیرآباد
استاذ حدیث جامعہ حنفیہ للبنات ظہیرآباد
شعبان المعظم اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ کہلاتا ہے یہ مہینہ بھی بڑی برکتوں اور عظمتوں والا مہینہ ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس مہینے کے بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مہینے میں مخصوص اعمال بھی ثابت ہیں ، اور ’’شعبان‘‘ عربی زبان کے لفظ ’’شَعْبْ‘‘ سے بنا ہےجس کے معنی آتے ہیں پھیلنے کے اس مہینے میں چونکہ اللہ کی طرف سے رمضان کے لئے خوب بھلائ پھیلتی ہے ، رحمتیں اور بخششیں عام ہوتی ہیں اسی وجہ سے اس مہینے کا نام شعبان رکہا گیا۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’شعبان کو شعبان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں احترام رمضان کی وجہ سے بہت سی نیکیاں پھیلتی ہیں اور رمضان کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں بہت سے گناہ جلا دیے جاتے ہیں۔‘‘(ماثبت بالسنۃ)
شعبان کے حروف میں پوشیدہ حکمت
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رَحِمہ اﷲ نے غنیۃ الطالبین میں لکھا ہے کہ لفظ شعبان پانچ حرفوں کا مجموعہ ہے: {ش، ع، ب، الف اور ن} ’شین‘ سےشرافت مراد ہے ، ’عین‘ سے علو مرتبت (بلندی) و عظمت مراد ہے ، ’باء‘ سے بِر (نیکی اور تقویٰ) اور برکت مراد ہے ، ’الف‘ سے اُلفت (اور محبت) مراد ہے اور ’نون‘ سے نورمراد ہے جو بندہ ماہ شعبان المعظم کی قدر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو یہ پانچ چیزیں عطا ہوتی ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور برکات کا نزول ہوتا ہے، گنا ہزاروں کی بخشش کی جاتی ہے
احادیث مبارکہ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شعبان المعظم کا مہینہ رمضان المبارک کا مقدمہ ہے یعنی رمضان کی آمد سے پہلے رمضان کے استقبال کی تیاری کا مہینہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کی تیاری کے لیے یہ دعا مانگا کرتے تھے اللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي رَجَبَ وَشَعْبَانَ و بلِّغْنا رمَضَان اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما،اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دے (شعب الایمان) یعنی ہماری عمر اتنی دراز کردیجئے کہ ہم رمضان کا مہینہ اپنی زندگی میں پالیں اور اس کی برکات سے بہرور ہوسکیں اس دعا سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں شعبان کے مہینے میں رمضان کی تیاری کرنی چاہیے
شعبان کی عظمت
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رجب اور رمضان کے درمیان ایک عظمت والا مہینہ ہے جس کی بزرگی کا لوگوں کو علمنہیں ہے ، اور اس مہینہ میں لوگوں کے اعمال اللہ رب العزت کے حضور پیش کیے جاتے ہیں ، اور مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے اعمال اس حالت میں پیش ہوں کہ میں روزہ سے ہوں (شعب الایمان)
ماہ شعبان میں حضور اکرم ﷺ کے اعمال
ماہ شعبان کا چاند دیکھنے کا اہتمام
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ماہ شعبان کی تاریخوں کو شمار کرنے کا حکم دیا ارشادفرمایا کہ: أحصوا هلال شعبان لرؤية شهر رمضان،
’’شعبان کے چاند کا شمار رکھو، رمضان کے لیے۔‘‘(مصنف عبدالرزاق )
یعنی جب ماہِ شعبان کی تاریخ صحیح ہو گی تورمضان میں غلطی نہیں ہوگی،
ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کےچاند دیکھنے کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ کسی اور ماہ کے چاند دیکھنے کا اتنا خیال نہ فرماتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کی تاریخوں کا جتنا خیال رکھتے تھے اتنا کسی مہینے کا نہیں رکھتے تھے (سننِ ابوداؤد)
ان دونوں حدیثوں سے اس ماہ کے چاند دیکھنے کا اہتمام ثابت ہوتا ہے ،
ماہ شعبان اور کثرتِ صیام
شعبان میں آنحضرت ﷺ کا یہ طریق مبارک تھا کہ آپ دوسرے مہینوں کی بہ نسبت اس مہینے میں زیادہ نفلی روزہ رکھا کرتے تھے چنانچہ امالمؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
