جاوید جمال الدین
مہاراشٹر میں 5 فیصد مسلم تعلیمی ریزرویشن کی باضابطہ منسوخی نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا ملک میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے تئیں پالیسی سازی کا رخ بدل چکا ہے؟ کیا یہ محض ایک انتظامی فیصلہ ہے یا ایک وسیع تر سیاسی بیانیے کا حصہ؟ موجودہ حالات کا غیر جانب دارانہ تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ مختلف ریاستوں میں رونما ہونے والے واقعات کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک وسیع تر پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
مہاراشٹر: ایک ادھورا وعدہ
مہاراشٹر میں 2014ء میں کانگریس۔این سی پی حکومت نے مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کو 5 فیصد ریزرویشن دینے کے لیے آرڈیننس جاری کیا تھا۔ یہ فیصلہ بنیادی طور پر سچر کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا تھا، جس میں مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی کو اعداد و شمار کے ساتھ واضح کیا گیا تھا۔
بعد ازاں یہ معاملہ عدالت میں چیلنج ہوا اور بامبے ہائی کورٹ نے ملازمتوں میں ریزرویشن کو مسترد کرتے ہوئے صرف تعلیمی شعبے میں 5 فیصد ریزرویشن برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ تعلیمی سال 2014-15 میں اس پر جزوی عمل بھی ہوا، مگر اسی دوران ریاستی انتخابات کا اعلان ہو گیا اور ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کی وجہ سے باقاعدہ جی آر جاری نہ ہو سکا۔
اقتدار کی تبدیلی کے بعد 2014ء میں شیوسینا۔بی جے پی حکومت نے اس فیصلے پر عملی پیش رفت نہیں کی۔ اب موجودہ حکومت، جس کی قیادت دیویندر فڈنویس کر رہے ہیں، نے اس آرڈیننس کو باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا ہے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر محمد عارف نسیم خان نے اسے اقلیتی برادری کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر ابو عاصم اعظمی اور ایم آئی ایم کے لیڈر امتیاز جلیل نے بھی اس فیصلے کو سیاسی بدنیتی سے تعبیر کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر عدالت نے تعلیمی شعبے میں ریزرویشن کو برقرار رکھا تھا تو اسے قانونی شکل کیوں نہ دی گئی؟ اور اگر حکومت کو اس پر اعتراض تھا تو متبادل پالیسی کیا پیش کی گئی؟
آسام: شہریت اور زمین کا مسئلہ
آسام میں گزشتہ برسوں میں شہریت سے متعلق اقدامات، این آر سی کی مشق اور زمین سے متعلق کارروائیوں نے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کی۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ سب غیر قانونی قبضوں اور غیر قانونی شہریت کے خلاف کارروائی ہے، مگر ناقدین کے مطابق اس کا اثر زیادہ تر ایک مخصوص طبقے پر پڑا ہے۔
یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ پالیسیوں کا اطلاق یکساں نہیں بلکہ مخصوص سماجی گروہوں پر زیادہ سختی سے کیا جا رہا ہے۔
اترپردیش: بلڈوزر اور مدرسے
اترپردیش میں بلڈوزر کارروائیاں، مدرسوں کی جانچ، اور مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات بارہا خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ حکومت انہیں قانون کی عملداری اور نظم و ضبط کا حصہ قرار دیتی ہے، مگر اپوزیشن اور انسانی حقوق کے حلقے اسے امتیازی طرزِ عمل کہتے ہیں۔
ریاستی بیانیہ اور زمینی احساس کے درمیان یہی فاصلہ سماجی ہم آہنگی کیلئے سب سے بڑا چیلنج بن رہا ہے۔
اتراکھنڈ اور یکساں سول کوڈ
اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی سمت پیش رفت کو حکومت اصلاحی قدم قرار دیتی ہے، جبکہ بعض مذہبی حلقے اسے اپنے شخصی قوانین میں مداخلت تصور کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سماجی اصلاحات مکالمے کے ذریعے ہوں گی یا اکثریتی قوت کے زور پر؟
مدھیہ پردیش: قانون یا سیاست؟