مَا رَأَیْتُ رسولَ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اِسْتَکْمَلَ صِیَامَ شَھْرٍ قَطُّ الَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَیْتُہ فِيْ شَھْرٍ اَکْثَرَ مِنْہُ صِیَامًا فِيْ شَعْبَانَ (صحیح بخاری)
یعنی میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺنے (پورے اہتمام کے ساتھ) رمضان المبارک کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺکسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوں۔
اسی طرح ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ . (ترمذی)
میں نے رسول اللہ ﷺ کو شعبان اور رمضان کے سوا لگاتار دومہینے روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے پورے مہینے کے ساتھ ساتھ شعبان کے بھی تقریباً پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے اور بہت کم دن ناغہ فرماتے تھے۔
ماہ شعبان میں کثرت صیام کی حکمت
شعبان کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کثرت سے روزے رکھنے کی علماء نے کئی حکمتیں بیان کی ہیں:
پہلی حکمت تو یہ ہے کہ رمضان المبارک کے قریب ہونے اور اس کے خاص انوار وبرکات سے مناسبت پیدا کرنے کے شوق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینہ میں روزے کا اہتمام کثرت سے فرماتے تھے، جس طرح فرض نمازوں سے پہلے سنتیں پڑھتے تھے، اسی طرح فرض روزے سے پہلے نفلی روزے رکھا کرتے تھے اور جس طرح فرض کے بعد سنتیں اور نفلیں پڑھتے تھے؛ اسی طرح رمضان کے بعد شوال میں چھ روزے رکھتے اوراس کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے۔
اور دوسری حکمت یہ ہے کہ اس مہینہ میں چونکہ بندوں کے اعمال اللہ رب العزت کے بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں ؛ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ: میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال اللہ کے حضور پیش ہوں تو میں روزے کی حالت میں رہوں، یہ بات حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے۔
نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے کی ممانعت
ان احادیث سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے تقریباً پورے مہینے روزہ رکھتے تھے، دوسرے مہینوں کے مقابلے میں اس مہینہ میں زیادہ اہتمام کیا کرتے تھے، لیکن چوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت پر بڑے شفیق و رحیم ہیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو بتایا کہ تم میری برابری نہیں کرسکتے، مجھے تم سے زیادہ طاقت دی گئی ہے، مجھے روحانی غذا ملتی رہتی ہے (یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِیْ) کہ مجھے میرے پروردگار کھلاتے ہیں پلاتے ہیں چناں چہ فرمایا اذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلاَ تَصُوْمُوْا (ترمذی) جب شعبان کا نصف مہینہ گذر جائے تو روزہ نہ رکھو۔
اس لیے تم نصف شعبان تک روزہ رکھ سکتے ہو اس کے بعدجب نصف شعبان آجائےتو روزہ رکھنا بند کردو تاکہ رمضان المبارک کے فرض روزے رکھنے میں ضعف و نقاہت محسوس نہ ہو بلکہ نئی نَشاط و چستی کے ساتھ اور حشاش بشاش حالت میں روزہ رکھنے کا اہتمام ہوسکے
ماہ شعبان اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا عمل
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شعبان کا چاند دیکھ کر قران کریم کی تلاوت میں اضافہ فرماتے مسلمان اپنے مال سے زکوۃ بھی نکالا کرتے تاکہ غریب اور مسکین لوگ فائدہ اٹھا سکیں اور ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے لیے ان کا کوئی وسیلہ بن جائے اور ماہ رمضان کا چاند نظر اتے ہی غسل کرتے اور اعتکاف میں بیٹھ جاتے (غنیۃ الطالبین)
ماہ شعبان المعظم اور شب برات
ماہ شعبان کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس ماہ کے پندرہویں تاریخ میں ایک رحمتوں اور برکتوں والی مبارک رات آتی ہے جسے شب برات کہتے ہیں اس رات کی فضیلت متعدد احادیث سے ثابت ہے
شب کے معنی رات کے آتے ہیں اور برأت کے معنی خلاصی اور چھٹکارے کے آتے ہیں اس رات کو شب برات اس لیے کہتے ہیں کہ اس رات میں بے شمار بندوں کی بخشش اور جہنم سے خلاصی کے فیصلے ہوتے ہیں
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللّہ فرماتے ہیں جس طرح روئے زمین پر مسلمانوں کی دو عیدیں ہیں اسی طرح اسمان پر فرشتوں کی بھی دو عیدیں ہیں مسلمانوں کے عیدیں عید الفطر (یکم شوال) اور عید الاضحی دس ڈی الحجہ ) کے دن ہوتی ہیں اور فرشتوں کی عیدیں شب برات اور شب قدر ہوتی ہیں فرشتوں کی عیدیں رات میں اس لیے ہوتی ہیں کہ وہ سوتے نہیں مسلمان چونکہ سوتے ہیں اس لیے ان کی عیدیں دن میں ہوتی ہیں ( غنیۃ الطالبین)
شب برات راتوں میں سے ہے جن میں دعا قبول ہوتی
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں
خَمْسُ لَیَالٍ لَا یُرَدُّ فِیهِنَّ الدُّعَائُ: لَیْلَةُ الْجُمُعَۃِ، وَأَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَلَیْلَةُ الْعِیْدِ وَلَیْلَةُ النَّحْرِ.( شعب الإیمان )
پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں ہوتی: جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات، عید الفطر کی رات اور عید الاضحی کی رات۔
شب برأت کی فضیلت واہمیت
احادیث مبارکہ میں اس رات کا کوئ مخصوص نام نہیں ہے صرف لیلۃ النصف من شعبان کہا گیا لیکن قرآن مجید کی ایک آیت میں بعض مفسرین کے خیال کے مطابق اسے لیلۃ مبارکہ بھی کہا گیا
جیسا کہ سورہ دخان میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ
ترجمہ: کہ ہم نے اسے ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔(کیونکہ) ہم لوگوں کو خبردار کرنے والے تھے۔
اس آیت جمہور مفسرین کے مطابق لیلتہ مبارکہ سے شب قدر ہی مراد ہے لیکن حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ اور مفسرین کی ایک جماعت کا خیال ہے یہ آیت شب برات کے متعلق نازل ہوئی کیونکہ اس کے بعد کی آیت میں شب برات میں پیش آنے والے اعمال کا تذکرہ ملتا ہے فِیۡہَا یُفۡرَقُ کُلُّ اَمۡرٍ حَکِیۡمٍ (سورہ دخان)
ترجمہ: اسی رات میں ہر حکیمانہ معاملہ ہمارے حکم سے طے کیا جاتا ہے۔
اس تفسیر کے مطابق علماء نے لکھا ہے کہ نزول قرآنی سے مراد حقیقتا نزول قرآن نہیں بلکہ نزول قران کا فیصلہ مراد ہے کہ اس مبارک رات میں ہم نے قران کو نازل کرنے کا فیصلہ کر دیا تھا پھر نزول حقیقی شب قدر میں ہوا شب برأت میں امور محکمہ کے فیصلے ہوا کرتے ہیں اس لیے ظاہر ہے شب برأت میں اس کا بھی فیصلہ کیا گیا ہوگا کیونکہ قرآن شریف کے نازل کرنے سے بڑا امر محکم اور کون سا ہو سکتا ہے
کیونکہ عادتا ہر فیصلے کے دو مرتبے ہوتے ہیں ایک تجویز کا اور ایک نفاذ کا یہاں بھی دو مرتبے ہو سکتے ہیں کہ تجویز تو شب برات میں ہوئ ہو اور نفاذ لیلۃ القدر میں ہوا غرض آیت میں لیلۃ مبارکہ سے جو بھی مراد ہو لیکن احادیث سے تو اس رات کا بابرکت ہونا معلوم ہوتا ہے (مسائل شب برأت)
شب برأت اللہ کے حضور درخواست پیش کرنے کی رات ہے
شب برات کی خصوصیت یہ ہے کہ اس رات مغرب کے بعد ہی سے حق سبحانہ و تعالی کی تجلیات و توجہات کا آسمان دنیا پر نزول ہوتا ہے اور اعلان عام ہوتا ہے کہ کیا کوئی ہے استغفار کرنے والا کیا کوئی ہے رزق کا چاہنے والا کیا کوئی ہے مصیبت زدہ کہ میں ان کے مسائل کو حل کر سکوں
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ’’جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو اس رات میں قیام کرو اوراس دن روزہ رکھو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ غروبِ آفتاب کے وقت سے آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور یہ نداء لگاتے ہیں : کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کی مغفرت کروں؟ کیا کوئی رزق کا متلاشی ہے کہ میں اسے رزق عطا کروں ؟ کیا کوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اس کی مصیبت دور کروں؟ کیا کوئی ایسا ہے؟ کیا کوئی ایسا ہے؟ حتیٰ کہ صبح صادق کا وقت ہوجاتا ہے۔‘‘ ( ابن ماجہ)
نیز اللہ تعالی اس رات میں بندوں کی بے حساب مغفرت فرماتے ہیں