مدھیہ پردیش میں بھی بلڈوزر سیاست اور تبدیلیٔ مذہب سے متعلق قوانین نے ماحول کو حساس بنایا ہے۔ قانونی کارروائیوں کی شفافیت اور غیر جانبداری ہی اس بحث کا مرکزی نکتہ ہے۔ اگر قانون سب کیلئے برابر ہے تو اس کا نفاذ بھی یکساں نظر آنا چاہئے۔
معاشی بنیاد یا مذہبی شناخت؟
مسلم ریزرویشن کے مسئلے نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا ریزرویشن مذہبی بنیاد پر ہونا چاہئے یا سماجی و معاشی پسماندگی کی بنیاد پر؟
حقیقت یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 15(4) اور 16(4) ریاست کو سماجی و تعلیمی لحاظ سے پسماندہ طبقات کیلئے خصوصی انتظامات کا اختیار دیتے ہیں۔ اگر کسی برادری کے اندر مخصوص طبقات واقعی پسماندہ ہیں تو ان کیلئے ذیلی درجہ بندی کے ذریعے سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔
یہاں اصل کمی سیاسی عزم کی محسوس ہوتی ہے۔ کانگریس۔این سی پی حکومت نے آرڈیننس تو جاری کیا، مگر اسے اسمبلی میں مکمل قانونی تحفظ نہ دے سکی۔ بعد کی حکومت نے اسے آگے بڑھانے کے بجائے خاموشی اختیار کی اور اب باضابطہ منسوخی کر دی۔
نفرت کے بیانیے کے درمیان امید کی کرن
ملک کے مختلف حصوں میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں مسلمانوں کے کاروبار کا بائیکاٹ کرنے کی اپیلیں کی گئیں، یا پھیری والوں کو بعض علاقوں میں جانے سے روکا گیا۔ سوشل میڈیا نے ان واقعات کو اور زیادہ نمایاں کیا ہے۔
لیکن اسی ماحول میں اترکھنڈ میں دیپک کمار کو ایک مسلمان کی حمایت کرتے ہوئے سینی تان کردیکھا جاسکتا ہے،وہیں ہریانہ کا وہ واقعہ امید کی کرن بن کر سامنے آتا ہے جہاں ایک مسلمان کباڑوالے حاجی اختر خان کو بھنگار میں سونے کے زیورات ملے تو انہوں نے ایمانداری سے پولیس کے حوالے کر دیے۔ شرما خاندان نے جب زیورات واپس پائے تو جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ زمینی سطح پر سماج کی اکثریت اب بھی باہمی اعتماد اور انسانیت کو ترجیح دیتی ہے۔ سیاست کی تلخی کے باوجود عوامی سطح پر رشتے قائم ہیں۔
گنگا جمنی تہذیب کا امتحان
ہندوستان کی شناخت اس کی تکثیریت اور گنگا جمنی تہذیب رہی ہے۔ موجودہ دور میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ کیا یہ ہم آہنگی برقرار رہ پائے گی؟
ریاستی پالیسیوں میں شفافیت، عدالتوں کے فیصلوں پر عمل، اور سماجی مکالمہ ہی وہ ستون ہیں جو جمہوریت کو مضبوط رکھتے ہیں۔ اگر کسی طبقے میں مسلسل احساسِ محرومی پیدا ہو تو اس کا اثر قومی یکجہتی پر بھی پڑتا ہے۔
آگے کا راستہ
1. ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی: تازہ سماجی و معاشی سروے کے ذریعے حقیقی پسماندہ طبقات کی نشاندہی کی جائے۔
2. قانونی استحکام: کسی بھی ریزرویشن کو عدالت میں برقرار رکھنے کیلئے مضبوط قانونی بنیاد فراہم کی جائے۔
3. سیاسی سنجیدگی: انتخابی وعدوں اور وقتی اعلانات کے بجائے مستقل اور منصفانہ حکمت عملی اپنائی جائے۔
4. سماجی ہم آہنگی کی ترویج: نفرت انگیز بیانات اور بائیکاٹ کی سیاست کے بجائے مکالمے اور اعتماد کو فروغ دیا جائے۔
مہاراشٹر میں مسلم تعلیمی ریزرویشن کی منسوخی ایک علامتی قدم ضرور ہے، مگر اس کے اثرات وسیع ہیں۔ یہ فیصلہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ ہندوستان میں سماجی انصاف کا تصور کس سمت جا رہا ہے۔
اگر پالیسیوں کا مقصد واقعی پسماندگی کا خاتمہ ہے تو انہیں شفاف اور غیر جانبدار ہونا ہوگا۔ اگر مقصد سیاسی فائدہ ہے تو اس کا خمیازہ سماجی ہم آہنگی کو بھگتنا پڑے گا۔
ہندوستان کی اصل طاقت اس کی تنوع میں وحدت ہے۔ جب تک شرما خاندان اور حاجی اختر خان جیسے لوگ موجود ہیں، نفرت کی دیواریں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ لیکن اس انسانی سرمائے کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ریاستی فیصلے انصاف، آئینی اصولوں اور سماجی ہم آہنگی کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔ یہی راستہ ملک کو تقسیم کے خطرے سے بچا سکتا ہے اور جمہوریت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