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آرام گاہ میں نہ پایا تو میں (آپ کی تلاش میں) باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ جنت البقیع یعنی قبرستان میں موجود ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ڈر رہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟“ میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! میرا گمان تھا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے ہاں گئے ہوں گے۔ آپ نے مجھ سےفرمایا: آج شعبان کی پندرہویں رات ہے اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی سےتعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں(ترمذی)
شب برأت موت وحیات کے فیصلے کی رات ہے
أم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے اس رات یعنی شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (مجھے تو نہیں معلوم آپ ہی بتائیے) کہ کیا ہوتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس رات میں اس سال پیداہونے والے ہربچے کانام لکھ دیاجاتاہے ،اس رات میں اس سال مرنے والے ہرآدمی کانام لکھ دیاجاتاہے،اس رات میں تمہارے اعمال اٹھائے جاتے ہیں،اورتمہارارزق اتاراجاتاہے۔(مسائل شب برأت بحوالہ رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر)
الغرض مذکورہ احادیث سے شب برات کی فضیلت و اہمیت واضح ہو جاتی ہے اس کے علاوہ اس رات کی فضیلت اور اہمیت کے بارے میں بے شمار احادیث موجود ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین کا اس رات میں اہتمام کے ساتھ عبادت کرنے کا معمول رہا ہے
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہ فرماتے ہیں کہ”واقعہ یہ ہے کہ شب براء ت کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ،حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے احادیث مروی ہیں، جن میں اس رات کی فضیلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے“(اصلاحی خطبات )
شب برأت میں کرنے کے صرف تین کام
ان احادیثِ کریمہ اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اوربزرگانِ دین رحمہم اللہ کے عمل سے اس رات میں تین کام کرنا ثابت ہے:
پہلا کام یہ ہےکہ قبرستان جاکر مردوں کے لیے ایصالِ ثواب اور مغفرت کی دعا کی جائے، لیکن یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساری حیاتِ مبارکہ میں صرف ایک مرتبہ شبِ برأت میں جنت البقیع جاناثابت ہے؛ اس لیے اگرکوئی شخص زندگی میں ایک مرتبہ بھی اتباعِ سنت کی نیت سے چلاجائے تو سنت ادا ہو جائے گی لیکن پھول پتیاں،چادر چڑھاوے،اور چراغاں کااہتمام کرنا اور ہرسال جانے کولازم سمجھنا،اس کو شب برأت کے ارکان میں داخل کرنا درست نہیں ہے۔جو چیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس درجے میں ثابت ہے اس کواسی درجہ میں رکھناچاہیے، اس کانام اتباع اوردین ہے۔
دوسرا کام اس رات میں یہ ہے کہ نوافل تلاوت اور ذکر اللہ کا اہتمام کرے اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نفل ایک ایسی عبادت ہے جس میں تنہائی مطلوب ہے، یہ خلوت کی عبادت ہے، نوافل کی جماعت کرنا اور عبادت کا مخصوص طریقہ اختیار کرنا درست نہیں ہے۔
3- دن میں روزہ رکھنابھی مستحب ہے، ایک تواس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اوردوسرایہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہرماہ ایام بیض(13.14.15) کے روزوں کااہتمام فرماتے تھے،لہذااس نیت سے روزہ رکھاجائے توموجب اجروثوب ہوگا۔
شب براء ت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم افراد
(۱)مسلمانوں سے کینہ،بغض رکھنے والا۔(۲)شرک کرنے والا۔(۳)ناحق قتل کرنے والا۔(۴)زنا کرنے والے۔(۵)قطع تعلقی کرنے والا۔(۶)ازار(شلوار،تہبند وغیرہ) ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا۔(٧)والدین کا نافرمان۔(۸)شراب پینے والا۔
بس اس رات میں انہی مذکورہ اعمال کی انجام دہی کا احادیث میں ثبوت ملتا ہے اس کے علاوہ اس رات میں ہونے والی ہر چیز خرافات اور بدعات میں سے ہے اس سے احتراز ضروری اور لازم ہے ورنہ نیکی برباد اور گنا لازم آجائے کا اور اس رات میں بھی یہ کام اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب بنیں گے
